ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے دعووٴں کے بلبلوں سے ہوا نکل چکی ہے، سریندر ولاسائی

کراچی – میڈیا سیل، بلاول ہاوَس کے انچارج و پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے خبردار کیا ہے کہ معاشی سروے 2018-19 نے سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان کے زیرِ سایہ ملکی معیشت کی ایسی بھیانک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد ہر اس فرد کے لئے ملک کی سیاسی و معاشی ساخت پر نظر رکھنا اولین ترجیح ہونی چاہیئے جو پاکستان کے درخشان مستقبل میں یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی سروے نے نشاندہی کی ہے کہ سال 2018-19 کے دوران پاکستان کا گروتھ ریٹ مقررہ حد 6.3 فیصد کے بجائے فقط 3.3 فیصد رہا،



جو اس عرصے کے دوران خطے کے دیگر ممالک افغانستان، نیپال، بھوٹان اور بنگلادیش سے بھی کم ہے۔ حتیٰ کہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا بھر میں غربت کی علامت کے طور پر جانا جانے والے افریقی ملک ایتھوپیا کی شرح نمو بھی پاکستان کے مقابلے میں تین گنا آگے رہی ہے۔ پی پی پی رکنِ سندھ اسمبلی نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے دعووٴں کے بلبلوں سے پہلے ہی ہوا نکل چکی ہے اور اب مذکورہ دعوے انسانی تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی فریب کاریوں اور دھوکوں کے مقابلے  میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ناامیدی کا تب تک خاتمہ نہیں ہوگا جب تک ملک میں جاری پتلی تماشہ اختتام پذیر نہیں ہوتا اور کٹھ پتلیوں کی بیٹریاں نکال لینی چاہئیں پیشتر اس کے کہ معاشی ابتری ان تمام لوگوں کو بھی گھیر لے، جو اب تک اس سے محفوظ رہے ہیں۔ سریندرولاسائی نے کہا کہ مرغبانی اور کٹو پالنے جیسے عمرانی معاشی ٹوٹکوں پر اب ملک کے ہر گلی محلے میں لوگ ہنس رہے ہیں،



کیونکہ 2018ع میں انتقالِ اقتدار لنگور کے ہاتھ میں استرے یا کٹھ پتلیوں کا ایسا تماشہ بن چکا ہے، جس کا مقصد ڈالر کو پنکھ لگاکر اور مہنگائی کو پمپ کرکے ملکی معیشت کو تباہ کرنا تھا، جبکہ یہ واضح ہے کہ اس تمام عمل کا فائدہ حکمرانوں کے درمیان موجود چند لوگوں کی جیبوں میں جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی چھت سے جا لگی ہے اور غربت لوئر مڈل کلاس تک پہنچ چکی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں ایک ایسا اضافہ، جس کی نہ کوئی نظیر ہے اور جو ناقابلِ برداشت بھی ہے، معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کے آگے رکاوٹوں کا سبب بنے گا۔ یہ صورتحال خاص طور پر نوجوانوں اور ان کے والدین پر مشتمل ملک کی 50 فیصد آبادی میں افراتفری اور محرومی کا باعث بنے گی۔ سریندر ولاسائی نے زور دیا کہ پوری قوم میں امید نو پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے نوجوانوں میں احساس محرومی میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن ہمارے یہی نوجوان اب اپنے خوابوں کے چراغ دوبارہ جلانے اور ملک کو درست ڈگر پر لانے کے لئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب دیکھ رہے ہیں۔