پہلا میچ ہارنے کے بعد ڈریسنگ روم میں کیا ہو رہا تھا۔ اندرونی کہانی سامنے آگئی

ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ڈریسنگ روم میں کیا حال تھا اس حوالے سے حقائق سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق ٹیم جب ہا ر رہی تھی تو کھلاڑی سخت پریشان اور غصے میں تھے بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بولرز اپ سیٹ تھے شارٹ پچ گیندوں کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہ کرنے اور و کٹیں ضائع کرنے پر بیٹنگ کوچ سمیت پوری ٹیم مینجمنٹ غصے میں تھی۔
کوچ مکی آرتھر نے کھلاڑیوں کو حوصلہ دینے کی کوشش بھی کی اور ڈانٹا بھی۔



کپتان سرفراز کا کہنا تھا کہ ہم اچھا نہیں کھیل سکے لیکن یہ پہلا دن تھا ابھی ٹورنامنٹ باقی ہے ہمیں آئندہ میچوں میں کم بیک کرنا ہوگا۔
کھلاڑی جب آؤٹ ہو کر پویلین واپس آ رہے تھے تو تماشائیوں کی جانب سے ان پر غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا اور ان پر جملے کسے جا رہے تھے جملے بازی کی اور ہوٹنگ کی وجہ سے کھلاڑی مزید اپ سیٹ ہوگئے تھے۔



ڈریسنگ روم میں بیٹھے منیجر طلعت علی ملک اور اسسٹنٹ کوچ منصور رانا اس بات پر حیران تھے کے اسی گراؤنڈ پر چند روز پہلے پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف 340 رنز بنائے تھے لیکن ایسا کیا ہوا کہ صرف تیرہ دن کے بعد اسی گراؤنڈ پر پوری پاکستانی ٹیم ایک سو پانچ رنز پر آؤٹ ہو گئی پچاس ہو بسطامی تھا لیکن پوری ٹیم اکیس اعشاریہ چار اوور میں آؤٹ ہو گئی۔
ڈریسنگ روم میں آکر کپتان سرفراز نے کہا کہ ہمیں اس طرح یہ میچ نہیں ہارنا چاہیے تھا لیکن اب اگلے میچوں کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔



کوچ مکی آرتھر نے تمام کھلاڑی سے کہا کہ وہ اپنے میچ کی ویڈیوز بار بار دیکھیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھیں جو غلطیاں آج ویسٹ انڈیز کے خلاف کی گئی ہیں وہ اگلے میچوں میں نہیں ہونی چاہیے۔