کے الیکٹرک … تیری کون سی کل سیدھی … عید الفطر کے موقع پر بھی شہری پریشان رہے

کراچی – پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اور تجارتی شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی واحد کمپنی کے الیکٹرک نے ہمیشہ کی طرح اس عید پر بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہریوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اس حوالے سے ضروری اقدامات کر لئے گئے ہیں جب کہ کسی بھی فورٹ کی صورت میں فوری ہنگامی رسپونس کی گرنٹی بھی دی گئی تھی لیکن شہریوں کی بڑی تعداد نے عید الفطر کے تینوں دین مختلف علاقوں سے شکایات کی ہیں کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا وعدہ وفا نہیں ہوا ایک سے زائد مرتبہ بجلی کی سپلائی متاثر ہوئی شکایات درج کرائی گئی تھی میں ضرور آئیں لیکن بجلی کی فراہمی میں فوری بحالی کی بجائے تاخیر ہوتی رہی ۔شہر کے کچھ علاقوں میں شہریوں نے بجلی نہ جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا اور کے الیکٹرک کو داد اور شاباش بھی دی ہوش علاقوں میں بجلی کی فراہمی بلاتعطل برقرار رکھی گئی لیکن کچی آبادیوں سے جڑے ہوئے علاقوں اور اولڈ سٹی ایریا اور نوٹ ناظم آباد نیو کراچی کے بعد بلاکس علاقوں سیکٹرز میں اور بالخصوص کورنگی لانڈھی اور ملیر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں تعطل پیدا ہونے کی شکایت سامنے آئی کراچی کے تمام اضلاع میں بجلی کے حوالے سے شہریوں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا رہا لیکن عید کے موقع پر کے الیکٹرک کی گاڑیاں اور عملہ مختلف علاقوں میں کام کرتا ہوا بھی دیکھا گیا۔



جن شہریوں کو سخت گرمی کے موسم میں بجلی کے بغیر کچھ دیر یا چند گھنٹے رہنا پڑا وہ بلبلا اٹھے اور انہوں نے کے الیکٹرک کے خلاف شکایات کا انبار لگا دیا سوشل میڈیا پر بھی مختلف علاقوں سے بجلی سے محروم شہریوں نے کے الیکٹرک کے خلاف کمنٹس پاس کیے کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور اعلی حکام کو برا بھلا کہا اور ان کے خلاف نازیبا کلمات بھی لکھے جو ان کے غصے اور شدید گرمی میں ان کے بے حال ہو جانے کی عکاسی کرتا ہے شہریوں نے بجلی کے نرخ بڑھاتے جانے اور بجلی مہنگی کرتے جانے کے باوجود بجلی کی سپلائی بالخصوص تہواروں کے موقع پر برقرار رکھنے پر کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا بادشاہ نیو نے کے الیکٹرک کے خلاف عدالت میں جانے کااعلان کیا اور لوگوں کو اس بات پر ترغیب دی کہ وہ بھی اس حوالے سے خاموش نہ بیٹھے اور سوشل میڈیا پر اپنا پریشر بڑھائیں جب وہ باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں تو بجلی کی بلا تعطل فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔



کے الیکٹرک اور کوئی بھی حکومت انہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی اور جو لوگ بھی غیر ذمہ داری لاپرواہی اور سسٹم کی خرابی کا باعث بن رہے ہیں ان کو بے نقاب ہونا چاہیے ان کی غفلت و کوتاہی اور نا اہلی پر خاموش رہنے کی بجائے ان کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے جگایا جائے بیدار کیا جائے جن جوڑا جائے ان پر دباؤ بڑھایا جائے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ آخر کب تک بجلی کے بریک ڈاؤن اور موسم کی شدت کا بہانہ بنا کر کے الیکٹرک شہریوں کو لالیپاپ دیتی رہے گی جب ہلکی بارش ہو تو بجلی غائب جب زیادہ گرمی ہو تو بجلی غائب ۔یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا کب تک برداشت کیا جائے اور پھر لوگ پریشان ہو کر بے قابو ہو جاتے ہیں اپنے ہی املاک اور اپنے ہیں علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ کرکے اپنا ہی نقصان کر بیٹھتے ہیں ۔شہریوں نے عید الفطر کے موقع پر عید ملنے کے ساتھ ساتھ کے الیکٹرک کے معاملات پر بھی گفتگو کی اور ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ آپ کے ہاں بجلی ہے؟ کیا آپ کے ہاں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔



اس کے جواب میں چند شہریوں کا تو کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بجلی ہے لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی لیکن زیادہ تر لوگ کے الیکٹرک سے بیزار تھے تنگ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہاں یار ہمارے یہاں بھی بڑی مشکل ہے ۔ہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں ساڑھے سات گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے بھائی بھائی گھنٹے تین مرتبہ دن میں لائٹ جاتی ہے بعض شہری مانتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں کنڈے لگے ہوئے ہیں لوگ بجلی چوری کرتے ہیں کچی بستیاں ہیں وہاں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے لوگ بھی لگا نہیں کرتے لیکن وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ انڈا مافیا کی سزا ان شہریوں کو کیوں ملتی ہے جو باقاعدگی سے بھی ادا کرتے ہیں ۔یہ عجیب صورتحال ہے کرے کوئی بھرے کوئی ۔۔۔