عالمی ادارہ صحت نے ویڈیو گیم کھیلنے کی عادت کو گیمنگ ڈ س آرڈر کے نام سے بیماری تسلیم کر لیا

چھ سال کی میڈیکل ریسرچ کے بعد بالآخر عالمی ادارہ صحت WHO نے ویڈیو گیم کھیلنے کی عادت کو گیمنگ ڈ س آ ر ڈر کے نام سے بیماری تسلیم کر لیا ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے 194 ممبر ملکوں نے
International statistical classification of diseases and related health problems ICD-11
میں اسے ایک بیماری تسلیم کر لیا ہے اور اس کا اطلاق یکم جنوری 2022 سے ہوگا۔
یاد رہے کہ سب سے پہلے یہ معاملہ 2013 میں اس وقت عالمی توجہ کا باعث بنا تھا جب امریکن سا یکیٹر ک ایسوسی ایشن (APA) نئے ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت کو بیماری کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس حوالے سے پیش کیے گئے شواہد ناکافی ہیں لہذا اس معاملے کو مزید اسٹڈی کے لئے زیر غور لانے اور نظر ثانی کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا جس کے بعد مزید چھ سال تک اس حوالے سے تفصیلی جانچ پڑتال تحقیق اور ریسرچ کی گئی اور اب عالمی ادارہ صحت نے ویڈیو گیم کھیلنے والی عادت کو ایک ذہنی عدم توازن سے متعلق بیماری تسلیم کر لیا ہے اس کی تعریف



انٹرنیٹ گیمز۔
کمپیوٹر گیمز۔
اسمارٹ فون گیمز۔
اور اس جیسی دیگر ویڈیو گیمز پر ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا ماننا ہے کہ ان ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت سے انسان کے رویے میں تبدیلی آتی ہے اور یہ تبدیلی اس کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہ تبدیلی آئی حوالوں سے منفی رجحان پیدا کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے بعد ویڈیو گیم تیار کرنے والی انڈسٹری میں کھلبلی مچ گئی ہے یورپ اور دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والی ویڈیو گیم انڈسٹری کے اہم کرداروں نے عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ویڈیو گیم سے پیار کرنے والے ساتھ بڑے ملکوں کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ویڈیو گیم سے الگ کرنے والے ملکوں میں سب سے سرفہرست نام امریکہ کا ہے اس کے بعد کینیڈا آسٹریلیا نیوزی لینڈ ساؤتھ کوریا ساؤتھ افریقہ اور برازیل کے نام آتے ہیں۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو گیم انڈسٹری کروڑوں نہیں اربوں ڈالر سے منسلک ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے اربوں ڈالر کی ویڈیو گیم انڈسٹری تباہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری بھی پھیل سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے اسی لئے فوری طور پر اس بیماری کی نشاندہی اور رویوں میں تبدیلی کا باعث بننے کا اعلان کرنے کے باوجود یہ کہا ہے کہ اس کا اطلاق 2022 ہوگا تاکہ ویڈیو انڈسٹری سے وابستہ ادارے اپنے مستقبل کے حوالے سے تیاریاں اور فیصلے کر سکیں۔