63

اسمگلنگ اور مس ڈیکلئیریشن پر قابو پانے کے لیے ٹاسک فورس اور جے آئی ٹی تشکیل دی جائے ۔ پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین طارق حلیم کی جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت

رپورٹ… صہیب سالک

 بزنس لیڈر طارق حلیم نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئےچیئرمینایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ  اسمگلنگ اور مس ڈیکلئیریشن پر قابو پانے کے لیے ٹاسک فورس اور جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ 
طارق حلیم کا شمار پاکستان کے نامور بزنس کمیونٹی لیڈرز میں ہوتا ہے آپ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر رہ چکے ہیں آپ نے اپنی ذہانت و قابلیت اور خدادا صلاحیتوں کی بدولت پاکستان کے بزنس حلقوں میں ایک منفرد مقام اور اپنی الگ شناخت قائم کی ۔آپ خوش گفتار ۔خوش لباس اور خوش مزاج شخصیت کے مالک ہیں ۔اعلی ٰاخلاقی اقدار آپ کے مضبوط خاندانی پس منظر کی عکاس ہیں۔



آپ پاکستان کے تجارتی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کی بہتری اور تجارت کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت تجاویز مختلف فورمز پر دیتے رہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے طارق حلیم یہی باتیں کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کے دستیاب بہترین وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے کسی بھی ملک کی خوش قسمتی ہوتی ہے کہ اس کے پاس سمندر ہو اور پاکستان کو اللہ تعالی نے نہ صرف سمندر دیا ہے بلکہ شاندار بندرگاہیں بھی دی ہیں جن پر بہترین مواقع موجود ہیں ہمیں صرف ان بہترین مواقعوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی تجارت کو فروغ دینا چاہیے جب قدرت نے ہمیں بہترین مواقع میسر کر رکھے ہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے تھوڑا سا سوچنے اور اقدامات اٹھانے ہیں پھر فائدہ ہی فائدہ۔



گزشتہ دنوں جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے نامور بزنس کمیونٹی لیڈر طارق حلیم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ سمندری تجارت کو مضبوط بنائے پاکستان کے پاس کنٹینر کیریئر ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سمندر کے وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے پاکستان کو اللہ تعالی نے آ بی حیات کے حوالے سے بھی مالا مال کر رکھا ہے اگر ہم سمندری حیات کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانے کی کوشش کریں تو اپنی ماہی گیری اور سی فوڈ ایکسپورٹس کو فروغ دے سکتے ہیں لیکن ہم نے کراچی جیسے بڑے شہر کو نظرانداز کیا ہوا ہے کراچی کا سارا کچرا تو اٹھا کے سمندر میں پھینک دیتے ہیں ڈی سیلینیشن پلانٹ بھی لگانا چاہیے اور ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگنا چاہیے تاکہ جو گندا پانی سمندر میں گرتا ہے وہ روکا جاسکے اور پانی کو ٹریٹ کیا جائے جتنا سمندری پانی کو کھا ر ے سے میٹھا بنانے کے پلانٹ دنیا بھر میں لگے ہوئے ہیں ہم بھی یہ کام کر سکتے ہیں پانی میں رہائشی ضرورت کے مطابق پانی کی کمی ہے اس پانی کی کمی کو بھی دور کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ صنعتی اور کمرشل استعمال کیلئے بھی پانی درکار ہے۔
طارق حلیم نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سمندری وسائل کی اہمیت کو پہچانیں اس کا احساس کریں ا س کا ادراک رکھیں اس سے مستفید ہونے کی کوشش کریں دنیا میں بے شمار ممالک ایسے ہیں جو سمندری وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں پاکستان بھی بآسانی ایسا کر سکتا ہے۔



انہوں نے بتایا کہ ایشیا میں 17 سو بیس سے مختلف بندرگاہیں اور جیٹیاں کام کر رہی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سمندری تجارت کو ملکوں نے کتنی اہمیت دی اور راہداریوں کے ذریعے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ اپنی بندرگاہوں کو فروغ دے مزید بندرگاہیں اور جیٹیاں قائم کرے اور جو بندرگاہیں اور جیٹیاں موجود ہیں ان کو مستحکم کرکے یہاں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔
طارق حلیم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سمندری راستے ہو یا زمینی ۔ہر جگہ ہونے والی اسمگلنگ کو روکنا چاہیے اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ مس ڈیکلئیریشن ۔انڈر انوائسنگ ۔اوور انوائسنگ جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے یا جے آئی ٹی تشکیل دی جائے جو جنگی بنیادوں پر ان جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے اور غیر قانونی کام کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی سرکوبی کرے انہوں نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس حوالے سے نوٹس لیں ایکشن لینے اور ٹاسک فورس یا جے آئی ٹی تشکیل دی جائے ۔جس میں کسٹمز انٹیلی جنس ایف آئی اے تمام بارڈر اتھارٹیز ۔وزارت داخلہ پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی جائے اور اسمبلی سمیت انڈرانوائسنگ اوور انوائسنگ اور مس ڈیکلئیریشن جیسے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں