کراچی اور کوئٹہ کے سفر کو دو گروپوں کی باہمی لڑائی نے مسافروں کے لئے مشکل اور خطرناک بنا دیا

انتہائی باخبرذرائع نے منگوچر کے مقام سے سدا بہار کوچ کمپنی کے تین کوچز کو روکنے اور لے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ روز قبل لہڑی قبیلے کے لوگوں نے لانگو قبیلے کی کوچز کو کوئٹہ میں روک لیا تھا جس کے ردعمل میں لانگو قبیلے نے لہڑی قبیلے کے مذکورہ تین گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو اتار دیا ہے ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی کہ کوئی مسافر اغوا نہیں ہوا بلکہ یہ دو قبیلے کے ٹرانسپورٹروں کا باہمی تنازعے کے باعث واقع ہوا ہے اس میں کوئی مسافر اغوا نہیں ہوا بلکہ مسافروں کو اتار کر صرف کوچز کو لے جایا گیا ہے جو کہ آپسی تنازعہ کا ردعمل ہے اسکے علاوہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس سے کسی کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔ ترجمان لہڑی ہاوس نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آج لہڑی قبیلے نے کسی بھی قبیلے کی گاڑیوں کو نہیں روکا ہے اور نہ ہی ہمارا کسی سے کاروباری لین دین کا مسئلہ ہے۔



حسبِ معمول لہڑی قبیلے کے تمام اقوام اپنے کام میں مصروف تھے شام کو ٹرمینل سے گاڑیاں اپنے اپنے شیڈول کے مطابق کراچی کے لئے روانہ ہوئے تھے اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ہم اپنے گاڑیوں کو ٹرمینل سے جانے نہیں دیتے اور بلوچی رسم و رواج کے مطابق اپنا مسئلہ حل کرتے جب گاڑیاں منگچر پہنچے تو نامعلوم مسلح افراد نے ڈرائیوروں کو زدگوب کر کے گاڑیوں  سے نیچے اُترنے کو کہا جب ڈرائیوروں نے انکار کیا تو بندوق کی زور پر گاڑیاں لے جانے کو کہا ہم وزیر اعلیٰ بلوچستان آئی جی ایف سی سدرن کمانڈ سے اپیل کرتے ہیں کہ گاڑیوں کو مسافروں سمیت اغوا کاروں سے بازیاب کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔