بلوچستان کا مری خاندان … روایتی سیاست سے لے کر بلوچ لبریشن آرمی کی تشکیل تک … چونکا دینے والے واقعات … چوتھی قسط

حربیار مری برطانیہ میں کیسے گرفتار ہوا ؟
حکومت پاکستان سے ناراض بلوچ قوم پرست رہنما حربیار مری ،مرحوم خیر بخش مری کا بیٹا ہے بی ایل اے کی کمان اس وقت اس کے ہاتھ میں ہے وہ تیرہ جنوری انیس سو اڑسٹھ کو کوئٹہ میں پیدا ہوا انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ اور پھر افغانستان چلا گیا ابتدائی تعلیم پاکستان اور پھر کابل افغانستان میں حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم کے لیے رشیا چلا گیا ۔
انیس سو بانوے میں حربیار مری پاکستان واپس آیا تب اس کے والد نواب خیر بخش مری کافی برگ ہو چکے تھے سیاست میں آنے والے دنوں کی ذمہ داریاں حربیار مری کو سونپ دی گئی ۔انیس سو چھیانوے میں آر بی آر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا اور اسے صوبے کا وزیر تعلیم بنایا گیا ۔سال 2000 میں بلوچستان پولیس نے جب اس کے والد کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نواز مری کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا تو حربیار مری برطانیہ چلا گیا ۔



پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق حربیار مری بلوچستان لبریشن آرمی کا لیڈر بن گیا جس سے پاکستان اور برطانیہ میں ایک دہشت گرد تنظیم g بری کردیا 2011 میں برطانوی حکومت نے اسے سیاسی بنیاد پر پناہ دے دی۔
2017 میں حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا تھا کے پاکستان میں دہشتگردی کرنے کے الزامات کے تحت بیرون ملک بیٹھے ہوئے بلوچ قوم پرست رہنماؤں کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرایا جائے ۔ان میں بی ایل اے کے سربراہ کے طور پر حربیار مری اور بی آر اے ۔بلوچ ریپبلکن آرمی کے سربراہ کے طور پر براہمداغ بگٹی کے نام میڈیا میں آئے تھے ۔براہمداغ بگٹی کے بارے میں یہ خبریں بھی تھیں کے اس نے سوئٹزرلینڈ کی جانب سے پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد بھارت میں سیاسی پناہ لینے کی درخواست کی تھی ۔



بی ایل اے اور بی آر اے 2004 کے بعد سے بلوچستان کے حالات میں خرابی پیدا کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے گروپوں میں نمایاں رہے انتہائی محدود پیمانے پر خراب ہونے والے حالات کی بنیادی وجہ نواب اکبر بگٹی کی 2006 میں ہونے والے ایک آپریشن میں علاقہ تھی براہمداغ بگٹی اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے دشمن قوتوں کے ساتھ مل گیا ۔
جنیوا میں یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کونسل کے ایک اجلاس کے موقع پر فری بلوچستان کے جو پوسٹرز آویزاں کیے گئے اس کے بارے میں رپورٹ کیا گیا کہ وہ درحقیقت بی ایل اے کا کام تھا جس کے بعد حکومت پاکستان نے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں بتایا جا سکے کہ حربیار مری براہمداغ بگٹی اور دیگر بلوچ علیحدگی پسند دراصل پاکستان میں ریاست مخالف سرگرمیوں کو ہوا دے رہے ہیں اور اس میں ملوث ہیں لہذا ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا کہ انہوں نے جو جرائم کیے ہیں ان کی سزا مل سکے ۔


بلوچستان حکومت کی جانب سے ایک سے زائد مرتبہ یہ پیشکش اور دعوت دی گئی کہ جو لوگ ملک چھوڑ کر باہر بیٹھے ہیں وہ واپس آجائیں جن لوگوں نے پہاڑوں سے اتر کر ہتھیار ڈالے ان کو پھول پیش کیے گئے اور ان کو معافی دی گئی اور ان کو قومی دھارے میں لانے کے اقدامات کیے گئے جن لوگوں نے بندوق کی زبان میں بات کرنے کی کوشش کی ان کو اسی زبان میں سبق بھی سکھایا گیا حکومت پاکستان اور بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بلوچستان میں امن پروگرام کو آگے بڑھایا اور اس کے تحت لوگوں کی مالی مدد کرنے کی حد دس لاکھ روپے تک بڑھا دی گئیں اس پالیسی اور اقدام کی وجہ سے سینکڑوں مسئلہ بلوچوں نے پہاڑوں سے اتر کر بغاوت ختم کردیں اور اس وعدے اور یقین دہانی پر واپس قومی دھارے میں شامل کرلیے گئے کہ آئندہ وہ تشدد اور مسلح کارروائیوں کا حصہ نہیں بنیں گے ۔                                               ……(جاری ہے )