بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 14

ساتھیوں کے چھوڑے گئے خط نے مجھے اور زیادہ پریشان کردیا ناکامی کی صورت میں انہوں نے اپنی جان دینے اور راز نہ بتانے کا کہا تھا اس جذباتی پس منظر میں ایسے جذباتی عہد کوئی اہمیت نہیں رکھتے ۔میرا نمبر ٹو بھی خط پڑھ کر حیران رہ گیا اس نے سارا گھر ان کی گمشدگی کے سرا غ کی تلاش میں الٹ پلٹ کر دیا تھا لیکن گھبراہٹ میں اپنے کمرے میں ٹائم پیس کی طرف دھیان نہ دیا یہ خط ملنے کے باوجود میں نے نمبر ٹو کے ساتھ مل کر ضروری سامان اٹھایا اور چھتہ لال میاں میں ایک معمولی ہوٹل میں دو کمرے لیے ۔گھر کے دروازوں کی ایک ایک چابی سب کے پاس تھی لیکن تینوں ساتھی اپنی چابیاں بھی وہیں چھوڑ گئے تھے ۔مالک مکان کے گھر والوں کو ہم نے چابیوں کا ایک سیٹ دیا اور میرے نمبر ٹو نے کہا اس کے ساتھی کسی ضروری کام کی وجہ سے بیرون دہلی گئے ہیں اور جلدی میں چابیاں بھول گئے ہیں اسے بھی کسی پارٹی کو سامان ڈلیور کرنے کے لئے جانا پڑ رہا ہے اس کی واپسی سے پہلے اگر اس کے ساتھ ہی آ جائیں تو نہیں چابیاں دے دیں ۔



چھتہ لال میا ں سے میں سیدھا اپنے ہوٹل پہنچا اور اپنے چند جوڑے کپڑے ایک سوٹ کیس میں رکھ دئیے ۔اہم کاغذات پر سارے روپے لاکر سے نکال لئے ۔سائلینسر والا اسٹل بھی سوٹ کیس میں رکھا اور چھتہ لال میاں کے ہوٹل میں پہنچ گیا ۔دن کا باقی حصہ اور رات ہم نے آنکھوں میں کاٹی یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی بڑے زلزلے کی وجہ سے ساری عمارت ڈھیر ہو گئی ہو ۔آئندہ مشن کی بات تو ایک طرف رہی ہم دونوں اب یہ سوچ رہے تھے کہ کسی طرح ہم آنے والے کورئیر کو ڈاک دے سکیں میرے نمبر ٹو نے کہا کہ ہمیں ٹرانسمیٹر پر پاکستان رابطہ کرنا چاہئے میں نے اس تجویز کو فوری ا س بنا پر رد کر دیا کہ بھارتی سول و فوجی جاسوسی کے محکمے میجر احسن اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کی وجہ سے پہلے ہی چوکنا ہو چکے تھے اور اب ان ہمارے دو نئے جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد تو وہ ایمرجنسی کی حالت میں ہوں گے ان حالات میں ٹرانسمیٹر پر لمبا پیغام بھیجنا خود ان اداروں کو اپنی نشاندہی کرنے کے مترادف ہوگا میرے نمبر تو نے یہ بھی کہا کہ ہمارے تینوں ساتھی کامیابی کے ساتھ خیریت لوٹ بھی آئے تو انہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی کی وجہ سے کورئیر کے ہمراہ واپس بھیج دیا جائے ۔میں نے جواب دیا کہ فی الحال انتظار کرو اور دیکھو ۔اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اس انتہائی اہم ڈاک کو پاکستان بھجو آنا ہے ۔ان تینوں نے جو حرکت کی تھی وہ جذبات سے قطع نظر انتہائی فاش غلطی اور جان بوجھ کر ڈسپلن کی شدید خلاف ورزی تھی مجھے یہ بھی حتیٰ کہ ان کی بخیروعافیت واپسی کی صورت میں اگر انہیں پاکستان واپس بھیجا گیا تو وہ کورٹ مارشل کے خوف سے کہیں راہ میں ہی فرار نہ ہو جائیں ۔انہوں نے خط میں اپنے جذبات لکھ کر اپنی دانست میں تو اپنے حصے خدام کو جائز قرار دیا تھا لیکن میرے لیے مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا تھا ۔میں نے حالات کے تقاضے کے پیش نظر ان کی بخیریت واپسی ورنہ بصورت دیگر ان کے پاس آنے کی ان کی لکھی ہوئی مدت کے دو دن بعد تک ان کا انتظار کرنے کے بعد ہی پاکستان کو ان کے بارے میں مطلع کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ دورانیہ اتوار تک کا بنتا تھا جس روز اسپیشل کوریئر ز نے مجھے ملنا تھا ۔5 مئی سے اب ہم صرف دو باقی تھے میں نے اپنے نمبر ٹو کو کہا کہ جب تک حالات کسی ڈھب بیٹھ نہ جائیں ہم دونوں ایک دوسرے کو کو ر کریں گے اور تنہا ہرگز باہر نہ جائیں گے۔



اگلے روز دس بجے کے قریب ہم دونوں ان کے گھر کے سامنے سڑک پر پہنچے تو اتفاق سے مالک مکان مل گیا اس نے میرے نمبر ٹو کو بتایا کہ آج صبح وہ تینوں گھر آگئے ہیں ۔ہم بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو وہ سو رہے تھے نمبر ٹو نے جگایا مجھے نمبر ٹو کو دیکھ کر وہ اس قدر گھبرائے کہ آنکھیں نہ ملا سکتے تھے ۔میں نے انہیں بالکل نارمل لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا ختم لگ گیا تھا لہذا وجوہات بیان کرنے کے بجائے مفصل طور پر اپنے جانے اور واپس آنے تک کے واقعات بتاؤ ۔ صرف ایک آدمی بولے باقی خاموش رہیں ۔
یہ سن کر ہمارا وہ ساتھی جو جوڈو کراٹے کا ماہر تھا کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا سر ہم سے بڑی غلطی ہوئی جو یہ حرکت کر بیٹھے ۔
میں نے اسے ٹوکا ۔۔۔صرف وہ بتاؤ جو میں نے پوچھا ہے غلطی ہوئی یا نہیں اس کا فیصلہ آباد میں ہوگا میرے لہجے میں کرختگی آ چکی تھی وہ گھبرا گیا اور کہنے لگا ۔
سر آپ کے جانے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ آگرہ میں گرفتار دونوں پاکستانیوں کو بچانا ضروری ہے ہمیں یقین تھا کہ آپ ہمیں ہر گز اس کی اجازت نہ دیں گے اس لیے ہم نے طے کیا کہ آپ کی لا علمی میں ہی یہ کام کیا جائے۔



ہم تینوں مسلح ہوکر ریلوے اسٹیشن پہنچے اور رات 11:00 آگرہ جانے والی گاڑی پر سوار ہوئے یہ پیسنجر گاڑی تھی ہر اسٹیشن پر رکتی اور دوسری گاڑیوں کو پاس کرواتی صبح راجہ کی منڈی اسٹیشن پر پہنچی ۔ہم گاڑی سے اتر گئے اور سیف ہاؤس کا جو نقشہ آپ نے بتایا تھا اس طرف چل پڑے ہم نے سوچا تھا کہ دن بھر ان کی نگرانی کے بعد رات کو کمانڈو ایکشن کرکے انہیں چھڑوانے کی کوشش کریں گے ریلوے اسٹیشن سے ہی ریلوے پٹریوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جو آگرہ کینٹ اسٹیشن تک جاتا ہے صیف ہاوس کے سامنے ریلوے پٹریوں کی دوسری جانب ایک اچھی بستی بنی ہوئی ہے وہاں بہت سے لوگ جمع تھے جو سیف ہاؤس کی طرف اشارہ کر کے بول رہے تھے ہم بھی ان میں شامل ہو گئے سیف اور اس کے سامنے کی فوجی اور ایمبولینس کھڑی تھی اور ملٹری پولیس والے صفحات کی طرف کسی کو جانے نہیں دیتے تھے اچھی بستی والے بھی اپنے گھروں کے سامنے دور سے ہی دیکھ رہے تھے ہمارے پوچھنے پر مختلف لوگ مختلف باتیں کرنے لگے ہر کوئی اپنے اپنے خیال کے گھوڑے دوڑا رہا تھا لیکن یقین سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے ایمبولینس اور جیپوں کی موجودگی سے معلوم ہوتا تھا کہ کسی سینئر افسر کی آمد کا انتظار کیا جارہا ہے ملٹری پولیس والے پٹری کی دوسری طرف سے ان لوگوں کو گھروں کے اندر جانے کا کہہ رہے تھے لیکن پٹریاں عبور کر کے وہ شہریوں کو زبردستی گھروں میں دھکیل نہیں رہے تھے شاید اس کی وجہ بھارت میں مارشل لاء کا نہ لگنا اور فوج کا شہری معمولات میں دخل اندازی کی حدود کا تعین تھا ۔ہم نے دیکھا کہ ریلوے کا ایک ملازم اپنی وردی میں اس بستی میں داخل ہوا اور جلد ہی لوگوں نے اسے گھیر لیا اس نے بتایا کہ صبح کے تین بجے کے قریب وہ ڈیوٹی پر جانے کے لئے گھر سے نکلا ہی تھا کے سامنے والے گھر سے ہاؤس کے اندر اور باہر گولیاں چلنے کی آواز آئی صفہ اس کے متعلق کچھ نہ جانتا تھا وہ ۔اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس گھر میں کچھ فوجی رہتے ہیں اور کبھی کبھی چیخیں بھی سنائی دیتی ہیں جیبوں میں سوار فوجی افسر بھی یہاں آتے جاتے دکھائی دیتے تھے۔



اس نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گولیوں کی آواز سن کر وہ بکریوں کے ساتھ ہی نشیب میں لیٹ گیا اس گھر کے باہر اور اندر ہلکی پاور کے بلب جل رہے تھے ۔اس روشنی میں اس نے دیکھا کہ فوجی وردی پہنے ہوئے تین آدمی گھر کے باہر گولیاں لگنے سے مر چکے ہیں اور گھر کے اندر سے بھی فائرنگ کی آواز آ رہی ہے فائرنگ روکی تو چند منٹوں بعد پانچ آدمی جو شہری کپڑے پہنے ہوئے تھے دو اور شہری کپڑے پہنے آدمیوں کو سہارا دیتے ہوئے مکان سے باہر آئے کچھ فاصلے پر ایک موٹر کھڑی تھی وہ سب اس موٹر میں جاکر بیٹھ گئے اور موٹر تیزی سے پکی سڑک کی طرف بڑھی اور غائب ہوگئی یہ سب دیکھ کر وہ بہت ڈرا اور بھاگتے ہوئے اسٹیشن جا کر حاضری کا رجسٹر پر دستخط کیے اور ڈیوٹی دینے لگا جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی اور چھٹی لے کر اب وہ گھر جا رہا تھا وہ اس بارے میں فوجیوں کو کوئی بیان نہیں دے گا ورنہ پرائ مصیبت گلے لگ جائے گی اس کی باتیں سن کر وہاں موجود لوگوں نے پھر تبصرے شروع کردیے ۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک جی پائیں جس پر ایک اسٹار لگا ہوا تھا یقینی طو ر اسی برگیڈیئر کا انتظار ہو رہا تھا وہ دوسرے جونیئر افسران کے ساتھ سیف ہاؤس کے اندر گیا اور تھوڑی دیر بعد ہی باہر آ گیا جونیئر افسران سے چند منٹ باتیں کی اور اپنی جیب میں بیٹھ کر چلا گیا۔



ریلوے ملازم کے کہنے کے مطابق تین فوجیوں کی لاشیں جو اس نے سیف ہاؤس کے باہر دیکھی تھی وہ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ایمبولینسز میں رکھ دی گئی تھی سورج کی روشنی میں ہم نے دیکھا ان لاشوں کی جگہ چونے سے لاشوں کی پوزیشن بنا دی گئی تھی ۔سیف ہاؤس کے اندر سے تین فوجیوں کی لاشیں ہمارے سامنے دوسری ایمبولینس میں ڈال دی گئی صفحہ اس کو تالا لگا کر دو فوجیوں کو پہلے پر کھڑا کر دیا گیا اور پہلے ایمبولینسز اور پھر باقی جی پی بھی وہاں سے چلی گئی ہمارا وہاں ٹھہر نہ بے کار اور خطرناک تھا لہذا ہم اسی راستے سے راجہ کی منڈی اسٹیشن پر پہنچ گئے اور دہلی کی طرف جانے والی جو پہلی ٹرین ملی اس پر سوار ہو گئے اسٹیشن پر بہت سارے فوجی سپاہی اور افسران اور سفید کپڑوں میں فوجی جاسوس جو اپنے ہیئر کٹ کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے کتوں کی طرح بھاگتے ہوئے کسی کو تلاش کر رہے تھے ہم نے دہلی کے بجائے امبالے کے ٹکٹ لیے تھے لیکن پلیٹ فارم پر فوجیوں کی پوچھ گچھ بچ سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا مجھے ایک ترکیب سوجھی میں نے اپنی کلائی گھڑی جیب میں رکھ لی اور ایک کیپٹن کے پاس جا کر اسے نمستے کیا اور وقت پوچھا اس نے وقت بتا دیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ انبالہ جانے والی گاڑی کب آئے گی اس نے جھلا کر کہا ریلوے کے کسی آدمی سے پوچھو مجھے کیا معلوم۔



گاڑی تو پلیٹ فارم پر ہی کھڑی تھی میں نے ویسے ہی ریلوے کے ایک پولیس سے گاڑی کا پوچھا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کیپٹن کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے پھر نمستے کیا کیپٹن تو پلیٹ فارم پر ایک جگہ کھڑا تھا جبکہ باقی فوجی پلیٹ فارم پر بکھرے ہوئے تھے مجھے ایک کیپٹن سے ایک آدمی نیٹ بات کرتے دیکھ کر باقی فوجی ہمیں اس کا واقعہ سمجھے اور ہم بغیر کسی پوچھ کے ایک ڈبے میں سوار ہوگئے اور بخیریت دہلی پہنچ گئے رات ہم نے ویٹنگ روم میں ہی بسر کیں کیونکہ اسٹیشن پر فوجی چیکنگ کر رہے تھے ہم سے بھی انہوں نے پوچھا تو ہم نے کہا کہ راجہ کی منڈی سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے اور ابا لے جانا ہے کیونکہ جس ٹرین سے ہم آئے ہیں وہ صرف دہلی تک کی تھی لہذا امبالہ جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہے ہیں ہم نے انہیں ٹکٹ دکھا کر مطمئن کردیا اور وہ آگے بڑھ گئے یہاں آکر ہمیں شدت سے احساس ہوا کہ آپ کی اجازت کے بغیر ہم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ڈرتے ڈرتے ہم گھر پہنچے ہم نے سب حقیقت بیان کردی ہے ہمیں اپنی سنگین غلطی کا شدت سے احساس ہے اور ہم اپنی اس حرکت پر بے حد نادم ہیں آپ ہمارے لئے جو بھی سزا تجویز کریں گے ہمیں خوشی سے قبول ہوگی۔

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار