ذہین قابل اور انتہائی محنتی افسر

اختر غوری
کی کہانی
جیوے پاکستان ڈاٹ کام
کی زبانی

یہ بات کسی شک و شبے کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ اختر غوری کا شمار انتہائی ذہین قابل اور محنتی سرکاری افسران میں ہوتا ہے اور وہ اپنی ذہانت قابلیت اور محنت کی بدولت کی کامیابیوں کی شاہراہ پر گامزن ہوئے اور اپنے شاندار کیریئر میں کئی اہم سنگ میل عبور کر کے آنے والی نسلوں اور نوجوان سرکاری افسران کے لئے ایک قابل تقلید مثال بن چکے ہیں۔

سیکرٹری ٹرانسپورٹ سندھ تعینات ہونے سے قبل وہ محکمہ داخلہ انٹر بورڈ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور گورنر ہاؤس میں انتہائی اہم عہدوں پر شاندار خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ہر دور میں ان کے کام اور اقدامات کو سراہا گیا اور ان کو صوبائی حکومت کے لئے قیمتی اثاثے کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔۔کیونکہ رولز آف بزنس ۔۔۔۔قاعدہ قانون اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے ان کی تیاری اور انڈراسٹینڈنگ کمال کی ہوتی ہے اور کئی اہم مقدمات میں عدلیہ نے بھی ان کی پیش کردہ رپورٹس کو سراہا اور فیصلوں کا حصہ بنایا ہے یہ بات کسی بھی سرکاری افسر کے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔

ذاتی طور پر انتہائی سادہ اور شریف انسان ہی خوش گفتار خوش لباس اور خوش مزاج ۔۔۔۔۔ہمدرد اور مخلص شخص ہی دوسروں کی مدد کرنے میں لطف اور سکون محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔اپنا کام ہمیشہ پابندی ہے وقت کے ساتھ مکمل کرنے کی عادت ہے۔ جو ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اسے احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں ۔۔اس لئے ان کے بارے میں یاد دوست کہتے ہیں کے

جس سے کبھی کہنا نہیں پڑا سوری
وہ ہے اختر غوری

یعنی ان کو اپنے کام میں کبھی بھی سوری کہنے کی ضرورت پیش ہی نہیں آتی کیونکہ وہ اپنا کام پوری لگن اور محنت سے کرنے کے عادی ہیں اس لیے ہر فورم پر ان کی تعریف کی جاتی ہے سینئر افسران ہو یا جونیئر سب ان کے ساتھ انتہائی عزت احترام سے پیش آتے ہیں وہ سب سے محبت کرتے ہیں سب کی عزت کرتے ہیں اور سب کا خیال رکھتے ہیں سچے پاکستانی ہیں۔

مختلف ادوار میں ان کی صلاحیتوں اور عمدہ کام سے حسد کرنے والوں نے ان کے راستے میں رکاوٹیں بھی کھڑی کی ۔۔۔۔روڑے بھی اٹکائے ۔۔۔ان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف لابنگ کی گئی۔ ان کے گرد گھیرا ڈالا گیا۔ سازشیں کی گئیں الزام تراشی اور جھوٹے قصے گھڑے گئے۔

لیکن بے شک اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے۔

ہر امتحان اور آزمائش میں اختر غوری اللہ کے فضل و کرم سے سرخرو ہوکر نکلے اور ان کے مخالفین اور حاسدوں کو منہ کی کھانا پڑی تمام سازشیں ناکام ہوئی۔

اختر غوری کے آگے بڑھنے کا سفر جاری رہا

اب وہ سیکرٹری ٹرانسپورٹ سندھ کی حیثیت سے صوبے میں جاری منصوبوں کی تکمیل اور نئے منصوبوں کو شروع کرنے پر پوری محنت اور توجہ سے کام کر رہے ہیں اور اس کے مثبت اور حوصلہ افزاء نتائج بھی برآمد ہو رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ آسان محکمہ نہیں ہے اسے ماضی میں مکمل اور علیحدہ محکمے کی حیثیت حاصل نہیں تھی اس لیے نہ تو اس کا عملہ پورا ہے نہ ہی اس کے الگ دفاتر ہیں افسران اور ملازمین کے پاس بیٹھنے کی جگہ تک نہیں اس محکمہ کے رولز آف بزنس بھی نہیں تھے یہ سب کچھ اختر غوری نے آکر دیکھا اور کام کو سدھارا اور اب یہ محکمہ پہلے سے کافی بہتر انداز میں کام کر رہا ہے ۔

کئی حوالوں سے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے اور عدالتوں کی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے اقدامات التوا کا شکار تھے وہ اختر غوری نے یقینی بنائے ہیں جس پر وہ مبارکباد کے حقدار ہیں ۔

محکمہ میں کئی چیلنج ہیں مسائل کا انبار لگا ہوا ہے وسائل کی بہت کمی ہے لیکن اختر غوری ہمت ہارنے والے افسروں میں نہیں ہیں انہوں نے ہمیشہ زیرو سے اسٹارٹ لے کر منزل مقصود تک پہنچنے کا چیلنج قبول کیا ہے اور آج بھی وہ پرعزم ہیں۔ ان کی سربراہی میں محکمہ ٹرانسپورٹ صوبائی حکومت کے ویژن اور صوبائی وزیر کی ہدایات کی روشنی میں مزید اچھے اور اقدامات اٹھا رہا ہے جن کے ثمرات جلد عوام تک پہنچنے کی امید ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں