افغان صدر کی پاکستان آمد اور اپوزیشن کی احتجاجی تحریک

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایسے موقع پر پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے جب پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مل کر احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے 27 جون کو پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دورے کی دعوت انہیں وزیراعظم عمران خان نے دی۔



افغان صدر اشرف غنی کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے یکم جون کو سعودی عرب میں ہونے والے وہ ای سی کے اجلاس میں انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا اور اب وہ ستائیس جون کو مختصر دورے پر پاکستان آئیں گے افغان صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے لیے کیے گئے مثبت اقدامات کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے دورہ پاکستان کے دوران دونوں رہنماؤں کے در میان سیکورٹی و معاشی امور پر تبادلہ خیال ہوگا دونوں ملکوں کے متعلق ادارے افغان صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اہم امور جن میں افغان مفاہمتی عمل پاک افغان سے گلٹی مسائل اور سرحدوں پر باڑ لگانے سے متعلق معاملات سمیت دیگر مسائل پر بات چیت کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔



دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی برطانیہ میں سات ہفتے کے قیام کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز پہلے ہی احتجاجی تحریک کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دے رہی ہیں ان کے ساتھ ساتھ وہاں بھی احتجاج میں آگے آگے نظر آ رہے ہیں چودہ جون کو ملک بھر میں وکلاء نے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے وہ کل کا احتجاج جنگجوؤں کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے جانے سے متعلق ہے وکلاء برادری نے حکومت کی بدنیتی قرار دے رہی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں جب آصف علی زرداری نے صدر پاکستان کا حلف اٹھایا تو حلف برداری کی تقریب میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کو بھی بلایا گیا تھا۔