سوشل میڈیا پر (پاکستانی اشیاء کو ترجیح دیں) مہم کی مقبولیت میں اضافہ

پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے بعد ڈالر کے بائیکاٹ کی مہم نے کافی پذیرائی حاصل کر رکھی ہے جس کی وجہ سے لوگ ڈالر مارکیٹ میں پھینک رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں استحکام آتا جا رہا ہے ڈالر کے بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر ایک اور مہم بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جس کا عنوان ہے۔
پاکستانی اشیاء کو ترجیح دیں
اس مہم کے تحت ایسی اشیاء کی تصاویر اور نام آویزاں کیے جارہے ہیں جو پاکستان میں بنتی ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے مقابلے پر بیرون ملک سے آنے والی اشیاء اور مصنوعات کی تصاویر بھی آویزاں کی جارہی ہیں تاکہ عوام کو آگاہی دی جا سکے کہ کن چیزوں کی پاکستان میں کپ ہو رہی ہے۔



ان میں سے کون سی اشیاء پاکستان میں بنتی ہیں اگر پاکستان میں بننے والی مصنوعات کو ترجیح دی جائے تو قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے اور پاکستانی معیشت کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں ہر پاکستانی اپنا کردار مثبت انداز سے ادا کر سکتا ہے اس مہم کے تحت اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جو مصنوعات اور اشیاء پاکستان میں دستیاب ہیں انہیں باہر سے مت منگوایا جائے یا ان کا استعمال ترک کردیا جائے۔



ایسے بہت سے فروٹ پھل سبزیاں مچھلی مکھن وغیرہ مارکیٹ میں دستیاب ہیں جنہیں پاکستان میں تیار کیا جارہا ہے اور ان کے مقابلے میں ملٹی نیشنل کمپنیاں باہر سے ایسی مصنوعات پاکستان میں لاکر فروخت کر رہی ہیں اگر پاکستانی اپنی بنی ہوئی مصنوعات کو استعمال کرنا شروع کردیں تو قیمتی زرمبادلہ باہر جانے سے بچایا جا سکتا ہے اس طرح ہم اپنی معیشت کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں نوجوانوں بالخصوص کالج یونیورسٹی کے طالب علموں میں یہ مہم کافی مقبول ہو رہی ہے ۔