سابق قائم مقام کنٹرولر امتحانات انٹر بورڈ عظیم صدیقی کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی کی حیران کن رپورٹ ۔ سوال گندم جواب چنا؟

کراچی-سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز کی جانب سے سابق قائم مقام ناظم امتحانات کے غیر قانونی پریس کانفرنس کے خلاف تحقیقات کے لئے قائم کمیٹی نے انوکھی رپورٹ جاری کردی، رپورٹ میں پریس کانفرنس کرنے والے قائم مقام ناظم امتحانات کو بچاکر سارا ملبہ چیئرمین، آڈٹ آفیسر اور دیگر افسران پر ڈال دیا گیا جن کا معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی ایک اہم شخصیت جن کے عظیم صدیقی کے خاندان سے قریبی مراسم ہیں اور خود ایک سیاسی جماعت کا کا کارکن بھی ہے یاد رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کو عظیم صدیقی کی جانب سے پریس کانفرنس کر کے بورڈ اور سندھ گورنمنٹ کے اعلی ٰ افسران پر الزامات عائد کئے جانے کے خلاف تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،


لیکن تحقیقاتی کمیٹی نے نے عظیم صدیقی کے خلاف تحقیقات کرنے کے بجائے ایک کاپی پر اسکروٹنی میں تین نمبروں میں اضافہ کرنے کا معاملہ اٹھایا جس پر محکمہ اینٹی کرپشن تحقیقات کر رہا ہے اور تاحال اینٹی کرپشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے، تحقیقاتی کمیٹی نے ا پنے ٹی او آر سے تجاوز کرتے ہوئے تحقیقات کا رخ چیئرمین اور دیگر افسران کی جانب موڑ دیا، تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج گریڈ 19جبکہ چیئرمین بورڈ گریڈ20 کے افسر ہیں اور قواعد کے مطابق جونیئر افسر سینئر افسر کے خلاف تحقیقات کر ہی نہیں سکتا ہے، ذرائع کے مطابق اس انکوائری میں عظیم صدیقی کو کلیئر کرنے کے لئے عملے کے ایک رکن کےذریعے دس لاکھ روپے کی ڈیل طے پائی تھی ۔ اس وقت سیکریٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز کا ا یک سیکشن آفیسر مالی لین دین میں سرگرم ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ پیسے کے عو ض کوئی بھی کام کرانا کوئی مسلئہ ہی نہیں ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرک بورڈ کے قائم مقام ناظم امتحانات کو انٹرمیڈیٹ بورڈ کا بھی چارج دلوانے کے لئے مافیا سے پچاس لاکھ روپے کی ڈ یل ہوئی ہے جبکہ رزاق ڈیپر کا نوٹیفیکیشن تا حال جاری نہیں ہوا ہے۔