موجودہ وفاقی بجٹ عوامی نہیں بلکہ عوام دشمن بجٹ ہے، یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف بحثیت ایک سیاسی جماعت سب سے بڑی کرپٹ جماعت ہے اور یہ ہم نہیں بلکہ ان کے اپنے انٹرا پارٹی الیکشن کے لئے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ نے کہا ہے۔ عمران خان اس وقت ملک کا سب سے بڑا معاشی دہشتگرد ہے۔ کمیشن ضرور بنایا جائے لیکن 10 سال نہیں بلکہ گذشتہ 25 سے 30 سال کے حوالے سے بنایا جائے تاکہ اس ملک میں آمروں نے کیا کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے آجائے۔ موجودہ وفاقی بجٹ عوامی نہیں بلکہ عوام دشمن بجٹ ہے اور یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سندھ اسمبلی باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔



اس موقع پر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ اور مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ عمران نیازی ہو یا ان کے حواری ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل (ن) کی حکومتوں نے کرپشن کی لیکن تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو بطور سیاسی جماعت پوری کرپٹ ہے اور یہ بات ہم نہیں بلکہ خود ان کی پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد جسٹس (ر) وجہہ الدین حیدرکی سربراہی میں بننے والے کمیشن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں پرویز خٹک، عارف علوی اور دیگر نے بے دریغ پیسے کا استعمال کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پارٹی کے لئے اکٹھا کیا گیا چندے کا بھی 5 سال سے الیکشن کمیشن میں جاری کیس پر ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب عمران خان نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ایمنسٹی چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے ہوتی ہے اور آج وہ خود 30 جون تک ایمنسٹی لینے کا اعلان کررہے ہیں، جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ ایمنسٹی تحریک انصاف میں شامل چوروں اور ڈاکوؤں کو راستہ دینے کے لئے ہے۔ وفاقی بجٹ کے سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ یہ بجٹ پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔ یہ بجٹ عوامی بجٹ نہیں بلکہ عوام دشمن بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں عمران نیازی کے تمام تر دعوؤں کے برعکس وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ گذشتہ نون لیگ کی حکومت نے سب سے زیادہ 540 ارب روپے پر ٹیکس پر چھوٹ دی تھی لیکن عمران نیازی کے آئی ایم ایف بجٹ میں 972 ارب روپے پر ٹیکس چھوٹ دے دی ہے۔ انکوائری کمیشن بنانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ کمیشن پچھلے 10 سال نہیں بلکہ 25 سے 30 سال کے لئے کمیشن بننا چاہیے تاکہ گذشتہ ادوار نے آمروں کے دور میں جو کچھ ہوا وہ بھی سامنے آجائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی عمران نیازی کی تحریک انصاف میں 70 فیصد ارکان ایسے ہیں، جن کا پیپلز پارٹی یا نون لیگ سے تعلق رہا ہے اور اس میں سرفہرست حفیظ شیخ بھی ہے۔ ایچ آئی وی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ وزیر صحت سندھ نے نہ صرف اس ایشو کو تسلیم کیا اور اس کے اعداد و شمار بھی سب کے سامنے لائی ہیں اور اس کے لئے کی جانے والی اسکریننگ پر بھی تمام لوگوں کو آگاہ کیا ہے لیکن پنجاب کے 5 شہروں میں حالیہ رپورٹ کے مطابق 28 سے زائد افراد میں اس بیماری  کی رپورٹ  سامنے آئی ہے اور وہاں کی حکومت نے ابھی تک اعداد و شمار سب کے سامنے لانے سے گریز کیا ہے۔ ہم اس پر خوش نہیں ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عوام کا علاج ہونا چاہیے اور وہاں بھی اسکریننگ شروع ہونا چاہیے۔