نوازشریف اور آصف زرداری ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے تیار

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کے ایک ساتھ بیٹھنے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری بھی ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے تیار ہوگئے ہیں ۔اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے عید کے بعد آپ کو مت کہنا فیصلہ کن تحریک چلانے اور عوام کی جان اس سلیکٹ و زیراعظم سے چھڑانے کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے مشاورت تیز کر دی ہے۔



دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کی ملاقات جلد ہو سکتی ہے ۔دوسری جانب سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ
ججوں کے حوالے سے حکومتی ریفرنس کے حالیہ اقدام نے اپوزیشن کو عدلیہ پر حملے کا معاملہ اٹھا کر یکجا ہونے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے اس نقطے سے اپوزیشن کو کافی فائدہ پہنچے گا وکلاء برادری بھی عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے کے لئے آمادہ ہے اپوزیشن کو اچھا خاصا فائدہ پہنچے گا عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ گیس اور بجلی کے بلو ں میں اضافے نے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔



رمضان اور عید کی شاپنگ کے دوران ہی عوام کو مہنگائی کا مزہ چکھنا پڑا ہے بجٹ کی آمد آمد ہے حکومت کی جانب سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا اس لیے اپوزیشن کو حکومت کے خلاف عوامی رد عمل حاصل کرنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئے گی ۔سیاسی مبصرین کے مطابق عید کے فورا بعد حکومت کے لیے حالات مزید مشکل ہوتے نظر آرہے ہیں وزیراعظم کو اپنی کابینہ میں مزید ردوبدل اور قربانیاں بھی دینا پڑسکتی ہیں معیشت کے ساتھ ساتھ وزیرستان کا معاملہ اور علاقائی سیاست کے حوالے سے بھی حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں نئے چیلنجیز سر اٹھائے کھڑے ہیں دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت ان مشکلات سے اور کو نکالنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے ۔