کے الیکٹرک کے خلاف شہریوں کی جانب سے شکایتی خط

جناب اعلیٰ
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان۔

میں آپ کی خدمت میں تمام کراچی والوں کی طرف سے ایک درخواست پیش کرنا چاہتا ہوں،
جناب آپ ہم پر (کے الیکٹرک) کی جانب سے ڈھائے جانے وا لے ظلم و ستم کا نوٹس لیں،  جو (کے الیکٹرک) کس طرح سے معصوم شہریوں کو لوٹ رہی ہے،
پہلی کرپشن: نئے میٹر جو تیز رفتاری کا شکار ہیں، جسکو(کے الیکٹرک) اپنا حق سمجھتی ہے،
دوسری کرپشن: صلیب تبدیل ہونے پر یونٹ کااماوٗنٹ تبدیل کر دیا جاتا ہے، یعنی اگر 300 یونٹ تک 10 روپے بیس پیسے فی یونٹ ہے، اور 301 یونٹ ہوتے ہی
15 روپے 45 پیسے چارج کیے جاتے ہیں، جو 700 یونٹ تک ہیں، اور 701 یونٹ سے، 17 روپے 33 پیسے چارج کیے جاتے ہیں،
اب دیکھئے اس میں کس طرح فراڈ کیاجاتا ہے۔
(کے الیکٹرک) کا جب بل تیار کیا جاتا ہے تو یہ لوگ، جسکے 280، یا 290 یونٹ بنتے ہیں اس کو 305، یا 315 کردیتی ہے، اسطرح ( کے الیکٹرک) صارفین سے جسکو، 10 روپے بیس پیسے کے حساب سے یونٹ کے دینا تھا وہ بیچارہ 15 روپے 45 پیسے کے حساب سے ادا کرتا ہے،
اسی طرح جسکے 700 سے کم یونٹ ہوتے ہیں یہ
(کے الیکٹرک) والے بڑھا کر بل بھیجتے ہیں کیوں کے 700 یونٹ تک 15 روپے 45 پیسے ہوتے ہیں، اور وہ 701 یونٹ پر 17 روپے 33 پیسے ہوجاتے ہیں، اور ( کے الیکٹرک) منافع خوری کرتا ہے،
اور ان لوگوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اور ان کی چالاکی کا ایک عام آدمی مداوا بھی کیسے کرے، میٹر ریڈنگ کے 10 سے 15 دن کے بعد بل اتا ہے، جب تک آدھا مہینہ اور ہوجاتا ہے، اور کس طرح 10 یہ 15 یونٹ کا حساب لگایا جاسکتا ہے؟
تیسری کرپشن :کہ جو (کے الیکٹرک) پابند ہے کہ 230 وولٹ بجلی فراہم کر نے کا یا کم از کم 220 بجلی فراہم کر نے کا پابند ہے، اور پابند ہے صارفین کو پاور فیکٹر ملی ہوئی بجلی فراہم کر نے کا، جو نقصانات سے بچاتی ہے یا یوں کہوں کے فلٹر ہوئی بجلی فراہم کرنے کا پابند ہے، وہ ( کے الیکٹرک) کبھی 220 وولٹ بھی فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی فلٹر کی ہوئی بجلی فراہم کرتی ہے جسکا نقصان صارفین کو اٹھانا پڑھتا ہے اور  220 وولٹ سے کم بجلی کا کیا نقصان ہے؟
جواب،
جب 220 وولٹ کم آتے ہیں تو امپیئر بڑھ جاتے ہیں اور جب امپیئر بڑھ جاتے ہیں تو واٹ زیادہ استعمال ہوتا ہے اور جو ہمارے یہاں میٹر لگتے ہیں وہ Killo watt hours meter
ہوتے ہیں، میں آپکو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں،
اگر وولٹ230 یا 220 ہوں اور ہمارا لوڈ 1000 واٹ ہو اور مسلسل ایک گھنٹے چلے تو ایک یونٹ بنتا ہے۔ اسی طرح اگر وولٹ 180 ہوں اور ہمارا لوڈ 1000 واٹ ہو
اور مسلسل ایک گھنٹے چلے تو تقریباً 1/2 یونٹ بنتا ہے، یعنی تقریباً 500 watt بجلی زیادہ استعمال ہوئی، اس ٹیکنیکی مسئلے کو کوئی سمجھتا نہیں۔
تو آواز کیسے اٹھائے اور کراچی والوں کا ہے بھی کون سننے والا؟
چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ،
(کے ای ایس سی) پورے کراچی سے، مین لائنوں سے کاپر وائر اتار کر سلور وائر ڈال رہی ہے، جس کی میعاد چند سال ہی ہے، یہ کیوں اور کس کی ایما پر کیا جارہا ہا؟
نئے میٹر کے لیے جو صارفین ڈیمانڈ نوٹ کے ساتھ پیسے بینک میں جمع کرواتے ہیں اُس میں صارفین سے مین لائن سے میٹر تک آنے والی جو وائر استعمال ہونی ہے اُس کے پیسے لئے جاتے ہیں اور وہ پیسے کاپر وائر کے لئے جاتے ہیں مگر لگایا سلور وائر جاتا ہے، اور اگر میٹر تبدیل کرنے آتے ہیں تو صرف میٹر تبدیل نہیں کرتے بلکہ جو کاپر وائر ڈالا ہوا ہوتا ہے اس کو بھی سلور وائر سے تبدیل کردیتے ہیں،
جبکہ اس کاپر وائر کے صارفین پہلے ہی پیسے ادا کیے ہوئے ہوتے ہیں، مگر یہ بدمعاش ایک نہیں سنتے بلکہ دھمکی دیتے ہیں، اگر ہمارے معاملے میں بولوگے تو پریشان ہوجاؤ گے، اور صارف بیچارہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے، کیوں کے اس کو پتہ ہے کہ یہاں کچھ نہیں ہوسکتا!!!
پانچواں مسئلہ، اوور بلنگ ہے،
جب صارفین کو اوور بل موصول ہوتا ہے تو بیچارے پریشان ہوجاتے ہیں، اور جب (کے الیکٹرک) سروس سینٹر جا کر شکایت کرتے ہیں تو پریشان کیا جاتا ہے،چکر لگوائے جاتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کے بل تو بھرنا پڑےگا، ایک نوکری پیشہ آدمی کب تک ان سے لڑے؟ کب تک چکر لگائے! آخر کار بل بھر دیتا ہے، کیوں کے اس ملک میں غریب اور کمزور کا کوئی مدد گار نہیں،
جو بجلی کا یونٹ پورے پاکستان بھر میں 6 روپے سے 8 روپے کے درمیان ہے وہ یونٹ کراچی میں 10 روپے 20 پیسے لیا جاتا ہے!!!
آخر کراچی سے ایسی دشمنی کیوں؟
یہ مسئلہ کسی ایک کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر صارفین کا مسئلہ ہے، اور (کے الیکٹرک) کریپشن سے ہر شخص پریشان ہے،
میں اُمید کرتا ہوں جناب چیف جسٹس آپ سے کہ آپ اس پر ضرور ایکشن لیں گے،
شکریہ!
درخواست گزار
کراچی کے پریشان لوگ