لاڑکانہ میں بچوں کا اسپیشلسٹ ڈاکٹر کیوں نہیں؟ تکرار کے باعث بلاول کو اٹھ کر جانا پڑا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو لیاری کے بعد اب لاڑکانہ جیسے سیاسی گڑ ھ میں بھی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کا ماضی میں کوئی تصور نہیں تھا ۔لاڑکانہ جسے بھٹو خاندان کا مضبوط سیاسی گڑھ مانا جاتا ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو ۔بے نظیر بھٹو کامیابیاں حاصل کرتی رہی اور عوام کی خدمت ان کا نصب العین رہا ۔اسی لاڑکانہ میں اب پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی حکومتی کارکردگی کے حوالے سے عوامی احتجاج اور سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلاول بھٹو زرداری کو اپنے حالیہ دورہ لاڑکانہ میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی کے سیاسی مخالفین متحرک ہوگئے ہیں اور عوامی احتجاج بھی سامنے آنے لگا ہے جب سے لاڑکانہ میں ایڈز کے مریض بالخصوص بچوں میں ایڈز کا مرض سامنے آیا ہے اپوزیشن نے اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے بلاول کے لاڑکانہ میں جانے کے دوران بعض مقامات پر ان کے خلاف…. گو بلاول گو…. نو مور پی پی…. نو مور…. جیسے فلک شگاف نعرے بھی دیکھنے میں آئے۔


ایک موقع پر بلاول بھٹو زرداری کو اپنی پریس کانفرنس اس وقت ادھوری چھوڑ کر اٹھنا پڑا جب ان سے تکرار کی گئی کہ لاڑکانہ میں بچوں کا سپیشلسٹ ڈاکٹر کیوں نہیں ہے ؟ بلاول نے سوال اور تکرار کرنے والوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن تھوڑی دیر بعد انہیں وہاں سے مجبور اٹھ کر جانا پڑا۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بی بی اور بھٹو صاحب کے دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ۔اگر احتجاج کرنے والے آتے بھی تھے تو بی بی اور بھٹو صاحب ان کو راضی کر لیا کرتے تھے اور راضی کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ لیکن آج پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لئے حالات مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہے ہیں بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی پر عوام کا احتجاج بڑھتا جا رہا ہے ۔پیپلز پارٹی کی قیادت اگرچہ سندھ میں عوام کی اکثریت کا ووٹ لے کر بار بار برسراقتدار آنے میں کامیاب ہے لیکن اسے عوامی مسائل پر بہتر طریقے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے پارٹی کی قیادت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ لیاری کے عوام بھی پیپلز پارٹی سے ناراض ہوئے غریب لا ڑ کا نہ میں بھی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔



[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=2D6ywW5SOm8[/embedyt]