کے فور منصوبے پر اب تک ہونے والے زیادہ تر اخراجات سندھ حکومت نے کئے ہیں، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی

کراچی- وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر غلط بیانی کرکے کراچی کے عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کردیں۔ ملک کے سلیکٹیڈ حکمران آج کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو وہ وفاق سے کے فور اور ایس تھری منصوبوں کی 50 فیصد ادائیگیوں کو یقینی بنانے کے لئے اپنے قائدین پر زور دیں۔ وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے پر 12 ارب روپے خرچ کئے ہیں اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے حقیقیت یہ ہے کہ کے فور منصوبے پر اب تک ہونے والے زیادہ تر اخراجات سندھ حکومت نے کئے ہیں۔ منصوبے کی لاگت میں اضافے پر متعدد بار سندھ اسمبلی کے فلور پر تمام وضاحت دی جاچکی ہے لیکن بدنصیبی ہے کہ ہمارے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ کے فور منصوبے کے لئے درکار اضافی 650 ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔



ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ گذشتہ روز اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں کے فور کے حوالے سے حقائق کو توڑ مڑور کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سندھ حکومت اس منصوبے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے جبکہ حقائق سب کے سامنے ہیں کہ خود وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے متعدد بار وزیر اعظم کو کے فور منصوبے کے حوالے سے ان کے خدشات پر اس کی جہاں چاہیں آڈٹ کرانے کی پیشکش کی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے فلور کے علاوہ متعدد فورم پر میں نے کے فور منصوبے کی لاگت میں اضافے کے اسباب اور اس منصوبے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی عوام میں بے چینی پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کی ابتدائی لاگت کو پی سی ون میں 25 ارب روپے مختص کی گئی تھی اس پی سی ون میں اس منصوبے کے دو اہم جزو پاور پلانٹ اور شہر میں پانی کی ترسیل کے نظام کو شامل نہیں کیا گیا تھا اور اس دونوں اہم جزو کو شامل کرنا ضروری تھا، جس سے اس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اس منصوبے کے لئے زمین کی مد میں سندھ حکومت نے 5 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔سعید غنی نے کہا کہ اس منصوبے کے کنٹریکٹر FWO ہے اور یہ ایک وفاقی سرکاری ادارہ ہے، جو اس پر آج بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔



سعید غنی نے مزید کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف والے اس منصوبے پر شکوک و شبہات پیدا کرکے کراچی کے عوام کے پانی کے دیرینہ مسئلے سے راہ فرار حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن یہاں کے عوام نے سندھ اور وفاق میں ان کے کارناموں اور کرتوتوں کا 9 ماہ میں بہتر انداز میں جائزہ لے لیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر فردوس نقوی صاحب کو مشورہ دوں گا کہ وہ غلط بیانی اور عوام کو گمراہ کرنے کی بجائے وفاقی حکومت پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ وہ کے فور اور ایس تھری منصوبے کے لئے اپنے حصہ کی 50 فیصد رقم کی فوری ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ کراچی میں پانی اور سیوریج کے مسئلے کا حل ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے درکار 650 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی کی بھی وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال منظوری نہیں دی گئی ہے اس لئے اگر پی ٹی آئی اور ان کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اس حوالے سے بھی اپنے وفاقی حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ کے فور منصوبے کا فیز 1 سندھ حکومت کسی صورت بھی مکمل کرے گی اور اگر اس میں وفاق نے اپنے حصہ کی رقم کی ادائیگی نہ بھی کی تو ہم اس منصوبے کو ہر ممکن پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔