چیئرمین نیب کمزور وکٹ پر ہیں ۔ وہ خود بھی اپنے دوست نہیں

سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے دعوی کیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کالم نویس جاوید چوہدری سے اپنی ملاقات کے بعد وضاحتیں دینے کے باوجود کمزور وکٹ پر ہیں حکومت بھی انہیں ہٹانا چاہتی ہے اور وہ خود بھی اپنے دوست نہیں۔
سلیم صافی نے چیئرمین نیب کی ایک پریس کانفرنس کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قومی احتساب بیورو کو پولیٹیکل مینجمنٹ کے لئے استعمال کیا گیا کیونکہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے یہ کہا کہ حکومت کے اتحادیوں کے خلاف بھی کیس تیار ہیں لیکن ان پر ہاتھ اس لیے نہیں ڈالا جا رہا کہ اس سے حکومت گر جائے گی اور ملک میں خوفناک بحران پیدا ہوگا ۔سلیم صافی لکھتے ہیں کہ ایسا سوچنا جج اور محتسب کا کام نہیں ہوتا کیونکہ وہ نتائج کا نہیں سوچتے اگر جج یہ سوچتے تو پھر کیا کوئی جج یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو سزا سنا سکتا تھا؟



سلیم صافی نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ چیئرمین نیب کی سیاستدانوں کی عزت کے بارے میں خیال نہیں رکھتے جن الفاظ میں انہوں نے آصف علی زرداری پرویز کرکٹر اور شہباز شریف بغیرت ہو یاد کیا ہے اس سے عیاں ہوتا ہے کہ دوسروں کے وقار اور عزت کے بارے میں وہ کس قدر غیر حساس ہیں۔
سلیم صافی نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ چیئرمین نیب کا پیمانہ سب کے لئے ایک جیسا نہیں ہے کیونکہ چیئرمین نیب کا فرمانا ہے کہ پرویز خٹک کی صحت سے ڈرتا ہوں یا گرفتار ہوئے اور انہیں کچھ ہوگیا تو نئے مزید بدنامی ہو جائے گا سوال یہ ہے کہ یہ خیال انہیں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی گرفتاری کے وقت کیوں نہیں آیا؟



سلیم صافی نے چوتھا نتیجہ یہ بھی اخذ کیا ہے کہ چیئرمین نیب کو تکبر کی بیماری نے آ گھیرا ہے اور وہ نرگسیت کے بھی شکار ہو گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آصف زرداری جس دن انکوائری کے لئے پیش ہوئے تو ان کی ٹانگیں اور ہاتھ لرز رہے تھے اسی طرح ہنس کر کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں اور میں آج بھی چیئرمین ہے آپ کی کرسی پر بیٹھا ہوں حالانکہ یہ متکبرانہ الفاظ زبان پر لاتے ہوئے ان کو سوچنا چاہئے تھا کہ واصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے حکم پر ان کے دو وفاداروں یعنی سید خورشید علی شاہ اور شاہد خاقان عباسی کے دستخطوں سے ہیں چیئرمین نیب کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔



سلیم صافی نے پانچواں نتیجہ یہ شخص کیا ہے کہ چیئرمین نے پورا سچ نہیں بولتے وہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف ان سے ایسی ڈیل کرنا چاہ رہے تھے جس میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلی پنجاب بنانا شامل تھا اب ظاہر ہے کہ شہباز شریف اتنا تو جانتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو وزیر اعظم بنانا کس کے بس میں ہے اور کس کے بس میں نہیں پھر ان کے معاملات عدالتوں میں ہیں تو کیا شہباز شریف یہ بھی نہیں جانتے کہ چیئرمین نیب عدالتوں میں کچھ نہیں کر سکتے ؟انہوں نے اگر این آر او مانگا تھا تو چیئرمین نیب سے کیوں مانگتے؟
ان نتائج کو ا خذ کرتے ہوئے سلیم صافی لکھتے ہیں کہ چیئرمین نیب کمزور وکٹ پر ہیں۔