ادریس بختیار … صحافت کا ایک اجلاعہد تمام ہوا

معروف سینئر صحافی ادریس بختیار طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے، وہ پچاس سال سے زیادہ عرصے تک شعبۂ صحافت سے وابستہ رہے۔ا پ کو تین روز قبل طبیعت ناسازی کے بعد قومی ادارہ برائے امراضِ قلب کے ہسپتال لایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں طبی امداد فراہم کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔مرحوم کی نمازِ جنازہ بعد نمازِظہر گلشن اقبال 13 ڈی وسیم باغ مسجد میں ادا کی جائے گی۔صحافت کا درخشندہ ستارے کے بجھ جانے پر سب ہی افسردہ ہیں گذشتہ ہفتہ کے یو جے دستور کی افطار میں میرے ساتھ والی ہی نشست میں کھانا کھایا،سلمان علی نے کھانا سامنے رکھا بہت ہی کم لیا،



بہت خاموش خاموش تھے کئی موضوعات پر تبصرے ہورہے تھے لیکن آپ بالکل خاموش ہی رہے ،یقیناً طبیعت کی وجہ سے گفتگو کا دل نہیں چاہتا ہوگا شاید افطار سے واپسی میں ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی۔جیو میں نیوز کے کونٹینٹ کو دیکھتے رہے پھر وہاں سے کچھ عرصے قبل ہی فارغ ہوئے۔کئی مرتبہ فون پر بعض پروگرام کے سینسر پر رائے کا تبادلہ ہوا۔ادریس بختیار نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز حیدر آباد سے کیا تاہم جلد ہی کراچی منتقل ہوگئے تھے، وہ طویل عرصے تک برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستہ رہےاور کئی نامور اخبارات میں کام کرچکے تھے۔
ادریس بختیار 24 فروری 1944 کو پیدا ہوئے انکی عمر 75 برس تھی ،انہوں نے سوگواران میں بیوہ ، تین بیٹے ، پانچ بیٹیاں چھوڑے ہیں ۔اپ نے 1971 میں سندھ یونیورسٹی ماسٹرز کیا… انہوں نے عملی صحافت کا آغازڈیلی انڈس ٹائمز حیدرآباد سے کیا ، اسکے بعد وہ کراچی آگئے اور 1969 سے 1973 تک نجی خبر رساں ایجنسی پاکستان پریس انٹر نیشنل (پی پی آئی ) سے وابستہ رہے ، ادریس بختیاراگست 1980 سے نومبر 2012 تک معروف بین القوامی جریدے ہیرالڈ میں بطور چیف رپورٹر اور ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کے طور فرائض انجام دئیے،



جبکہ مئی 1992 سسے فروری 2007 تک برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سی بھی وابستہ رہے اسکے علاوہ وہ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے پاکستان میں نمائیندے اور عرب نیوز جدہ میں انچارج ایڈیٹر کے طور پر بھی فریض انجام دئے ، آخری دنوں میں وہ جیو نیوز میں ہیڈ آف ایڈیٹوریل کمیٹی کے طور پر فرائض انجام دئے جبکہ روزنامہ جنگ میں “شورش دل” کے عنوان سے باقاعدگی سے کالم بھی لکھا کرتے تھے ۔ اسکے علاوہ وہ دیگر مختلف قومی اخبارات سے بھی وابستہ رہے۔ حکومت پاکستان نے ادریس بختیار کو صحافت کے شعبے میں اعلی خدمات پر صدارتی ایواڈ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا ۔ وہ 2011 سے 2014 تک پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر بھی رہے ۔اپ کی رحلت اجلی صحافت کا بڑا نقصان ہے۔اللہ مغفرت فرمائے۔