میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟

جیو ٹی وی کی مشہور اینکر پرسن عائشہ جہانزیب نے اسلام آباد کی دس سالہ نہیں بچی فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے انتہائی شرمناک افسوسناک واقعہ اور اس کے قتل کے حوالے سے انتہائی لرزا دینے والا مضمون لکھا ہے جس میں معاشرے کی بے حسی کا ماتم کیا ہے اور معصوم بچوں کے ساتھ آئے روز ہونے والے درندگی کے واقعات جن پر انسانیت شرمسار ہو جائے کا نوحہ پڑھا ہے۔ عائشہ جہازیب لکھتی ہیں کہ کیا انسانی بھیڑیوں کو کوئی کیفرِ کردار تک نہیں پہنچائے گا؟ انصاف کا ترازو پہلے تو خاموش رہا اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا کہ میں پشیمان۔اے بنی آدم میں تمہیں انصاف نہ دلا پا یا ہوں۔ قانون لو نڈ ی ہے ان کے ہاتھ کی جسے یہ جب چاہیں اپنی رکھیل بنا لیں۔



انصاف کا ملنا قریب قریب ناممکن ہے اور اگر قانون موجود بھی ہے تو کوئی پاسداری کروانے والا نہیں ۔اگر میں توازن رکھو بھی تو کیسے رکھوں۔ عائشہ جہازیب مزید لکھتی ہیں کہ  کیسے لوگ ہو تم بچوں کے روز روز مرنے سے بے حس ہوچکے ہو۔تم ان معصوموں کی آہ و پکار ان کی فریاد نہیں سنتے ۔اور خود کو دھوکے میں رکھے ہو کہ تم اب بھی ایک زندہ قوم ہو مگر افسوس کہ تم لوگ تو کب کے مر چکے ہو۔ ان مرے ہوؤں کی بستی میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟