پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف و یمن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار کی برطرفی پر پی ٹی آئی کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف و یمن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار کی برطرفی پر پی ٹی آئی کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف ایک مہم شروع ہوگئی ہے اور فوزیہ وقار کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔خواتین کے حقوق اور خواتین کی بہتری کے لیے زبردست کام کرنے پر فوزیہ وقار کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے اور ان کے کام کو شاندار قرار دیتے ہوئے ان کی فوری واپسی اور بحالی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے سہیل میڈیا کی ٹاپ ٹرینڈ میں فوزیہ وقار کی بحالی کا مطالبہ شامل ہے خواتین کی بحالی کے لیے پولیو کارڈ کی خدمات پر گہری نظر رکھنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختصر وقت میں نمایاں خدمات انجام دیں اور بہت اچھے اقدامات کئے جس پر ان کو شاباش کرنی چاہیے نہ کہ ان کو برطرف کیا جاتا ۔زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ فوزیہ وقار کو سیاسی بنیادوں پر ہٹایا گیا ہے۔


ان کے کنٹریکٹ کی مدت 2020 تک تھی لیکن انہیں مدد مکمل ہونے سے پہلے ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے عمر سیف اور سلمان صوفی پہنچایا گیا اور اب ہوگیا وقار کی برتن کی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے ہو کو تشویش میں مبتلا کر رہی ہے نسرین کے مطابق کھول دیا وقار کی سربراہی میں ایک بہت زبردست خواتین ہیلپ لائن شروع کی گئی تھی اور نگاہ میں کے حوالے سے خواتین میں آگاہی اور شعور بڑھایا گیا تھا ۔محمد سلیم نے یہ مشاہدہ بھی کیا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ آخر فوزیہ وقار کا قصور کیا ہے اور انہیں کس قصور کی پاداش میں عہدے سے یوں اچانک ہٹایا گیا ہے۔