انٹر بورڈ کراچی میں عظیم صدیقی کی کرپشن کے ثبوت مٹانے کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آگئے

کراچی-اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے سابق قائم مقام ناظم امتحانات عظیم صدیقی عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد دو کاٹن بھر کے امتحانی کاپیاں، ایوارڈ لسٹیں اور دیگر اہم دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے ہیں، بورڈ انتظامیہ نے یہ حساس نوعیت کی چیزیں ساتھ لے جانے پر عظیم صدیقی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، ذرائع کے مطابق اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نے رواں امتحانات کے نتائج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرنے کی منصوبہ بندی پکڑنے کے بعد اس وقت کے ناظم امتحانات عظیم صدیقی کو عہدے سے برطرف کردیا تھا،



ذرائع کا کہنا ہے کہ عظیم صدیقی نے کنٹرولر آفس کی چابیاں کئی روز تک اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں اور ایک رات آٹھ سے دس بجے کے درمیان اپنی اہلیہ کے ہمراہ آکر رات کے اندھیرے میں آفس کھول کر گھر سے ساتھ لائے ہوئے دو بڑے کاٹنز میں بھر کر امتحانی کاپیاں اور دیگر دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے، ذرائع کے مطابق ان کاٹنز میں عظیم صدیقی کے دور میں سپلیمینٹری امتحانات 2018کے نتائج میں ردوبدل کئے جانے والے امیدوار وں کی کاپیاں بھی تھیں جوکہ ثبوت مٹانے کے لئے ساتھ لیکر چلےگئے،



اس کے باوجود اینٹی کرپشن کے اہلکاروں نے عظیم صدیقی کے دور میں نتائج تبدیل کئے جانے والی چند کاپیاں پکڑ لی ہیں مگر اس کے خلاف تاحال کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق عظیم صدیقی اپنے مخالفین کی بچوں کی کاپیاں اور ایوارڈ لسٹیں بھی ساتھ لیکر چلے گئے ہیں، اور اب ان کی کاپیاں غائب ہونے کا پروپیگنڈہ بھی از خود شروع کیا ہے تاکہ الزام ان پر دھرا جاسکے، ذرائع کا کہنا ہے کہ عظیم صدیقی نے بورڈ کے افسران کے توسط سے اسکروٹنی کے لئے اپلائی کرنے والے چند امیدواروں کی کاپیوں پر ا زخود نمبر تبدیل کر کے اس کا الزام بھی سابق ناظم امتحانات اور بورڈ کے دیگر افسران پر ڈال رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاسکے اور دباوٗ میں آکران کی کرپشن کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ بندی کا ماسٹر مائنڈ بورڈ کا کرپٹ ملازم ساجد رضا ہے۔