ملک میں ایک اور احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا چاہتا ہے…

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے ملک بھر میں ایک اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے وہ کالے کوٹ پہنے کل ایک مرتبہ پھر سڑکوں اور عدالتوں کے باہر احتجاج کرتے نظر آئیں گے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اس مرتبہ احتجاج صرف عدالتوں کے باہر نہیں ہوگا 14 جون کو آنسو گیس نہیں بلکہ ایمبولینس منگوائی جائیں۔ اب عدالتوں کو تالے لگے گیں، ہم مرنے کے لیے آئیں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس کو جلانے کا اعلان بھی کیا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر ججوں کے حوالے سے وکلا کی آواز اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔



تجزیہ نگار اور سیاسی مبصرین سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں ایک اور احتجاجی تحریک کا آغاز بس ہوا ہی چاہتا ہے حکومت نے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری ہے آنے والے دنوں میں حکومت کو وہ کل کی احتجاجی تحریک سے نمٹنے کے لیے سخت مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیا عمران خان کی حکومت وہی غلطی دہرانے جا رہی ہے جو جنرل پرویز مشرف نے کی تھی اس حوالے سے سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوچکی ہے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ججوں کے خلاف پہلے سے موجود متعدد شکایات کو چھوڑ کر یا بائی پاس کرکے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی فوری سماعت کا فیصلہ کیوں؟



دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ اس ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ عدالتوں کے معاملات ہوں سپریم جوڈیشل کونسل سن رہی ہے اور وہاں معزز ججز بیٹھے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ججز کے خلاف شکایات اور ریفرنس کے حوالے سے حکومت نے اپنا آئینی فرض ادا کرتے ہوئے ریفرنس بھیجا ہے اس حوالے سے حکومت پر ہونے والی تنقید بلا جواز ہے۔