بجٹ 2019-20پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے حکومت کے دعوے غلط ہیں، احتساب صرف دس سالوں کا نہیں آمروں کے دور کا بھی کیا جائے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

کراچی  –  وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برا ئے اطلا عا ت قا نو ن و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مر تضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں اشیاءخوردونوش سے لیکرہرچیزپرقیمتیں بڑھادی گئی ہیں بڑے بڑے دعوے کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا ہے۔ وہ سندھ اسمبلی میں میڈیاکارنرپر پریس کانفرنس کررہے تھے ان کے ہمراہ سیدناصرحسین شاہ، سعیدغنی اور سید ذوالفقار شاہ بھی موجود تھے، مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ عوام کو کسی بھی چیزپرسبسڈی نہیں دی گئی اب ماہانہ پچاس ہزار روپے آمدن پربھی ٹیکس لاگوکردیا گیا ہے۔عوام دشمن بجٹ پرجب قومی اسمبلی میں تنقیدکی توعمران خان نے اشاروں سے کام لیاقوم سے خطاب میں عمران خان کی تقریرکومیوٹ کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ہم این آر او دینے والے نہیں ہم کہتے ہیں پاکستان پیپلزپارٹی کوکسی این آر او لینے کی ضرورت نہیں۔



لیکن ایمنسٹی اسکیم میں کس کواین آراو دینے کی کوشش کی گئی؟انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت نہ بڑھائی گئی ہو گیس سے لے کر کھانے پینے کی ا شیاءتک سب مہنگی کر دی گئی ہیں ریلیف دینے اور ماضی میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے خان صاحب نے سرکاری ملازمین پربھی پچاس ہزار پرٹیکس عائد کردیا ہے ماہانہ پچاس ہزارروپے کمانے والا کہا سے کرایہ بھرے گا اور گذر بسر کر پائے گابجٹ ہر طرح سے عوام دشمن اور چیخیں نکالنے والا بجٹ ہے بجٹ میں نان ٹیکس فائلرکوچھوٹ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کل بھی وزیر اعظم عوام کی چیخیں نکالنے سے باز نہیں آئے اور خطاب بھی کیاماضی میں ایک شخص نے پارلیمان پر مکے لہرائے تھے آج کہاں ہے وہ؟جب پارلیمان پر مکے لہرائے جائیں گے توملک کی کیا حیثیت بنے گی وزیر اعظم کا کل کا خطاب حیرت انگیز تھا جو لوگ قوم سے خطاب نہیں کرسکتے وہ ملک کو کیسے چلائیں گے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیر اعظم نے کمیشن بنانے کا اعلان کیا اور وہ دس سال کی جانچ پڑتال کریں گے لیکن کیا دس ماہ کی کارکردگی کی بھی جانچ پڑتال ہوگی؟



ہم کہتے ہیں انیس سوننانوے سے اب تک کی تحقیقات ہونی چاہیے پیپلزپارٹی ماضی کی طرح اب بھی سرخرو ہوگی انہوں نے کہا کہ عوام سڑکوں پراپنے حقوق کےلیے نکلیں گے ہم پارلیمان اور سڑکوں پرعوام دشمن پالیسیوں کوبے نقاب کریں گے وزیراعظم نے باربار کہا کہ این آر او کسی کو نہ دیں گے اور اپنی بہن کے لیئے این آر او تلاش کیاپیپلز پارٹی کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں آپ نے نان ٹیکس فائلرز کو جو چھوٹ دی ہے وہ کیا این آر او نہیں ؟یہ این آر او کس کو اور کس کی جائیداد کو چھوٹ دی گئی مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعظم سے خطاب نہیں ہوا جاتا وہ کمیشن کی کیا سربراہی کریں گے آپ نے اپنے دس ماہ میں جو تباہی کی ہے کیااس کی بھی تحقیقات کریں گے اگر تحقیقات کرنی ہے تو اپنے رفقاءکی بھی کریں کل یہ سب رفقاءنواز شریف کے دائیں بائیں بیٹھے تھے ان کے خلاف انکوائری سے شاید ان کی بھی چیخیں نکل جائیں انہوں نے کہا کہ عوام ہمارے لیئے نہیں اپنے لیے نکلے گی افطار ڈنر میں اپوزیشن کو مدعو کیا تھا اور عوام کے مسائل پر احتجاج اور حکمرانوں کے خلاف نکلنے کا فیصلہ کیا تھاہم زرداری صاحب کی گرفتاری سے قبل ہی نکلنے کا اعلان کرچکے تھے اپوزیشن کی اسٹریٹجی درست جارہی ہے وزیر اعظم اور کابینہ پریشان تھے اس لئے اشارے کئے جارہے تھے۔



انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کوئی اضافی ٹیکس نہ لگے مگر این ایف سی نہ ملے تو کام کیسے کئے جاسکتے ہیں132 ارب روپے کم دیئے گئے وفاق نے 162 ارب کراچی کو دینے کا وعدہ کیا مگر بجٹ میں پیسے کہاں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری پر الزام غلط ہیں ہم سرخرو ہونگے اکاﺅنٹس سے پیسے منقلی کے الزام غلط ہیں احتساب کرنا ہے تو علیمہ باجی کے پیسے کہاں سے آئے پیپلز پارٹی پر الزام لگا ئے جاتے ہیں تو بحیثیت حکومت لگتے ہیں مگر پی ٹی آئی تو بطور جماعت کرپٹ ہے صدر عارف علوی اور پرویز خٹک سمیت تمام رہنماﺅں نے اپنے الیکشن میں پیسے خرچ کئے اس جماعت نے عوام سے چندے لئے ان میں بھی کرپشن کی گئی یہ جماعت اور ان کے رہنماءبھی کرپٹ ہیں تو ان سے اچھائی کیا ہوگی یہ پی ٹی آئی کا نہیں آئی ایم ایف کا بجٹ ہے حکومت کے دعوے غلط ہیں وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ن لیگ نے جو ٹیکس چھوٹ دی وہ غلط تھی مگر انہوں نے تو اپنوں کو نوازنے کے لیئے اس میں بھی اضافہ کیا ان کو دوسروں پر الزام زیب نہیں دیتا دس سال کیوں پیچھے بھی جائیں شوکت عزیز اور حفیظ شیخ بھی رگڑے میں آئیں گے ہم تو خوش ہیں، احتساب کے لئے کمیشن صرف دس سال نہیں آمروں کے دور کا بھی کیا جائے۔