کراچی سے حکمرانوں کی بے رخی کیوں؟

کراچی میں شریفوں نے اپنی تین حکومتوں میں کبھی لگاتار دو دن بھی نہیں گذارے۔ نہ کراچی کو اس قابل سمجھا کہ کوئی پان کا کھوکا ہی خریدتے۔ صرف چھونے کو آتے رہے۔ یہی حال عمران خان کا ہے صرف چھونے کو یا شوکت خانم کے فنڈ ریزنگ کے لئے آتے ہیں۔
حکمرانوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اسکی اپنی الگ حیثیت ہے ۔دنیا کے ہر ملک میں ایسے بڑے شہر ہی پورے ملک کو کھینچتے ہیں۔نیو یارک، لندن، بمبئ، استنبول اور شکاگو کو الگ اہمیت اور توجہ دیکر اسکی ہارس پاور سے پورے ملک کو کھینچاجاتا ہے ۔ بڑے شہر کا مقابلہ ملک کے کسی اور شہر سے کیا ہی نہیں جاسکتا ۔
کیا ہر مہینے 5 چھ دنوں کے لئے یہاں بیٹھ کر حکومت نہیں چلائی جاسکتی؟ جن حکمرانوں کا اس بڑے شہر میں کوئی اسٹیک ہی نہیں وہ اس سے کیا دل لگایئں گے اور اسکے لئے کتنا سوچیں گے…؟
ہمارے سراج الحق صاحب بھی دو مہینے میں دو بار پندرہ پندرہ دنوں کے لئے سعودی عرب جاتے ہیں نوافل ادا کرنے اور کراچی ایسے آتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اسٹیج پر چڑھ کر عمران خان کی غلطیاں گنوائیں اور وہاں سے سیدھے ائیر پورٹ کے لئے نکل جاتے ہیں قلعہ منصورہ میں چین سکون کی زندگی گذارنے کے لئے… اپنے انتخابی حلقے میں تو وہ بجلی کا ٹرانسفارمر بھی کھڑے ہوکر بدلواتے ہیں… کیا وہ دیر اور منصورہ کے امیر ہیں؟ سب سے بڑے شہر میں جماعت اسلامی کے امیر کی کیا توجہ ہے؟
کاش کسی قومی سطح کے رہنما کو یہ بات پتہ چلتی کہ چاند رات سے عید کے تیسرے دن تک کراچی میں صفائی نہیں ہوئی لوگ کچرے پر کھڑے ہوکر منہ پر رومال رکھ کر مہمانوں کا استقبال کرتے رہے… وزیر بلدیات سعید غنی کے بقول مسلمان صفائی ورکرز عید کی چھٹیوں پر تھے اور میئر کراچی نے اسٹاف کو تنخواہیں دیر سے ملنے پر خاص اشارہ دیدیا تھا پیپلز پارٹی کو رسوا کرنے کے لئے…
اگر عمران خان کا کوئی کرائے کا بھی فلیٹ ہوتا کراچی میں، کوئی محلہ ہوتا اور دوست یار ہوتے تو پتہ چلتا کہ بورنگ کے پانی سے دیواروں پر کیسے نشانات پڑجاتے ہیں اور مساجد میں نمکین پانی سے روزے میں وضو کرنا کیسا لگتا ہے…
کاش سراج الحق دو ہفتے کراچی میں رہ کر نوافل ادا کرتے اور خاموشی سے الخدمت اورنگی اور ناظم آباد ہسپتال جاکر خود دیکھتے کہ عوام کتنی خوش ہے ان خدمات سے، مزید ایسے ہی ہسپتال اور بنائیں کہ انکو پہلے بہتر کریں؟ ، یہاں رہ کر، کسی پرو ٹو کول سے ہٹ کر اور اسٹیج سے نیچے بیٹھ کر عام لوگوں سے بات چیت کر کے جاننے کی کوشش کرتے کہ کراچی کے لوگ کیا سوچتے ہیں کیا چاہتے ہیں…؟ کراچی کے کسی علاقے میں کوئی قومی رہنما عید پر دستیاب نہیں تھا۔
سب سے بڑے،سب سے جاندار اور قائد کے شہر سے لاتعلقی ایسا ہی ہے کہ ہارس پاور انجن سے بے اعتنائی برت کر گاڑی کی باڈی پینٹ پر ہی وقت اور پیسے لگایا جائے…ایسے لوگ علاقائی انتخابی امیدوار تو ہوسکتے ہیں قومی رہنما ہرگز نہیں بن سکتے… نواز شریف نے کراچی میں جو  “وقت” دیا اسی کا نتیجہ ہے کہ 3 بار وزیر اعظم رہنے والے کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں درجن بھر افراد بھی باہر نہیں نکلے…
ہزاروں گز کے بنی گالہ، رائے ونڈ اور منصورہ کا احترام ہے مگر سچ یہ ہے کہ کراچی کے عزیز آباد کا 120 گز کا ایک چھوٹا سا گھر ملکی سیاست میں دہائیوں تک جو ہلچل اور تباہیاں پھیلا سکتا ہے اس جیسی اہمیت کسی شہر کے کسی بلڈنگ اور قلعہ کی ہو ہی نہیں سکتی…
اسی نائن زیرو سے کچھ سبق لیجیئے۔ خود کو قومی رہنما سمجھتے ہیں تو کراچی کو وقت دیجیئے… اسکو اون کیجئے اور یہاں دفاتر لاکر کام کیجیئے…اب تو نو گو ایریا اور بوری بند لاشوں کا دور گزر گیا… لاہور اسلام آباد والو کو اب ڈرنا نہیں چاہیئے…کھلا میدان ہے کوئی روکنے والا نہیں مگر کراچی سے محبت اور لگاوٗ پیدا کر کے آئیے… پاکستان کی تعمیر کرکے اسے آگے لے جاناہے تو ملک کے سب سے بڑے شہر سے لاتعلقی اور بے رخی برتنا بند کیجیئے…