تکبر سے بات کرنے والے اسد عمر سے زیادہ کسی سیاسی کارکن کی اور کیا تذلیل ہو سکتی ہے؟ خواجہ آصف

سابق وزیر خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ بڑے تکبر کے ساتھ یہ اسمبلی میں بات کیا کرتے تھے ان کو اپنی حکومت نے رخصت کردیا کسی سیاسی کارکن کی اس سے زیادہ تذلیل نہیں ہوسکتی جس طرح سابق وزیر خزانہ کو رخصت کیا گیا ۔اسٹیٹ مین بازار تھانہ میں آئی ایم ایف کے لوگ ہی ڈٹ گئے ہیں اتنا دیوالیہ پن کسی اور جماعت میں نہیں جتنا پی ٹی آئی میں ہے ۔ہماری معاشی آزادی پر سمجھوتا ہوچکا ہے اس وقت جو معیشت کو چلا رہے ہیں ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں آئی ایم ایف کے لوگ ہماری معیشت پر بیٹھ گئے ہیں۔



خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی چیئرمین نیب کے معاملے کی تحقیقات کرے پی ٹی آئی کے اندر لوگ عمران خان کو تبدیل کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں پی ٹی آئی کے لوگوں کا نام نہیں لے رہا لیکن اسپیکر صاحب کو پتہ ہے جس پر سپیکر نے کہا کہ مجھے پارٹی کے لوگوں کا نہیں پتا جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کو وزیر خزانہ نہیں ملا ان کو لیز پر لینا پڑا ہے موجودہ وزیر خزانہ مشرف دور اور پیپلز پارٹی دور میں بھی رہا ہے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے شہروں میں دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے سیالکوٹ میں باجوڑ کا محلہ ہے کراچی بھرا پڑا ہے ہم سب کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں وہاں کے لوگوں کے مسائل اور تحفظات کو سیاسی طریقے سے حل کریں ایسا نہ ہونے دیں کہ تشدد کی فضا قائم ہو مسلم لیگ نون کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے تقریر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے مذہبی نسلی اور لسانی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔



ہمیں ان تمام معاملات کو سیاسی اور ان کے ذریعے حل کرنا چاہیے بلوچستان کے پی کے تمام مسائل کو سیاسی طور پر حل کریں سیکیورٹی فورسز کو ایکسپوز نہ کریں ہم نے دو مرتبہ امریکا کی جنگ لڑی اس کا خمیازہ کتنی نسلیں بھگتیں گی ہمارے دشمنوں کے اعلیٰ کار سرحد پار بیٹھے ہوئے ہیں ہم دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں ایوان کو کردار ادا کرنا ہوگا اگر اب کچھ نہ کیا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں تو مودی کے یار کا طعنہ دیا گیا اب خود فون کیے جا رہے ہیں ۔