پاکستان اپنا نمک برآمد نہیں کرے گا تو یہ ملک میں پڑا پڑا خراب ہو جائے گا، تنویر اشرف

پاکستان میں کھیوڑہ سالٹ مائنزکے پروجیکٹ ڈائریکٹر تنویر اشرف نے کہا کہ انڈیا کو نمک کی درآمد بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ اگر پاکستان اپنا نمک برآمد نہیں کرے گا تو یہ ملک میں پڑا پڑا خراب ہو جائے گا۔ انہوں نے فواد چوہدری اور دیگر حکومتی اراکین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ناتجربہ کار لوگ ہیں جو بغیر تحقیق کے کوئی بھی بات کرتے ہیں اور انکوائریاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ ملک میں فیکٹریاں لگائے، لوگوں کی تربیت کرے اور کاروباری لوگوں کو قرضے دے تاکہ خام نمک یہاں پروسس ہو اور پھر پاکستان خود اسے ایکسپورٹ کرے مگر یہ سب کون کرے گا۔



بقول تنویر اشرف   ایک اندازے کے مطابق پاکستان انڈیا کو چار روپے 80 پیسے فی کلو کے حساب سے نمک فروخت کرتا ہے اور انڈیا یہ نمک یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں ساڑھے چار سے پانچ سو روپے میں فروخت کرتا ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انڈیا نمک کو پروسس کرنے پر بھی پیسے لگاتا ہے، وہاں فیکٹریاں ہیں، کاریگر ہیں۔ پاکستان میں کیا ہے؟ یہاں نہ انڈسٹری ہے اور نہ ہی ہنر مند لیبر۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کو بھی خام نمک برآمد کیا جاتا ہے، اگر ہم نے محنت کی ہوتی تو لوگ ہماری چیز سے پیسے نہ کماتے۔