وفاقی حکومت سندھ کو 130 بلین روپے جاری کردے تو حکومت سندھ کے لوگوں کوکچھ ریلیف دینے کے قابل ہوگی

کراچی –  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی منتقلیوں میں تقریباً 140 بلین روپے کے شارٹ فال کی وجہ سے صوبائی حکومت صوبے کے غریب لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے حوالےسے بڑی مشکل سے دوچار ہے۔انہوں نے یہ بات آج علامہ عباس کمیلی کی رہائش گاہ سولجر بازار میں سوگوار خاندان سے تعزیت کے فوراً بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ صوبائی وزراء سعید غنی، امتیاز شیخ اور ان کے معاون خصوصی راشد ربانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے جون میں ایک خط کے ذریعے سندھ حکومت کو بتایا کہ وہ رواں مالی سال کے دوران666بلین روپے دے گی مگر ہمیں(صوبائی حکومت) کو ابھی تک صرف 492 بلین روپے وصول ہوئے ہیں اور وفاقی حکومت نے اس ماہ کے آخر تک تقریباً 174 بلین روپے جاری کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج صبح محکمہ خزانہ کو ایک خط موصول ہوا۔



جس کے تحت 35بلین روپے مزید صوبائی حکومت کے حصے سے کٹوتی کرلیے گئے ہیں ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت سندھ کے لوگوں کوکچھ ریلیف دینے کے قابل ہوگی اگر وفاقی حکومت سندھ کو 130 بلین روپے جاری کردے۔انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی صورتحال صرف سندھ حکومت کے ساتھ ہی نہیں بلکہ دیگر صوبے بھی اسی قسم کی صورتحال کا شکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ گذشتہ 10 سالوں سے صوبائی حکومت کا بجٹ بنارہے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی اس طرح کی سنگین مالی صورتحال نہیں دیکھی جس میں بجٹ بنانا ایک ناقابل تسخیر کام بن جائے۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومتی بجٹ پر عمومی طورپر تنقید ہوتی ہے مگر اس مرتبہ وفاقی حکومت کو عوام کی جانب سے ناپسندیدگی کا سامنا ان کی اپنی نا اہلی کے باعث ہوگا کیونکہ یہ ریونیو جمع کرنے کے اہداف حاصل نہیں کرسکے اور انہوں نے ملک کے لوگوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے سے مکمل طورپر انکار کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وفاقی حکومت کا نہ تو کوئی ویژن ہے اور نہ ہی انہیں پاکستان کے غریب لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کا خیال ہے۔



ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ توقع کررہے تھے کہ وزیراعظم 10 جون کو قوم کے نام اپنے پیغام میں کوئی اچھی خبریں دیں گے مگر ان کے 5 منٹ کی ویڈیو ٹاک میں کچھ بھی مثبت نہیں تھا۔کے فور منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما خوامخواہ کا شور شرابا کررہے ہیں کہ صوبائی حکومت نے منصوبے کو تباہ کردیا۔ہاں! ہوسکتا ہے کہ میں نے یا کسی اورنے منصوبے کے ساتھ کچھ غلط کیا ہو مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ (وفاقی حکومت) کراچی کے لوگوں کو یہ منصوبہ ختم کرکے اتنی سخت سزا دیں۔ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حادثاتی طورپر پی ٹی آئی نے 2018 ء کے انتخابات میں چند سیٹیں جیتی ہیں، اگر دیکھا جائے تو ان کی عوام میں نہ تو جڑیں ہیں اور نہ ہی انہیں عوام میں اپنی جڑیں بنانے میں کوئی دلچسپی اور خیال ہے۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان سے پوچھیں کہ پی ٹی آئی نے ان کے روایتی حلقوں بالخصوص 90 کے علاقے سے کس طرح کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی میں کہنا چاہ رہاہوں کہ وہ حادثاتی طورپر اسمبلیوں میں آئے ہیں لہٰذا وہ اس شہر کی تعمیرو ترقی کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
قبل از یں مراد علی شاہ نے علامہ عباس کمیلی کی وفات پر ان کے بیٹے کاظم عباس کمیلی سے تعزیت کی اور مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔انہوں نے کہا کہ علامہ عباس کمیلی ایک عظیم انسان تھے اور انہوں نے ہمیشہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لیے کام کیا۔



ان کی وفات سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پُر کرنا بہت مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عباس کمیلی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ 
بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ میجر معیز شہید کی رہائش گاہ پر گئے جو کہ 7 جون کو جنوبی وزیرستان میں شہید ہوگئے تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے شہید میجر معیز کے والد مقصود بیگ سے تعزیت کی ۔اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قوم اور میجر معیز کے خاندان کو ان کی قربانی پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ قوم کے ہیرو کے طورپر یاد رکھےجائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ پولیس اور رینجرز کے جوانوں کے خاندانوں کو معاوضہ دیتی ہے جو کہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں شہید میجر معیز کے خاندان کو معاوضہ دینے کے لیےطریقے کار اور راستہ تلاش کروں گا۔