87

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 13

میرے تین ساتھی رات سے غائب تھے اور خبر آئی کے دو پاکستانی جاسوس پکڑے گئے ہیں

یشونت نے جنرل کی سیف سے جو ڈائر یا ں، نقشے اور فائلیں ہمیں لا کر دی تھی ان کی ایک کاپی ہم نے پاکستان روانہ کر دی تھی اور اضافی کاپیوں کو اب ہم نے جلا دیا کیونکہ ہمارے پاس اضافی کاپیوں کا ڈھیر ہمیں کسی بھی وقت خطرے میں دو چار کر سکتا تھا اور ہماری موو منٹ کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔
۔آئندہ دو تین دن میرے پاس فراغت تھی لہذا ہم نے چاند کی چودھویں تاریخ کو تاج محل آگرہ دیکھنے کا پروگرام بنایا اور اگلی صبح آ گر ہ کے لئے ٹرین پکڑ لی۔
سفر کے دوران مجھ سے ایک غلطی ہوگئی اور اس کی وجہ سے مجھے اپنا سفر ادھورا چھوڑ کر آگر ہ جانے کے بجائے واپس د ہلی آنا پڑا ۔راستے میں ایک براہمن پانی پی رہا تھا مجھے بھی پیاس لگی تو میں نے اس سے پانی مانگ لیا اس کے برتن سے منہ لگا کر پانی پی لیا تھوڑی دیر بعد مجھے چھینک آئ تو بے ساختہ منہ سے الحمدللہ نکل گیا ۔یہ سن کر وہ بر اہمن بہت غصے میں آیا اور اس نے کہا تم مسلمان ہو تو پھر میرے برتن کو منہ کیوں لگایا۔


میں نے بڑی مشکل سے صورتحال کو سنبھالا اور سفر ادھورا چھوڑ کر آگرہ جانے کی بجائے اگلی ٹرین پکڑ کر واپس دہلی آگیا لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ آئندہ چند روز میں ہی میرے ساتھیوں کو ایک ہنگامی مشن پورا کرنے کے لیے آگرہ جانا پڑے گا۔
اگلے روز صبح دس بجے عبدالکریم میرے ہوٹل میں آیا اس نے بتایا کہ کرنل شنکر دو دن آگرہ میں رہ کر شام کو واپس لوٹا ہے ۔رات کو نشے میں کہہ رہا تھا کہ آ گر ہ میں پہلے پکڑے گئے پاکستانی جاسوسوں کا واقعہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ دو اور پاکستانی جاسوس پکڑے گئے ہیں ۔ہیڈ کوارٹرز کی طرف سے اس سلسلے میں آگرہ جانا پڑا۔وہ بھارتی انٹیلی جنس کا شکوہ کر رہا تھا کہ جس جگہ سیف ہاوس میں پاکستانی جاسوسوں کو تفتیش کے لیے رکھا گیا ہے وہ راجہ کی منڈی کے ریلوے اسٹیشن سے آگرہ کی جانب نے ریلوے آ وٹر سگنل کے ساتھ ہی واقع ہے ۔اور اسے رسیو کرنے والے ڈائریکٹر ملٹری انٹیلیجنس کے آدمیوں نے ریلوے اسٹیشن سے لیکر سیف ہاؤس تک ریلوے پٹری کے کنارے کنارے اسے پیدل چلایا۔


عبدالکریم نے اپنے متعلق پھر میری منت سماجت شروع کر دی میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میں جلد ہی اس کے لئے کچھ کروں گا کچھ اور باتیں کرنے کے بعد میں نے اسے دو سو روپے دیے اور رخصت کر دیا۔
نئے پاکستانی جاسوسوں کے پکڑے جانے کی خبر نے مجھے پریشان کر دیا میں اپنے ساتھیوں کے گھر چلا گیا اور انہیں یہ خبر سنائی میرے سا تھی جو ان نڈر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھے یہ بات سن کر وہ بھڑک اٹھے اور کہنے لگے کہ ان جا سو سوں کو چھڑوانے کے لیے ہمیں فوری کاروائی کرنی چاہیے۔
میرے تین ساتھی غیر شادی شدہ تھے ان میں سے ایک کہنے لگا ۔۔۔سر جب سے ہم بھارت میں داخل ہوئے ہیں ہم نے ذہنی طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ہم اپنے خون کے آخری قطرے کو اپنے وطن کی حرمت اور حفاظت کے لئے نچھاور کردیں گے ۔جو پکڑے جا چکے ہیں وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور یقینی طور پر یہی جذبہ لے کر وہ بھارت میں داخل ہوئے ہوں گے اگر ہم انہیں بچانے میں کامیاب ہوجائیں تو ہمارے لئے یہ اپنے مشن میں کامیابیوں سے زیادہ اہم ہو گا ۔چوتھے ساتھی نے کہا سر ۔اگر خدانخواستہ آپ یا ہم میں سے کوئی پکڑا جائے اور باقی ساتھیوں کو اس جگہ کا علم ہوجائے تو کیا ہم ہیں خاموش بیٹھے رہیں گے ؟گرفتار ہونے والے بھی ہمارے اپنے ہیں اور انہیں چھڑوانے کے لیے ہمیں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔میں نے انہیں کہا کہ میں ان کے اس جذبے کی قدر کرتا ہوں لیکن ہمیں جوش کے ساتھ ساتھ ہوش سے بھی کام لینا چاہیے ۔پورے بھارت کی آبادی میں ہم پانچ ہی ایک دوسرے کی حقیقت سے باخبر ہیں ہمیں یہاں صرف اپنے مشن پورا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔اگر ہم اپنے سینئرز کی ہدایات کے خلاف گرفتار جاسوسوں کو چھڑوانے کا فیصلہ کر بھی لیں تو ہمیں پہلے چند باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔سب سے پہلے یہ کہ ان جاسوسوں کی نگرانی پر کتنے پہرہ دار متعین ہیں اور ان کے پاس کس قسم کا اسلحہ ہے ۔نمبر2 یہ کہ بھارتی تشدد کے بعد وہ اس قابل بھی ہیں کہ قید سے چھوٹنے کے بعد فرار ہو سکیں… نمبر تین یہ کہ وہ فرار ہو کر کہاں جائیں گے؟


پاکستان کی طرف کا بارڈر بھارت سے ان کے فرار ہونے کے فوراً بعد سیل کر دیا جائے گا پہرے داروں سے بغیر مقابلے کے ہم ان کو حراست سے چھڑوا نہیں سکتے مقابلے میں ہم زخمی اور گرفتار بھی ہو سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ہمارا مشن الٹ پلٹ ہوسکتا ہے میں تو انہیں سمجھا بجھا کر واپس لوٹ آیا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے جانے کے بعد وہ خود ہی ساری منصوبہ بندی کر کے میری اجازت اور علم کے بغیر ہی اس پر فوری عمل پیرا ہو جائیں گے۔
اگلے دن صبح کے دس بجے میرے نمبر ٹو کا فون آیا اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں مجھے فوری ملنے کے لیے کہا میں حیران تھا کہ ایسی کیا ایمرجنسی ہوگئی ہے میں نے اسے مغل محل ریسٹورنٹ میں گیارہ بجے ملنے کو کہا مقررہ وقت پر وہ ریسٹورنٹ میں میرا انتظار کر رہا تھا اسے ریسٹورنٹ میں ایک گوشے کی ٹیبل پر لے گیا وہ بہت گھبرایا ہوا اور پریشان تھا اس کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی جو کچھ اس نے بتایا اسے سن کر میرے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے ۔اس نے کہا کہ گزشتہ رات سے ہمارے تینوں ساتھی غائب ہیں ۔پہلے تو وہ یہی سمجھتا رہا کہ تینوں فلم کا آخری شو دیکھنے چلے گئے ہیں جب وہ بارہ بجے کے بعد بھی واپس نہ آئے تو وہ بہت گھبرا گیا ۔بھارت میں قیام کے دوران ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا میری ہدایت کے مطابق انہیں صرف دو دو کی ٹولیوں میں باہر جانے کی اجازت تھی اور فلم کا آخری شعر دیکھنے کی سختی سے پابندی تھی باہر جانے سے پہلے اپنے دونوں ساتھیوں کو بتانا لازمی تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور کب تک واپس آئیں گے اور اب صورتحال یہ تھی کہ دو کے بجائے تین ساتھی رات آٹھ بجے سے غائب سے اور انہوں نے میرے نمبر دو میری غیر موجودگی میں اپنے سینئر کو بھی اپنے جانے کا کچھ نہ بتایا تھا۔


بقول میرے نمبر ٹو کے صبح اس نے ان کا سامان چیک کیا تھا وہ تینوں اپنے پسٹل فالتو راؤنڈ اور چھٹیوں والے بید ساتھ لے گئے تھے ۔مجھے ایک ہی قسم کے اندیشوں اور وسوسوں نے گھیر لیا ان کی گمشدگی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی میں بلاوجہ سوچ بچار میں وقت ضائع کرنے کے اپنے نمبر ٹو کو ساتھ لے کر ان کے گھر چلا گیا ۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان پر کیا بیتی ۔میں نے ان کے کمروں کو اچھی طرح سے کھنگال ڈالا لیکن کوئی ایسی چیز نہ مل سکی جس سے ان کی گمشدگی کا سراغ ملتا ۔تھک ہار کر میں نمبر ٹو کے کمرے میں جابیٹھا بار بار ایک ہی بات ذہن میں آتی تھی کہ وہ فلم کا آخری شو دیکھنے گئے ہوں گے واپسی پر پولیس حوالات میں ہونگے اور ان سے تفتیش کے دوران ہمارا سارا بھید کھل جائے گا ۔نہ صرف ہم دونوں پکڑے جائیں گے بلکہ ہمارا مشن اور اتنی اہم ڈاکو بھی دشمن کے ہاتھ لگ جائے گی جیسے جیسے میں اس زاویے سے سوچتا جاتا مجھے آئندہ تاریکی ہی تاریکی دکھائی دیتی ۔میں نے فیصلہ کیا کہ فوری طور پر ڈاک اور دوسری ضروری اشیاء یعنی ٹرانسمیٹر کیمرے اور ہماری اصل پہچان کا سبب بننے والی وہ تمام اشیاء اس گھر سے فوری طور پر اپنے ہوٹل منتقل کر لو ں۔


اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ تینوں گمشدہ ساتھیوں کو میرے ہوٹل کا بھی علم ہے پکڑے جانے کی صورت میں تشدد کے باعث اگر وہ بول پڑے تو دشمن ہوٹل میں بھی فوراً پہنچ جائے گا ۔اس لئے فوری طور پر مجھے اور میرے نمبر ٹو کو کسی غیر معروف ہوٹل میں شفٹ کر جانا چاہیے ۔میں نے نمبر ٹو کو سب سامان پیک کرنے کو کہا مجھے اس وقت کچھ سوچ نہیں رہا تھا ۔فکر تھی تو ڈاک اور باقی اشیاء کو محفوظ کرنے اور خود کو اور اپنے نمبر ٹو کو بچانے کی ۔مین نمبر ٹو کے کمرے میں بڑی بے قراری اور اضطراب کی حالت میں بار بار اسے جلدی سامان پیک کرنے کا کہہ رہا تھا میں سوچتا تھا کہ یہ وقت کا کھیل ہے کہ ہم پہلے اس گھر سے نکلتے ہیں یا پولیس اور دوسری بھارتی ایجنسیاں یہاں پہنچ جاتی ہیں اس کیفیت میں میری نگاہ ٹائم پیس پر پڑی تو اس کے نیچے ایک کاغذ دبا ہوا دکھائی دیا میں نے وہ کاغذ اٹھایا اور میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔


یہ خط ہمارے تینوں ساتھیوں کی طرف سے مجھے اور میرے نمبر ٹو کو مخاطب کر کے لکھا گیا تھا اور اس پر ان تینوں کے دستخط ثبت تھے خط کا مضمون کچھ اس طرح تھا کہ ہم تینوں اگلے میں گرفتار دو پاکستانی جاسوسوں کو بچانے کے لیے جا رہے ہیں اگر دو دن تک ہم واپس نہ لوٹ سکے تو یہ سمجھ لیجئے گا کہ ہم تینوں دشمن کی گولیوں سے ہلاک ہو چکے ہیں اور اگر ہم زندہ گرفتار ہوگئے تو ہم ساینائڈ کی داڑھیں چبا کر اپنی جان دے دیں گے لیکن اپنے راز اور آپ کے متعلق کسی قسم کی معلومات دشمن کو نہ دیں گے خط میں انہوں نے مجھ سے اور نمبر ٹو سے اپنے ڈسپلن اور ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر معافی مانگی تھی اور لکھا تھا کہ اگر ہم یہ قدم نہیں اٹھاتے تو ہمارے دماغ اس خیال سے پھٹ جاتے کہ ہمارے 2پاکستانی بھائی ہمارے جیسے ہی مشن کی تکمیل کے دوران گرفتار ہو چکے ہیں اور ان کی قید و تشدد کرنے کی جگہ کا علم ہونے کے باوجود ہم ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے انہوں نے لکھا تھا کہ آپ ہمارے اس اقدام کی کامیابی کی دعا کریں اور ہمارے زندہ رہنے کی صورت میں ہماری مغفرت کی دعا کریں زندہ رہنے کی صورت میں آپ کا کورٹ مارشل جو سزا دے گا اسے ہم بخوشی بھگتنے کو تیار ہیں…

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں