آڈیو ویڈیو اسکینڈل … طاہر اے خان کا کردار اور چیئرمین نیب کا مستقبل؟

قومی احتساب بیورو نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حوالے سے سامنے آنے والے مبینہ آڈیو ویڈیو اسکینڈل نے اپوزیشن اور حکومت کو ایک دوسرے پر الزام تراشی پر دباؤ بڑھانے کا نیا موقع فراہم کر دیا ہے۔
ایک طرف احتساب بیورو کے ترجمان نے چیئرمین نیب سے منسوب آڈیو ویڈیو سکینڈل کو جعلی اور احتساب کے عمل کو ڈی ریل کرنے کی سازش قرار دیا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے اس کا الزام حکومت پر دھر دیا ہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی تحقیقات پر زور دیا ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیب کو بلیک میل کرنے پر اتر آئے ہیں جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس سکینڈل کے تانے بانے اپوزیشن سے جوڑ دیے ہیں وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ اپوزیشن احتساب کے عمل کو متنازعہ بنا کر اپنی گرفتاریاں روکنا چاہتی ہے۔


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نون کے صدر اور ابورشن لیڈر شہباز شریف نے چیئرمین نیب کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کا الگ بیان تو دیا ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری چیئرمین کے انٹرویو کے حوالے سے اعتراضات اٹھا چکے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ حضرت چیئرمین نیب نے ڈبو دیا ہے تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا موقف مختلف ہے وہ چاہتے ہیں کہ سارے معاملے کی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کی جائے۔



چیئرمین نیب کے حوالے سے آڈیو ویڈیو اسکینڈل کا سب سے پہلا چرچا میڈیا انڈسٹری کی انتہائی تجربہ کار شخصیت طاہر خان کے نجی ٹی وی چینل کے ذریعے ہوا طاہر خان کو وزیراعظم عمران خان کے انتہائی نزدیک اور بااعتماد ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی حیثیت ایک صلاح کار کی ہے اور وہ وزیر اعظم ہاؤس سے حکومت کی میڈیا پالیسی کے حوالے سے اہم سلام شو میں نمایاں کردار ادا کرتے آئے ہیں اس لیے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے طاہر خان کے ٹی وی چینل پر چیئرمین نیب کے حوالے سے آڈیو ویڈیوز لیڈر کا سامنے آنا سوالیہ نشان بن گیا اور ان کے کردار پر بحث شروع ہو گئی اب دیش رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے دو قریبی ساتھیوں کی جانب سے اس سکینڈل کا سامنے آنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا اسی پس منظر میں بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پر نیب کو بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا ہے اب زیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب نیب نے حکومتی شخصیات اور اتحادیوں پر ہاتھ ڈالنے کی بات کی تو حکومت خصوصا وزیراعظم نیب کو بلیک میل کرنے پر اتر آئے ہیں اور جان بوجھ کر یہ آڈیو ویڈیو لیگ کی گئی ہے تاکہ چیئرمین نیب کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔



سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ آڈیو ویڈیو اسکینڈل کا اصل بینیفیشری کون کون ہو سکتا ہے کیا اس کی بینیفیشری حکومت ہے یا اپوزیشن کی کچھ شخصیات ؟
بعض سینئر صحافیوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جو شخص احتساب کرتا ہے اس کا اپنا دامن صاف ہونا چاہیے اس حوالے سے چیئرمین نیب کے پاس عباس شریف کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا بہتر ہے وہ خود ہی عہدہ چھوڑ دیں۔
دوسری طرف ایسے صحافی اور تجزیہ نگار بھی موجود ہیں جو اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ماضی میں اہم کمیشن کی سربراہی کر چکے ہیں ان کے اسٹیبلشمنٹ سے اچھے رابطے ہیں لہذا فوری طور پر اس اسکینڈل سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اسکینڈل سامنے آیا ہے اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی اس کی تحقیقات کرانی چاہیے اور تحقیقات کے نتائج سے عوام کو آگاہ بھی کرنا چاہئے سب سے پہلے تو اس بات کی انکوائری ہونی چاہیے کہ اس ویڈیو کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہیں اس کے اہم کردار کون کون ہیں اور ان کرداروں کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا اور اگر ایسا ہے تو پھر ماسٹرمائنڈ کون ہے؟



سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اگر چیئرمین نیب مستعفی ہو جاتے ہیں یا انہیں کام کرنے سے کسی طرح روک دیا جاتا ہے تو ملک میں جاری ہے احتساب کا پورا عملہ ہی مشکوک ہو جائے گا اور آنے والے دنوں میں جو اہم گرفتاریاں متوقع ہیں وہ رکھ سکتی ہیں۔
ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ خبر نشر کرنے والے چینل کے مالک کا شمار وزیراعظم کے قریبی لوگوں میں ہوتا ہے لہذا پوچھ ہونی چاہیے اسے بھی تحقیقات میں شامل کیا جانا چاہیے۔



سیاسی حلقوں میں یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ چیئرمین نیب کے خلاف اگر اسکینڈل سامنے آتا ہے تو اس کا مقدمہ خود نیپ درج نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس اسکینڈل اور سائبر کرائم کی تحقیقات کیلیے ایف آئی اے سے بہتر کوئی ادارہ نہیں ہے ایف آئی اے کے سائبر کرائم کو یہ معاملہ تحقیقات کے لیے بھیجا جانا چاہیے ۔
دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اس معاملے کے پیچھے حکومت یا حکومتی شخصیات ملوث ہیں تو کیا ایسی صورت میں بھی یہ معاملہ ایف آئی اے کے پاس جانا چاہیے جو کہ خود حکومت کی ماتحت ہے۔