پاکستان اسٹیٹ آئل PSO … مشکل حالات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ

  مشکل ترین حالات میں بھی جو کمپنی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا پہیہ رکنے نہیں دیتی اس کا نام ہےPSO پی ایس او… جی ہاں پاکستان اسٹیٹ آئل وہ ادارہ ہے جو امن ہو یا جنگ ہر طرح کے حالات میں پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کو تیز رکھنے میں اپنا کردار ایسے ہی ادا کرتا ہے جیسے کسی جسم میں گردش کرنے والا خون ۔پی ایس او کا آئل پاکستانی معیشت کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی مانند ہے اگر یہ دوڑنا بند کردے تو معیشت کی دل کی دھڑکن بھی بند ہو جائے۔
پاکستان کی سرکردہ آئل مارکیٹنگ کمپنی کی حیثیت  سے  پی  ایس  او   PSO کی  ذمہ داریاں  اور  کردار 


انتہائی اہمیت کا حامل ہے پی ایس او کی موجودہ انتظامیہ ان ذمہ داریوں کا بھرپور ادراک رکھتی ہے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر سید جہانگیر علی شاہ Syed Jehangir Ali Shah کیسربراہی میں پی ایس او کی پوری ٹیم ادارے اور ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے سرگرم عمل ہے 35 سالہ وسیع تجربے کے حامل سیدجہانگیرعلی شاہ کی سربراہی میں پی ایس او کی کارکردگی اور حالیہ کامیابیاں اپنی مثال آپ نظر آتی ہیں یہ ادارہ مشکل ترین حالات میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کا سہرا موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر سید جہانگیر علی شاہ اور ان کی پوری ٹیم کے سر جاتا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے نو مہینے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو تمام تر مارکیٹ چیلنجوں کے باوجود پاکستان اسٹیٹ آئل نے لیکویڈ فیول مارکیٹ میں اپنا مجموعی حصہ 40.8  فیصد برقرار رکھا ہے جس میں وائٹ آئل کا حصہ 39.2 فیصد اور بلیک ایل کا حصہ اڑتالیس اعشاریہ دو فیصد رہا۔
اس کے علاوہ پی ایس او کو اس بات کی داد بھی دینا پڑتی ہے کہ اس نے مجموعی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لئے 47 فیصد امپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ 35 فیصد ٹوٹل ریپروڈکشن کو بھی فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا کہ صارفین تک ایندھن کی سپلائی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کی موجودہ انتظامیہ اس لحاظ سے قابل مبارکباد ہے کہ اس کے دور میں کمپنی نے 5.9 ا رب روپے کا منافع کمایا جو بعد از ٹیکس ہے۔


مارکیٹ میں بھرپور مقابلہ اور سخت چیلنج ہونے کے باوجود پی ایس او پر عزم ہے کہ وہ مارکیٹ میں اپنے شیئرکو مزید بڑھائے گا جس کے نتیجے میں اس کے منافع میں مزید اضافہ ہوگا آنے والے دنوں میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی انتظامیہ اپنی توجہ اسٹوریج گنجائش کو بڑھانے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ریٹیل نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے۔
موجودہ ریٹیل انفراسٹرکچر کی اب گریڈنگ پر کام جاری ہے جبکہ ملک بھر میں لبریکینٹس کی باآسانی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ان تمام اہداف کے حصول کے لئے کئے جانے والے اقدامات تسلی بخش اور نتائج حوصلہ افزا ہیں۔

... جیوے پاکستان ڈاٹ کام اسپیشل رپورٹ