سوئی سدرن گیس کمپنی میں قیادت کا بحران

ایک ماہ قبل تعینات کیے گئے قائم مقام ایم ڈی عمران فاروقی بھی استعفی دے کر چلے گئے

ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز وسیم احمد کو قائمقام ایم ڈی بنا دیا گیا۔
کیا محمد وسیم نئے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں گے؟

نئے قائم مقام ایم ڈی 32 سالہ تجربات و ساتھ لائے ہیں مکینیکل انجینئر بھی ہیں امریکہ سے ایم ایس ڈگری بھی رکھتے ہیں لیکن یہ سوئی سدرن گیس کمپنی ہے پیارے۔ ۔یہ پاکستان ریفائنری اور اینگرو کیمیکل نہیں ہے نہ ہی یہ آئی سی آئی ہے جہاں انہوں نے بیس سال ڈائریکٹر مینوفیکچرنگ کے طور پر گزارے۔ یہاں تو سر منڈاتے ہی اولے پڑتے ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے والا ہے؟

دراصل ایک ماہ قبل تعینات کیے جانے والے قائمقام ایم ڈی عمران فاروقی اتنی جلدی ہمت ہار جائیں گے یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ لیکن وہ استعفیٰ دینے پر کیوں مجبور ہوئے بظاہر ذاتی وجوہات ہیں لیکن سوچنا پڑے گا کہ ایسے کیا معاملات ہیں جن کی وجہ سے وہ مجبور ہوئے کہ استعفی دے کر پیچھے ہٹ جائیں ۔۔۔۔ان حالات میں کوئی بھی ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی کو چلانے کے لئے اپنے اوپر اتنا دباؤ اور معاملات میں مداخلت برداشت کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تین تین افسران ادارے کا نظم و نسق چلائیں گے۔ اگر ادارے کو مختلف ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر نے ہی چلانا ہے تو پھر کیا ایم ڈی کی پوزیشن ختم کردی جائے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بری طرح پھنسے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کبھی ایک ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر کو آگے لاتے ہیں تو کبھی دوسرے کی منت سماجت کرتے ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کی تاریخ گواہ ہے کہ حالات نے کبھی ایسی بےبسی کا مظاہرہ نہیں ہونے دیا تھا۔ جتنی بے بسی آج کل نظر آ رہی ہے ماضی میں ایسی مثال نہیں ملتی ۔ افسران اور ملازمین میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

۔تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔،قابل اور ذمہ دار قیادت کا فقدان ہے۔ اگر حالات کو سنبھالا نہ گیا تو بحران سنگین ہوتا جائے گا۔ عمران فاروقی کارپوریٹ سروسزکے طور پر کام کرتے رہیں گے جبکہ نئے قائم مقام آئی ڈی محمد وسیم جو اپنے ساتھ 32 سالہ تجربہ لے کر آئے ہیں بنیادی طور پر مکینیکل انجینئر ہیں اور امریکہ سے ماسٹر آف سائنس کی ڈگری بھی حاصل کرچکے ہیں ۔۔،ان کے پاس پاکستان ریفائنری اور اینگرو کیمیکل کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی ہے لیکن یہ ایسی آئی نہیں ہے جہاں انہوں نے بیس سال بطور ڈائریکٹر مینوفیکچرنگ گزارے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی میں وہ 2016میں شامل ہوئے تھے یہ اپنے مزاج کا الگ ادارہ ہے یہاں بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے بڑے صبر تحمل سے فیصلے کرنے پڑتے ہیں ادارہ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی کامیابی کے لئے دعا گو ہے اور نئے تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔ انہیں اپنی ذہانت قابلیت اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہو گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں