عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی شکایات ملنے پر علاقے کے چیف انجنئیر، ایکس ای این اور متعلقہ والومین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، وزیر بلدیات سندھ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈسعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کے تمام اضلاع میں منصفانہ طور پر پانی کی تقسیم کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ آئندہ جن جن علاقوں سے عوامی شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی شکایات ملی اس علاقے کے چیف انجنئیر، ایکس ای این اور متعلقہ والو مین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اب کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ شہر بھر میں تمام حساس پمپنگ اسٹیشنوں کی فوری فہرست مرتب کی جائے تاکہ ان پر پولیس اور رینجرز کی مدد سے سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ آر او پلانٹس کی استدعات کو بڑھایا جائے اور جو آر او پلانٹس بند ہیں ان کو جلد سے جلد شروع کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اپنے دفتر میں واٹر بورڈ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے کیا۔



اجلاس میں ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان، تمام چیف انجنئیرز، ایکس ای اینز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے شہر میں جاری پانی کے بحران اور اس سلسلے میں عوام کی جانب سے بڑھتے ہوئے احتجاج پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایات دی کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لئے تمام اقدامات کو بروئے کار لایا جائے اور جس بھی علاقے سے پانی یا سیوریج کے حوالے سے کوئی شکایات موصول ہوتی ہے تو اس کے سدباب کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ صوبائی وزیر نے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں میں کراچی کے کم و بیش تمام علاقوں سے پانی کے حوالے سے شکایات بڑھتی جارہی ہیں لیکن ان شکایتوں کے ازالے کے لئے کسی قسم کے کوئی اقدامات عوام کو نظر نہیں آرہے ہیں اسی لئے وہ احتجاج پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کسی قسم کی کوئی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور جن جن علاقوں میں شکایات کا ازالہ نہ ہونے کی شکایات ملی تو مذکورہ افسر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر افسران نے پانی کی منصفانہ تقسیم اور فراہمی میں درپیش مسائل بالخصوص پمپنگ اسٹیشنوں پر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج اور وہاں عملے کو یرغمال بنانے اور وہاں اپنی مرضی سے نظام کو چلانے کے لئے دباؤ سمیت دیگر سے صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ ایم سیاسی جماعت کے ایم پی ایز واٹر بورڈ کے جاری کردہ شیڈول کے برعکس اپنا ترسیلی نظام پمپنگ اسٹیشنوں پر چلانے لئے دباؤ ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں متعدد پمپنگ اسٹیشنوں سے شیڈول کے مطابق پانی کی ترسیل نہیں ہوتی اور شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے ایم ڈی واٹربورڈ کو ہدایات دی کہ وہ پمپنگ اسٹیشن جو حساس ہیں یا جہاں سے واٹر بورڈ کے عملے کو مشکلات کا سامنا ہے ان کی فہرست فوری طور پر مرتب کرکے انہیں دیں تاکہ وہ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ سے ان پمپنگ اسٹیشنوں کی سیکورٹی اور وہاں پولیس اور رینجرز کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں۔ انہوں نے واٹر بورڈ کے افسران کو ہدایات دی کہ وہ ایمانداری سے کام کریں اور کسی بھی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور جہاں انہیں کسی سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے اس کی فوری شکایات وہ انہیں دیں تاکہ ان کا سدباب کیا جاسکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم پانی پر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے تمام اضلاع میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے۔