بلوچستان کا مری خاندان … روایتی سیاست سے لے کر بلوچ لبریشن آرمی کی تشکیل تک … چونکا دینے والے واقعات … دوسری قسط

پاکستان ایران اور افغانستان کے سرحدی صوبوں میں بلوچ قبائل صدیوں سے آباد ہیں ۔حملہ آوروں سے لڑائی اور اپنی آزادی اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کے حوالے سے بلوچ قبائل کی جدوجہد طویل اور سنہری تاریخ پر مبنی ہے ۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ ایران کے صوبہ سیستان اور بلوچستان اور افغانستان کے صوبے نمروز ۔ہلمند اور قندھار میں بلوچ قبائل کی بڑی آبادی موجود ہیں ۔
پاکستان میں بلوچستان صوبے کے شمال میں خیبر پختونخوا ۔۔مشرق میں سندھ اور پنجاب ۔مغرب میں ایران فارس کے علاقے ہیں ہیں جنوب میں ساحلی پٹی مکران کوسٹل ہے بحرے عرب ہے اور خلیج عمان ہے۔
تاریخی اعتبار سے بلوچ قبائل جن علاقوں میں آباد ہیں وہ انتظامی اعتبار سے اس وقت تین ملکوں کا حصہ ہیں پاکستان ایران اور افغانستان۔
بلوچوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان میں رہتی ہے اور بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔



بلوچستان کے مقامی باشندوں کے مطابق بلوچستان کی سب سے بڑی آبادی بلوچستان میں ہے اس کے بعد بڑی آوازیں ایران کے صوبوں میں ہے اور اس کے بعد ایک حصہ حصہ افغانستان کے بلوچ علاقوں میں ہے ۔ان کے مطابق قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور مسلح جدوجہد کی تاریخ کئی واقعات سے بھری پڑی ہے ۔مقامی بلوچ باشندوں کے مطابق ایسے واقعات سب سے پہلے انیس سو اڑتالیس۔پھر انیس سو اٹھاون انسٹھ ۔اس کے بعد انیس سو باسٹھ تریسٹھ ۔اور اس کے بعد انیس سو تہتر سے انیس سو ستترتک ۔اس کے بعد 2003 سے شروع ہونے والی مزاحمت تاحال جاری ہے ۔عام تاثر یہی ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد بلوچستان میں قوم پرستوں اور علیحدگی پسندوں کی جدوجہد میں تیزی آئی اور انہیں غیر ملکی امداد تربیت ملی اور اس کے پیچھے بھارت اور دیگر ممالک کی کھلی اور خفیہ حمایت فنڈنگ شامل ہے۔



1973 … میں کیا ہوا تھا ؟
سابق صدر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی لوگوں کا دعویٰ رہا ہے کہ انیس سو تہتر میں حکومت پاکستان نے عراق سے آنے والے ہتھیاروں سے بھرے ہوئے ایک جہاز کو پکڑا جو مبینہ طور پر بلوچستان میں مری قبیلے کے مسلح لوگوں کے لئے بھیجا گیا تھا۔مسٹر بھٹو نے بلوچستان کی حکومت ختم کردیں اور بلوچستان کو وفاقی حکومت کے کنٹرول میں لے لیا بلوچستان میں گورنمنٹ ایکشن ہوا اور مزاحمت کرنے والے لوگوں کو پہاڑوں پر ان کا پیچھا کر کے مارا گیا ہے۔مری قبیلے کے لوگ بڑی تعداد میں پہاڑوں پر چلے گئے اور انہوں نے حکومتی ایکشن کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا جسے قانون کی زبان میں بغاوت کا نام دیا جاتا ہے جب کہ ہتھیار اٹھا کر مسلح لڑائی کرنے والے لوگ اسے آزادی کی جدوجہد کا نام دیتے ہیں۔ایسی صورتحال میں ریاست اور لڑنے والے لوگوں کا بیانیہ ہمیشہ ایک دوسرے سے الٹ ہوتا ہے۔
انہی دنوں میر ہزار خان ر م خانی Mir Hazar Khan Ramkhani نئے بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ۔ حکومت پاکستان کو حالات پر قابو پانے میں تین سے چار سال کا عرصہ لگا ۔



بلوچستان کے مقامی باشندوں کے مطابق بلوچستان کے قبائل میں سب سے مضبوط اور طاقتور نام مری اور بگٹی قبیلوں کا آتا ہے انہیں قبیلوں نے اکٹھے ہو کر تاج برطانیہ کی افواج کا مقابلہ کیا ۔فرسٹ اینگلو افغان وار کے دوران مری اور بگٹی قبائل بہادری سے لڑے تھے ۔اٹھارہ سو چالیس میں جب کیپٹن لویس براؤن کو کا خان پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تو مری قبیلے کے سربراہ دوداخان کی سربراہی میں زبردست لڑائی نہیں گئی اور پانچ مہینے بعد انگریزوں کو شکست ہوئی ۔کسی طرح بگٹی قبائل نے سر چارلس نیپئر اور جنرل جون چیک کے دور میں ان کے لئے سخت مشکلات پیدا کیے رکھیں یہاں تک کہ اٹھارہ سو پینتالیس میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس سے خان آف قلات نے مالی معاونت فراہم کی ۔
       ……(جاری ہے )