بدقسمت خاندان کی کہانی

یہ ان پھول جیسے بچوں کی تصویریں ہیں جو خضدار سے کراچی کے سفر کے دوران ناجانے کس خراب کھانے کا شکار ہوئے اور موت کے منہ میں چلے گئے دونوں صوبوں کی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں اور اپنی جان چھڑا رہی ہیں کراچی کا نو بہار رسٹورنٹ ہو یاراں خضدار سے کراچی کے راستے میں آنے والے ریسٹورنٹس۔ اب تک پتا نہیں کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کہتے ہیں کہ قصر ناز میں کیڑے مار دوا ٹیلی گیسی ہوسکتا ہے اس کا اثر ہوا ہو گی ان کے بچوں نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھانے میں ہی کوئی پرابلم تھی۔ تحقیقات کا آرڈر دے دیا گیا ہے ہر طرح کی انکوائری کے بعد پتہ چلے گا کہ پرابلم کیا تھی۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ایک واقعہ دلپسند پر ہوا دوسرا واقعہ زمزمہ کے ریسٹورنٹ میں پیش آیا۔ فوڈ اتھارٹی کافی متحرک ہوچکی ہے۔

کھانوں کے نمونے بھی لیبارٹریز میں بھیجے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔لیکن جو نتائج ہیں وہ تسلی بخش نہیں ہے۔ ایک کے بعد دوسرا اور یکے بعد دیگرے اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا سوالات اٹھاتا ہے۔ متعلقہ حکام کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کریں اور جہاں بھی غفلت کے مرتکب جو بھی ادارے اور افراد موجود ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔ ان چیزوں کو دبانے کی بجائے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہیے۔ کراچی میں مضر صحت کھانے سے جاں بحق ہونے والے 5بچوں کے میتیں کوئٹہ پہنچادی گی۔ صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی،ملک نعیم بازئی اور صوبائی وزیرصحت نصیب اللہ مری اور رکن اسمبلی واحد صدیقی اور کمشنر کویٹہ بھی ائیرپورٹ پر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں