بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 15

اپنے ہی ساتھیوں کی سرزنش کا فیصلہ
میرے ساتھی اپنی سنگین غلطی کا شدت سے احساس کرتے ہوئے کہہ چکے تھے کہ وہ نادم ہیں لیکن سزا کے لیے تیار ہیں جو بھی سزا تجویز کی جائے گی وہ خوشی سے قبول کریں گے۔
میں اس بات پر اللہ تعالی کا شکر گزار تھا کہ مرتے مرتے اس ذات پاک نے ہمیں بچا لیا ۔اگر میرے ساتھی اگر ہ میں پکڑے جاتے تو ہم سب کی شامت آ جاتی اور ہمارا مشن ملیا میٹ ہو جاتا۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتاتا چلوں کہ پاکستان واپس آنے پر مجھے پتہ چلا تھا کہ آگرے میں پکڑے جانے والوں کا گروپ بھی پانچ افراد پر مشتمل تھا ۔یہ پانچوں آگرہ چھاؤنی میں دو اور تین کی ٹولیوں میں اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کی کوشش میں تھے کہ شک پڑنے پر ایف آئی یو ۔فیڈرل انٹیلی جنس یونٹ کے آدمیوں نے دو کو پکڑ لیا اور ڈی ایم آئی والوں کے حوالے کردیا۔باقی تین دور سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ان کا گروپ لیڈر بھی پکڑے جانے والوں میں شامل تھا باقی تینوں نے الگ الگ رہ کر ان کا پیچھا کیا اور وہ اسی شام سیف ہاؤس تک پہنچ گئے چار دن تک وہ اپنے گرفتار ساتھیوں کو چھڑوانے کی تد بیر کرتے رہے اس دوران گرفتار ساتھیوں پر درمیانہ تشدد بھی کیا گیا تینوں آزاد ساتھیوں نے بلآخر کمانڈو ایکشن کرنے کا فیصلہ کیا اور جس صبح میرے ساتھی وہاں پہنچے تو کمانڈو ایکشن کرکے وہاں پر موجود چھ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر کے وہ اپنے ساتھیوں کو چھڑوا کر لے گئے تھے موٹر کار بھی اسی رات گن پوائنٹ پر چھینی گئی تھی اور اگرہ اسٹیشن کے قریب اسے چھوڑ کر وہ پانچوں پہلے لکھنؤ اور پھر بھارت نیپال بارڈر پر پہاڑیوں سے گزرتے نیپال میں داخل ہوئے اور کھٹمنڈو سے اپنے سفارت خانے کے ذریعے پہلے ملائیشیا اور پھر بخیریت پاکستان پہنچ گئے۔



اگلے روز صبح ہی میں ساتھیوں کے گھر چلا گیا میں نے رات ہی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ سخت سرزنش کے سوا ان کے خلاف پاکستان میں ان کی اس حرکت کی رپورٹ نہیں کروں گا ۔میری اپنی پوزیسن بہت نازک تھی دشمن ملک میں ان سے کام لینا بہت ہی کٹھن تھا کیونکہ یہاں کسی اتھارٹی کا ان پر حکم چلانا اور حکم عدولی پر ان کو کوئی سزا دینے کا ذریعہ نہ تھا ۔میں اکثر اوقات ان سے دوستانہ ماحول میں بات کرتا اور نفسیاتی طور پر انہیں ہینڈل کرتا تھا اور اس مرتبہ بھی میں نے نفسیاتی طور پر ان سے نمٹنے کا سوچا ۔گھر پر میں نے ان چاروں کو ایک کمرے میں اکٹھا کیا اور کہا آپ لوگوں کی اس حرکت سے مجھ پر واضح ہو چکا ہے کہ آپ مجھ سے خوش نہیں ہیں ۔ہم سب یہاں اپنے وطن اور قوم کے مفاد میں جان کی بازی لگا کر آئے ہیں اور ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے اللہ پاک نے ہمیں غیر معمولی کامیابیوں سے نوازا ہے یہ سب کامیابیاں ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں ہر ٹیم کا ایک کپتان ہوتا ہے اور میں بھی اپنی ٹیم کا گروپ لیڈر ہوں۔ آپ کے اس اقدام سے میں سمجھتا ہوں کہ ا ب بحیثیت گروپ لیڈر مجھے آپ کا بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوگا لہذا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اتوار کو پاکستان سے آنے والے کوریئر ز کے ہمراہ پاکستان واپس چلا جاؤں…جب تک آپ کا نیا گروپ لیڈر آئے آپ نمبر ٹو کے احکامات پر عمل کریں گے ۔میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی اس حرکت کے بارے میں سینئرز کو کچھ نہ بتاؤں گا ۔میں یہ باتیں کہہ کر خاموش ہو گیا وہ چاروں پہلے تو گم صم مجھے دیکھتے رہے پھر یکلخت پھٹ بڑے۔



نہیں صاحب ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے ہم جان دے دیں گے لیکن آپ کو واپس نہیں جانے دیں گے آپ جو سزا چاہے ہمیں دے لیں لیکن اپنا یہ فیصلہ بدل لیں اگر آپ واپس چلے گئے تو ہم سب بھی آپ کے پیچھے پیچھے واپس پاکستان چلے جائیں گے چاہے وہاں ہمیں سزائے موت ہی کیوں نہ دی جائے۔
وہ سب بیک وقت بول رہے تھے ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے میں خود واپس پاکستان جانے اور اپنا مشن نامکمل چھوڑ کر جانے کی پاداش میں سزا بھگتنے کو تیار ہو جاؤں گا ۔جب ان کی منت سماجت بہت بڑھ گئی تو میں نے انہیں کہا۔
آپ نے ایک بار فوج میں بھرتی کے وقت حلف اٹھایا تھا دوسری بار بھارت آنے سے پہلے ۔اب میں آپ سے حلف تو نہیں اٹھوا ؤں گا صرف وعدہ لونگا کہ آپ آئندہ ایسی کوئی حرکت ہر گز نہیں کریں گے۔



ان سب نے باری باری اپنی ماں کو درمیان میں لاکر ایسا وعدہ کیا کہ میں کانپ اٹھا حالانکہ میں نے انہیں ایسا وعدہ کرنے کا ہرگز نہیں کہا تھا ۔چند لمحے پہلے والا ماحول یکسر بدل چکا تھا اور ہم سب کی آنکھیں پرنم تھیں میں نے سب کو باری باری گلے لگایا ۔بارش شروع ہو چکی تھی انہوں نے چائے بنائی چائے پینے کے تھوڑی ہی دیر بعد لذیذ کھانوں کی مہک آئی مالک مکان چار پانچ مختلف قسم کے کھانے لے کر آگیا سیڑھیوں پر کھڑی اس کی بیٹیاں کھانوں کی ٹریفک کھڑا رہی تھی اور وہ انہیں اندر لا رہا تھا میں حیران تھا کہ اچانک میزبانی کا آ ج کونسا موقع تھا مالک مکان نے بتایا کہ اس کی بڑی بیٹی کی منگنی طے ہو گئی ہے نزدیکی رشتہ داروں کی دعوت میں کرایہ داروں کو شریک نہ کرنا کسی طور مناسب نہ تھا اور پھر ہمسائے کے حقوق کے متعلق تو اسلام میں اتنی ہدایات ہیں کہ ایک موقع پر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمسائے کے حقوق بتا رہے تھے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ہمسائے کے حقوق بیان کئے گئے کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ وراثت میں بھی ہمسائے کا حصہ رکھنے کے احکام الہی نازل ہو جائیں گے ۔میں نے مالک مکان کی بیٹی کی منگنی پر انہیں مبارکباد دی لذیذ کھانوں کا شکریہ ادا کیا اور ساتھیوں کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ آئندہ چند روز میں ہم اپنی طرف سے پانچ بنارسی سوٹ مالک مکان کو بیٹی کی منگنی کے تحفے میں پیش کریں گے یوں شام تک ہم بے تکلفی سے باتیں کرتے رہے ۔صبح جو تلخی تھی وہ اب ختم ہو چکی تھی اور اس کی جگہ ایک خوشگوار اور اعتماد کی فضا نے لے لی تھی۔



یشونت نے حسب معمول ڈاک پہنچا دی تھی اور آئندہ اتوار تک میں فارغ تھا میں نے کرنل شنکر کے پاس جانے کا سوچا اور شام کو میں کرنل شنکر کی محفل میں بیٹھا تھا ۔آج اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا ۔کرنل نے خیرمقدم کیا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے میرا تعارف کروایا وہ آگرہ چھاؤنی میں 6 پنجاب رجمنٹ کا کمانڈنگ آفیسر تھا اور ہیڈ کوارٹرز میں کسی کام سے آیا تھا کرنل شنکر کی محفل ناو نوش جب عروج پر پہنچی . تو اس نے نشے میں جھومتے ہوئے مجھ سے پوچھا ۔ونود اگر تم اپنی بہترین چائے کی پیٹیاں کسی محفوظ جگہ پر کسی اور شخص کے حوالے کرو اور وہ پیٹیاں گم ہوجائیں اور تمہیں بعد میں معلوم ہو کہ تمہارا اعتباری آدمی لاپرواہ اور غافل شخص ہے تو اپنی ناسمجھی کا الزام تم خود کو دو گے یا اس شخص کو…. میں نے کچھ سوچ کر جواب دیا…. یقینی طور پر میں خود کو موردِ الزام ٹھہراو ں گا کیونکہ جس کے پاس میں نے پیٹیاں رکھی تھی مجھے اس کے متعلق پہلے ہی چھان بین کر لینی چاہیے تھی…. بالکل درست اور یہی بات میں کرنل رنجیت کو آج کئی بار سمجھا چکا ہوں لیکن کچھ بھی اس کے دماغ میں نہیں آرہا ۔اور اس کے بھیجے میں کچھ آپ بھی کیسے سکتا ہے….
کر نل شنکر کی اس بے تکلفانہ بات سے میں نے اندازہ لگایا کہ کرنل رنجیت اس کا پرانا اور بے تکلف یار ہے ۔شنکر نے رنجیت پر اپنی گولہ باری جاری رکھتے ہوئے کہا رنجیت تمہاری کم سے کم سزا میرے خیال میں ملازمت سے برخواستگی ہوگی۔
فوجی ہونے کی وجہ سے تمہیں کوئی دوسرا کام تو آتا نہیں اگر تم کہو تو میں ونود سے اسکے چائے کے کاروبار میں تمہیں شامل کرنے کی سفارش کر دوں۔
کرنل رنجیت سر جھکائے کرنل شنکرکے تمام حملے خاموشی سے سہہ رہا تھا تھوڑی دیر بعد کرنل شنکر نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔



پاکستانی میجر احسن اور اس کے ساتھیوں کے گرفتار ہونے اور ان کے مرنے کے بعد بھی انھوں نے اپنی روش نہ بدلی ۔چند روز بیشتر آگرے میں دو پاکستانی جاسوس پکڑے گئے تھے ۔ڈویژن کمانڈر نے کر نل رنجیت کے حوالے کردیا کہ FIU کے آدمیوں کے ذریعے ان کی تفتیش کریں .کرنل رنجیت نے اسے بلاوجہ کی سردر د ی سمجھتے ہوئے انہیں آگرہ میں ڈی ایم آئی کے حوالے کردیا۔ڈی ایم آئی اور ایف آئی یو میں ہمیشہ سے ایک تناؤ موجود ہے۔ڈی ایم آئی والوں نے یہاں اپنے ہیڈ کوارٹرز اور آرمی ہیڈ کوارٹرز کو مطلع کیا ا پنے ہیڈ کوارٹر کی طرف سے میں آگرہ گیا وہاں ڈی ایم آئی والوں کا میرے ساتھ رویہ ہتک آمیز تھا کیونکہ وہ صرف پردھان منتری کو جواب دیتے ہیں میں اسی روز واپس چلا آیا بی ایم آئی کے دہلی کے افسران ابھی آگرہ جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ پاکستانی جاسوسوں کے ساتھیوں نے نہ صرف انہیں چھڑا لیا بلکہ پہر ے پر موجود ہمارے 6 جوانوں کو بھی ہلاک کر دیا۔اب کرنل رنجیت کو یہاں جواب دہی کے لیے بلوایا گیا ہے اس کا جی او سی بھی اس کے ہمراہ آیا ہے اسے بھی کرنل رنجیت کی طرح اپنی غفلت کی جواب دہی کے لیے بلایا گیا ہے رنجیت میرا پرانا دوست ہے اور میں اسے بچانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں لیکن اپنے جرنل کے سامنے میں کس حیثیت میں اس کی صفائی دے سکتا ہوں….


….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار