بحریہ ٹاون قانون توڑ کر اربوں روپے جرمانہ ادا کرنے کا عادی بن گیا

ہاؤسنگ کے شعبے میں پاکستان کا بڑا نام بحریہ ٹاؤن قانون توڑ کر اربوں روپے جرمانے کے طور پر ادا کرنے کا عادی مجرم ادارہ بن گیا ہے۔بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے پہلے کراچی میں 16 ہزار ایکڑ زمین کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے 460 ارب روپے دینے کی پیشکش کی۔عدالت نے ایک ہزار ارب سے شروع کرکے چھ سو ارب روپے دینے کی بات کی تھی بحریہ ٹاؤن شروع میں ڈھائی سو روپے دینے کے لئے تیار تھا جب عدالت نے اس کی پیش کش مسترد کی تو وہ 358 ارب روپے دینے پر آمادہ ہو گیا ڈپٹی سروے جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ سولہ ہزار آٹھ سو چھیانوے ایکڑ زمین بحریہ ٹاؤن کے پاس ہے حد بندی کے نشانات لگا دیے گئے ہیں 7040 ایکڑ نشان زدہ علاقے سے زیادہ ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب روپے دینے کی ہدایت کی تھی یہ رقم مجموعی طور پر سات سال کے عرصے میں دینی ہے جبکہ 25 ارب روپے کی ڈاؤن پیمنٹ 27 اگست 2019 تک کرنی ہے جبکہ ستمبر سے اہل تین سال کے دوران مزید 2 ا رب 25کروڑ روپے کی ماہانہ قسط ادا کی جائے گی اور تاخیر ہونے پر چار فیصد مارک ا پ لیا جائے گا۔



ابھی بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین کے عوض چار سو ساٹھ روپے کی ادائیگی کی تیاریوں میں مصروف ہے کہ ضلع راولپنڈی میں جنگل کی چھت ہزار کنال اراضی پر قائم کی گئی تجاوزات سے متعلق کیس میں قومی احتساب بیورو نیب کے نئے ریفرنس سے بچنے کے لیے بحریہ ٹاؤن نے 9 ارب روپے دینے کی پیشکش کر دی ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 مئی 2018 کو فیصلہ سنایا تھا کہ راولپنڈی میں جنگل کی اراضی جو شہر سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فراہم کی گئی ہے عدالت نے نیب کو حکم دیا تھا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔ایک موقع پر نیب 13 ارب روپے کی پیشکش بھی کر چکا تھا لیکن جب تجاوزات کو قانونی حیثیت دینے کے لیے فی کنال 15 لاکھ روپے کی بات ہوئی۔ پراپرٹی کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے نہ تو کراچی میں خسارے کا سودا کیا اور نہ ہی اب وہ راولپنڈی کے جنگل کی زمینوں کو ریگولرائز کرانے کے معاملے میں گھاٹے کا سودا کر رہا ہے بحریہ ٹاون کی انتظامیہ نے پاکستان جیسے ملک میں قانون کی کمزوریوں اور سرکاری زمین اور تجاوزات بنا کر اس کو ریگولرائز کرنے کے معاملات کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا گر سیکھ رکھا ہے بحریہ ٹاؤن کے زیادہ تر معاملات قانونی دائرے سے باہر سے ان کو قانونی دائرہ کے اندر جانے کے لیے اربوں روپے کے جرمانے یا سرکاری خزانے میں رقم جمع کرانے کے حوالے سے سیٹلمینٹ کہ معاملات سامنے آ رہے ہیں۔



لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا قانون سب کے لئے ایک جیسا ہے کہ آپ کوئی غریب سرکاری زمین پر قبضہ کر لے جاتے جاوداں قائم کر لے تو عدالت اور ریاستی ادارے اور حکومت اسی طرح پیش آئے گی جس طرح بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔
اس ملک میں جو شخص طاقتور ہے جو زیادہ بڑی اراضی پر قبضہ کر لے اور پھر اربوں روپے کی سالوں میں واپس کرنے کی یقین دہانی کرا دے وہ گرفتاری سے بھی بچ سکتا ہے نیب کے ریفرنس سے بھی اس کی جان چھوٹ سکتی ہے اور جو غریب سرچھپانے کے لیے کہیں جھونپڑی قائم کر لے یا سرکاری زمین پر کوئی کھوکھر لگا کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے روزی کمانے کی کوشش کرے اسے پولیس اور ریاستی ادارے ٹھنڈے مار کر نکال دیتے ہیں یا گرفتار کرلیتے ہیں اس کے خلاف مقدمہ بنا دیا جاتا ہے۔