47

فرحان شبیر اپنے پروگرام “چوپال” میں ایسے عنوانات اور موضوعات کے الاؤ روشن کر رہے ہیں جو معاشرے اور ریاست کے دروبام کو نئے نئے آئیڈیاز سے اجاگر کر رہے ہیں

یہ کریڈٹ بہر طور فرحان شبیر ایسے نیک طبعیت اور نیک نفس سینئر اینکر پرسن کو جاتا ہے کہ وہ حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہو کر اپنے پروگرام “چوپال” میں ایسے عنوانات اور موضوعات کے الاؤ روشن کر رہا ہے جو معاشرے اور ریاست کے دروبام کو نئے نئے آئیڈیاز سے اجاگر کر رہے ہیں. بنا بریں چوپال کے ناظرین کی تعداد لحظہ بہ لحظہ اور لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی ہے.



گزشتہ دنوں ایک چونکادینے والے فرحت افزاء ہروگرام میں فرحان شبیر نے جھگی تعلیمی پروجیکٹ سے عوام الناس کو متعارف کرایا. واضح رہے کہ غیث ویلفئیر اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ اس پروجیکٹ کو تندہی سے آگے بڑھا رہا ہے. یہ پروجیکٹ 50 سالہ وژن کے ساتھ شروع کیا گیا ہے. جی ہاں ! 50سالہ وژن. اس وژن کے تحت روشنی ‘خیر اور خوشبو کا یہ سفر بلا امتیاز رنگ و نسل اور بلا تفریق مذہب و نسل جاری ہے. اس وقت پاکستان کے 22 شہروں میں خانہ بدوشوں کے 5 ہزار سے زائد بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں. ان کی جھگیوں سے الف بے تے…ABC…ون ٹو تھری…اور ٹو ونز آر ٹو کی پیاری آوازیں گونج رہی ہیں. اس پروگرام کے بانی مبانی اور چئیرمین مبشر حسین چاند ہیں. اس وقت لاہور میں 13 مقامات پر جھگی سکول قائم ہیں’ جہاں خانہ بدوشوں اور پکھی واسوں کے بچے پرائمری تعلیم حاصل کر رہے ہیں. یاد رہے کہ پاکستان میں خانہ بدوشوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے . ان ڈیڑ ھ کروڑ پاکستانیوں کی جھگیوں اور کٹیاؤں کو تعلیم کی روشنی سے روشن و تاباں کرنے کا سنہرا منصوبہ پاکستان میں شرح خواندگی بڑھانے کی جانب ایک اہم اور لائق رشک قدم ہے.



فرحان شبیر پاکستان کا وہ پہلا عالمی شہرت یافتہ منفرد اینکر پرسن ہے ‘ جس نے اپنے ہروگرام “چوپال”کے ذریعے سوشل میڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس اچھوتے اور منفرد منصوبے سے ناظرین کو آگاہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا. میں اسے مبارکباد پیش کرتا ہوں. شاید فرحان شبیر ایسے ہی محب وطن مردان-کار کو تھپکی دیتے ہوئے فارسی شاعر نے کہا تھا:

این کار از تو آید و مردان چنین کنند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں