زرتاج گل وزیر اعظم عمران خان کے لئے شرمندگی کا باعث بن گئی

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر موسمیات زرتاج گل کی بہن شبنم گل کی نیکٹا میں 19 گریڈ کی ڈاکٹر کی پوسٹ پر تعیناتی کے حوالے سے آنے والے اعتراضات پر مبنی خبروں کا نوٹس لے لیا ہے اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کا کہنا ہے کہ زرتاج گل نے اپنی بہن کی تقرری کے لئے نیکٹا کو خط لکھا تھا اس طرح کا ااقدام پی ٹی آئی کے اصولوں کے خلاف ہے پی ٹی آئی نے ہمیشہ اقربا پروری کی مخالفت کی ہے لہذا وزیراعظم نے وزیر مملکت زرتاج گل کی بہن کا گریڈ 19 میں تعیناتی پر ایکشن لیتے ہوئے نیکٹا کو لکھا گیا خط واپس لینے کی ہدایت کردی ہے۔



یاد رہے کہ وزیر مملکت زرتاج گل نے لاہور کالج برائے خواتین میں اسسٹنٹ پروفیسر اپنی بہن شبنم گل کو ڈائریکٹر مقرر کرایا تھا شبنم گل کو ان کی بہن وزیر موسمیات زرتاج گل کی سفارش پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی میں بطور ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا اس پر زبردست اعتراضات اٹھائے تھے اور سوشل میڈیا میں نئی بحث شروع ہوگئی تھی اور وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت پر اعتراضات اٹھائے جارہے تھے جب کہ زرتاج گل اپنی بہن شبنم کی تعیناتی کا بھرپور دفاع کر رہی تھیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ یہ تعیناتی میرٹ پر ہوئی ہے کوئی سفارش یا خصوصی برتاؤ نہیں کیا گیا اور تمام تقاضے پورے کئے گئے ہیں ان کا یہ موقف تھا کہ اگر کسی وزیر کی فیملی میں کوئی قابل ہے تو کیا اس کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں؟
لیکن سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے اعتراضات اٹھانے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ زرتاج گل کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور انہوں نے اپنی بہن کی تعیناتی کے لیے نیکٹا میں بھرتیوں کے اشتہار کا جو ٹکڑا سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔



اس میں کچھ چیزیں چھپا لی تھیں جنہیں دوسرے شہریوں نے سوشل میڈیا پر آویزاں کر دیا سینئر صحافی احمد نورانی نے بھی اس حوالے سے اعتراضات اٹھائے تھے اور روزنامہ جنگ راولپنڈی میں 16 مارچ 2017 کو شائع ہونے والے اشتہار کا عکس بھی سوشل میڈیا پر آگاہ کردیا اور یہ بات بھی سامنے آئی تھیں کہ زرتاج گل کی بہن شبنم گل جو کہ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تعینات تھیں انھوں نے 2014 سے لیکر 2018 تک پی ایچ ڈی مکمل کرنی تھی لیکن انہوں نے مزید چار سال کی توسیع کروائی پی ایچ ڈی کے بعد پانچ سال کسی بھی ادارے میں پڑھانا لازمی ہوتا ہے لیکن شبنم گل نے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اور اس کے علاوہ بھی وہ ڈائریکٹر کی شرائط پر پورا نہیں اترتی تھیں۔