بلوچستان کا مری خاندان … روایتی سیاست سے لے کر بلوچ لبریشن آرمی کی تشکیل تک … چونکا دینے والے واقعات … پہلی قسط

بلوچ مری قبیلے کی تاریخ یوں تو ہزار سال سے بھی پرانی ہے ۔موجودہ ایران اور پاکستان میں مری قبیلہ کئی صدیوں سے اپنی طاقت،بہادری،روایات،تاریخ اور سیاست کی وجہ سے منفرد اور ممتاز مقام کا حا مل رہا ہے۔دہلی میں مغلوں اور انگریزوں کی حکومت کے دنوں میں بھی بلوچستان میں مری قبیلے کی اپنی شناخت تھی۔
قیام پاکستان کے بعد نواب خیر بخش مری قد آ ور بلوچ سیاستدان تھے ۔وہ 28 فروری انیس سو اٹھائیس کو کا ہان بلوچستان میں پیدا ہوئے  ہیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہلو اور اعلیٰ تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی نواب خیر بخش مری کے چھ بیٹے تھے۔


چنگیز مری
بالاچ مری
گزین مری
حربیار مری
حمزہ مری
مہران مری


نواب خیر بخش مری بلوچستان میں مری قبیلے کے سربراہ ہے۔علالت کے بعد 86 برس کی عمر میں انہوں نے 10 جون 2014 کو کراچی میں وفات پائی۔انیس سو ستر کی دہائی میں ان کا شمار بلوچستان کے طاقتور سیاستدان لیڈروں میں ہوتا تھا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب بلوچستان میں آپریشن ہوا تو مزاحمت کرنے والوں میں ان کا بڑا نام تھا پھر وہ افغانستان چلے گئے اور جلاوطنی کی زندگی گزاری جب کابل میں لیفٹ ونگ حکومت کا خاتمہ ہوا تو وہ واپس پاکستان آئے۔
ایک دور تھا جب بلوچستان کے تین بڑے سرداروں نواب خیر بخش مری۔نواب اکبر بگٹی اور سردار عطاءاللہ مینگل کو پاکستانی سیاست میں انتہائی اہمیت حاصل تھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ان کو اہمیت بھی دیتی تھی اور بلوچستان میں اپنی مرضی کی ترقی اور ڈویلپمنٹ کی راہ میں رکاوٹ بھی سمجھتی تھی۔بلوچستان کے وسائل پر کنٹرول اور وسائل سے حاصل آمدن کی تقسیم کے مسائل اور تنازعات ہمیشہ سر اٹھاتے رہے۔
نواب خیر بخش مری کی زندگی میں بھی یہ سوالات اٹھائے جاتے تھے کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ان کے ذہن میں ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں اور پاکستان کے بلوچ علاقوں کو ملا کر ایک گریٹر بلوچستان یا آزاد بلوچ ریاست بنانے کا کوئی آئیڈیا موجود ہے کیا واقعی بلوچ لبریشن آرمی ان کے ذہن کی تخلیق تھی یا خود کو آزاد کرانے والے بلوچ ان کو اپنے لئے ایک آئیکون سمجھتے تھے۔


نواب خیربخش مری نے اپنی زندگی کے آخری دنو ں میں ایک انٹرویو میں یہ بات کہی تھی کہ اپنی پرآسائش زندگی اور ایچی سن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے مجھے سیاست میں تاخیر سے آنے کا موقع ملا۔میرے والد مہراللہ خان مری مختلف مزاج کے انسان تھے اور سیاست میں میرا آغاز بالکل مختلف تھا۔
جنرل ایوب خان کے دور میں جب بلوچستان میں گیس اور تیل کے ذخائر کی تلاش کا کام تیزی سے آگے بڑھایا گیا تب خیر بخش مری کی سیاسی اٹھان ہوئی۔وہ اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ بلوچستان میں باہر سے آنے والوں اور مقامی بلوچ آبادی کا توازن بگڑنے کے حوالے سے آؤٹ سائڈ رز کے آنے کے آئیڈیا کے خلاف تھے۔وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ بلوچستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بلوچ قبیلوں کے سربراہ ہیں۔الٹا وہ حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کو بلوچستان کی پسماندگی اور غربت کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔انہیں کئی مرتبہ اہم سرکاری عہدے گورنر اور وزارتیں دینے کی پیشکشیں ہوتی رہی لیکن وہ اپنے مزاج کے مختلف سیاستدان تھے۔
نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ اگر میں پیسے کا لالچی ہوتا تو میں دولت جمع کرتا افغانستان میں جلاوطنی نہ کاٹتا۔جیل میں قید نہ ہوتا۔مجھے مسلسل کتنی حکومتوں نے پرآسائش زندگی گزارنے کی پیشکشیں کی۔
بہت سے لوگ بہت تھوڑے میں بک جاتے ہیں۔وہ تاریخ میں ہمیشہ غدار کہلاتے ہیں۔
نواب خیر بخش مری کا کہنا تھا کہ وہ بکنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔وہ دولت کے پجاری نہیں ہیں۔عہدے اور سرکار ان کے لئے کبھی بھی پرکشش نہیں رہے۔                                       ……(جاری ہے )