عمران خان کو اپنے خلاف بھٹو اور مشرف جیسی طاقتور احتجاجی تحریک کا سامنا کرنے کے خدشات

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو آنے والے دنوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے طاقتور احتجاجی تحریک کا سامنا ہوگا ۔احتجاجی تحریک کا واحد مقصد عمران خان کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کو نئے الیکشن کی طرف لے جانا ہوگا ۔سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کی حکومت میں اپنی غلطیوں اور عوام پر مہنگائی کے بم گرانے کے اقدامات سے فیصل آباد کی جماعتوں کو اپنے خلاف بھرپور تحریک چلانے کا خود موقع فراہم کر دیا ہے ججوں کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی وجہ سے وکلاء برادری بھی احتجاجی تحریک چلانے والی ہے.



سیاستدان، مذہبی جماعتیں اور کالےکوٹ والے سب مل کر جمہوریت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے تو حکومت کے لیے حالات پر قابو پانا آسان نہیں رہے گا۔
 ایک طرف امریکہ بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کر رہے ہیں دوسری طرف پاکستان کی معاشی مشکلات پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے بےبس کر رہی ہیں جب کہ عمران خان کی حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور عوام پر مہنگائی کے بم گرانے کی وجہ سے احتجاجی تحریک میں عوامی تنقید کا نشانہ بن سکتی ہے بالکل اسی طرح جیسے انیس سو ستر کی تحریک جو 35 سیٹوں کی دھاندلی پر شروع ہوئی تھی لیکن پھر نظام مصطفیٰ پر جاکر ختم ہوگئی اورموومنٹ ختم ہوگئی تو بھٹو کو پھانسی ہو گئی تھی اسی طرح اب چلنے والی احتجاجی تحریک کا اس دفعہ ہدف عمران خان ہوں گے۔



سیاسی موسمیات کے مطابق پاکستان کو خطے کے حالات کی وجہ سے مزید مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہے ایران کے خلاف امریکہ کا گھیرا تنگ ہورہا ہے،  پاکستان کی دشمن قوتیں عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا اور اندرونی طور پر کمزور اور غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔