52

بلوچستان کا مری خاندان … روایتی سیاست سے لے کر بلوچ لبریشن آرمی کی تشکیل تک … چونکا دینے والے واقعات … تیسری قسط

بالاچ مری کو کس نے مارا؟
میر بالاچ مری ‘ بلوچستان لبریشن آرمی کا لیڈر تھا اس کی سربراہی میں بی ایل اے نے غیر ملکی اشاروں فنڈنگ تربیت اور ہتھیاروں کی مدد سے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف مسلح لڑائی شروع کی ۔وہ پاکستان سے بھاگ کر افغانستان چلا گیا تھا جہاں 21 نومبر 2007 کو ایک حملے میں مارا گیا ۔
میر بالاچ مری بلوچستان کے مری قبیلے کے سربراہ نواب خیر بخش مری کا بیٹا تھا وہ چھ بیٹوں میں سے ایک تھا وہ سترہ جنوری انیس سو چھیاسٹھ سے پیدا ہوا اور 41 سال کی عمر میں پاکستان کے باغی کے طور پر افغانستان میں مارا گیا ۔



ابتدائی خبروں کے مطابق بالاچ مری افغانستان میں نیٹو NATO نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی اورگنائزیشن کے فضائی حملے میں مارا گیا تھا نیٹو نے اسے غلطی سے طالبان فائٹرز سمجھ کر حملہ کیا اور وہ مارا گیا لیکن ماما عبدالقدیر بلوچ نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ دعوی کیا کہ نواب خیر بخش مری کو بتایا گیا تھا کہ بالاچ مری کو دشمنوں نے نہیں بلکہ اس کے اپنے بھائی حربیار مری نے مروایا ہے اگر فضائی حملے میں بالاچ مری کو مارا جاتا تو کیا وہاں لڑنے والا وہ اکیلا شخص تھا وہ اکیلا کیوں مارا گیا اور لوگ کیوں نہیں مارے گئے یا زخمی کیوں نہیں ہوئے ؟لیکن حربیار مری کے ساتھ ہی ماما قدیر بلوچ کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے مری قبیلے کے دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہیں ۔میر بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بی ایل اے میں تقسیم پیدا ہوئی برطانیہ میں حربیار مری پر مقدمات اللہ اس کی گرفتاری ہوئی تو بی ایل اے کا کنٹرول مہران مری نے سنبھالا مہران مری سے بی ایل اے کے معاملات اچھی طرح نہ سنبھالے جا سکے اختلافات کی وجہ سے یونائیٹڈ بلوچ آرمی یو بی اے قائم ہوئی ۔مہران مری اور اس کے ساتھیوں پر تین ملین ڈالر کے فنڈز اور 800 ملین ڈالر مالیت کے ہتھیار بی ایل اے کے چوری کرنے کا الزام بھی سامنے آیا جس کی بنیاد پر یو بی اے یونائیٹڈ بلوچ آرمی کی لانچنگ ہوئی ۔میر بالاچ مری کی ہلاکت کے بعد بھی ایل اے مختلف علاقوں میں تقسیم اور کمزور ہوتی چلی چلی گئی۔                   ……(جاری ہے )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں