پاکستانیو آ ؤ … ہائبرڈ وار میں اپنی افواج کی جیت یقینی بناؤ

جنہیں لگتا ہے کہ ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار کا کوئی وجود نہیں ہے، یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کا اُڑایا ہوا شوشہ ہے، وہ لوگ ضرور اسے پڑھ لیں ۔
ستمبر 2002 کا منظر ہے…
اچانک پوری دنیا کے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں عراق کا نام گونجنے لگا، خبریں یہ تھیں کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیار ہیں، اس سلسلے میں امریکی صدر جارج بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر پیش پیش تھے، صدر صدام کی تمام تر یقین دھانیوں اور اقدامات کے باوجود یہ پروپیگنڈا زور پکڑتا گیا کہ عراق جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور استعمال بھی کر سکتا ہے، یہ پروپیگنڈا اس کمال مہارت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا کہ کوئی اسلامی ملک بھی عراق کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نا تھا، بلآخر ایک کامیاب پروپیگنڈا وار کے بعد 20 مارچ 2003 کو امریکی فوج نے عراق پر باقاعدہ حملہ کر دیا، تمام تر جرأت و استقامت اور صبر و حوصلہ کے باوجود عراق کے پاس امریکی اتحاد کے خوفناک اور تباہ کن فضائی حملوں کا کوئی جواب موجود نہیں تھا، مختصر عرصے میں عراق کو کھنڈر بنا دیا گیا، یہ ہائیبرڈ وار کا نمونہ تھا.
ایک منظر اور دیکھیئے…
یہ لیبیا ہے، معمر قذافی نے اپنے ملک میں ایک ایسا سماجی، سیاسی اور معاشی نظام نافذ کیا جسے وہ “جمہوریہ” قرار دیتے تھے، یعنی عوامی ریاست، انہوں نے اپنے ان سیاسی نظریات کی وضاحت اپنی معروف کتاب میں کی جو “گرین بک”یا “سبز کتاب” کے نام سے مشہور ہے، انہوں نے ایک ایسے ملک کا خاکہ پیش کیا جہاں کوئی ادارہ نہ ہو، جسے عوام خود چلائیں، اور جس کے قیادت ان کے، یعنی قذافی کے، اپنے ہاتھ میں ہو اور اس کی بنیاد اسلام کے زریں اصولوں پر ہو۔


فروری 2011 میں لیبیا میں اچانک انقلاب نے دستک دی،باغیوں نے شدید لڑائی کےبعد کئی شہروں پر قبضہ کرلیا، مارچ 2011 میں باغی لیبیا کے اہم شہر اجدابیا میں داخل ہو گئے، باغیوں کے کئی شہروں پر قبضہ کے بعد لیبیا میں معمر قذافی مخالف مظاہرے شروع ہوگئے، جن میں خواتین سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مظاہرین نے کئی سالوں تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے پتلوں اور تصاویر کو آگ لگا دی، ہر گزرتے دن کے ساتھ قذافی مخالف مظاہروں، باغیوں کے حملوں اوران کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، 2011 کے وسط تک باغی خواتین بھی میدان میں آگئیں، کلاشنکوف جیسے خودکار ہتھیار چلاتی ہوئی ان باغی خواتین کی تصاویر نے دنیا بھرکی توجہ اپنی طرف کرلی، لیبیا کی خانہ جنگی کو معمر قذافی مخالف لوگوں نے انقلاب کا نام دیا، جبکہ قذافی کے حمایتیوں نے اسے بغاوت کہا، لیبیا کے حامی لوگ بھی باغیوں سے لڑنے کیلئے نکل آئے، ستمبر2011 تک باغیوں کی طاقت دگنی ہوچکی تھی، وہ خطرناک ہتھیاروں سمیت راکٹ لانچرز کا بھی استعمال کرنے لگے تھے، جبکہ لیبیا میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے مغربی اور یورپی ممالک بھی لیبیا کی خانہ جنگی میں کود پڑے اور معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا، بین الاقوامی مداخلت کے بعد باغیوں کے حملوں میں شدت آگئی، اور 20 اکتوبر 2011 کو باغیوں نے سرت پر حملہ کر کےچار دہائیوں تک لیبیا پر حکمرانی کرنے والے کرنل معمرقذافی کو بے دردی سے ہلاک کردی، یاد رہے کہ لیبیا میں معمر قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی باغیوں نے اپنی ایک عبوری کونسل تشکیل دے دی تھی، باغیوں کی نمائندہ اس تنظیم کو سب سے پہلے تسیلم کرنے والا ملک فرانس تھا، اس کے بعد کئی دیگر مغربی ممالک نے بھی ایسا ہی کیا، کیا سمجھے…. ؟؟؟
15 مارچ 2011 کا منظر….
سینکڑوں شامی شہریوں نے دمشق، حلب اور دیگر بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا، اور اس دن کو انہوں نے “ڈے آف ریج” یعنی غصے کا دن قرار دیا، ان کے مطالبوں میں ملک میں جمہوری اصلاحات لانا تھا، شامی حکومت نے ان مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کیا، اسی دوران ملک میں جہادی ملیشیاؤں نے بھی فروغ پایا اور مزاحمت شروع کر دی،جواباً حکومتی ردعمل سخت تر ہوتا گیا، گذشتہ آٹھ سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامیوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں، اور تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ ایسی حالت میں ہیں کہ انہیں امداد کی اشد ضرورت ہے، بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود مختلف ممالک بلخصوص امریکہ اور روس نے اس جنگ میں اپنے مفادات کے لیئے کام جاری رکھا ہوا ہے، اور اس کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہے، یعنی مر شامی مسلمان رہے ہیں، مار بھی شامی رہے ہیں اور مفادات روس اور امریکہ کے ہیں، یہ ہوتی ہے ہائیبرڈ وار۔



ایک اور منظر دیکھیئے…
تحریر سکوائر مصر، لاکھوں لوگ، نعرے شیلنگ اور فائرنگ، 2012 کے اوائل میں مصر میں صدارتی انتخابات ہوئے، صدر محمد مرسی 52 فیصد ووٹ لے کر مصر کے صدر بن گئے، انہوں نے مصر کے لیئے نیا آئین تشکیل دیا اور عوامی ریفرنڈم کے ذریعے 62 فیصد سے زیادہ عوام نے ووٹ دیا اس کے بعد عام انتخابات ہوئے، یوں جون 2012 کو مصر میں نیا دور شروع ہوگیا، یہ نئی حکومت اسرائیل کے لیئے خطرے کی گھنٹی تھی، فلسطینیوں پر جو پابندیاں امریکہ کے کہنے پر لگائی گئی تھیں، محمد مرسی نے ان کو ختم کردیا، اور اسرائیل کی گیس سپلائی لائن بند کردی، امریکہ اور اسرائیل کو یہ قبول نہ تھا اور مغربی کفر اسرائیل کی پشت پر تھا، مصر میں امریکہ اور اسرائیل نے سازش تیار کی اور مصر کی امریکہ نواز فوج کو اشارہ کیا کہ حکومت کاتختہ الٹ دیا جائے، اس کے لیئے اربوں ڈالر خرچ کر کے بے دریغ پروپیگنڈہ کیا گیا، تحریر اسکوائر پر مظاہرہ اور اس کی تشہیر کی پشت پر اسرائیل اورامریکہ موجود تھے، جب مصری عوام پوری طرح اس پروپیگنڈے کے جال میں پھنس گئی، تو پھر فوج نے یکدم امریکہ کے منصوبے کے تحت محمد مرسی کی منتخب حکومت کاتختہ الٹ دیا اور قبضہ کرلیا، پوری مغربی دنیا اور مسلم دُنیا کے تجزیہ نگار اور الیکٹرانک میڈیا امریکہ اور اسرائیل کے ہمنوا بن گئے، ضمیر فروش نام نہاد تجزیہ نگار اور دانشوروں نے اس بغاوت کی حمایت کی اور محمد مرسی کی حکومت کے ایک سالہ دور کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی اور تاثر دیا کہ مصر کے عوام کی اکثریت اخوان المسلمون کی حکومت کے خلاف ہے، اور صرف ایک چوک کے مظاہرہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اور اسے عوامی ریفرنڈم قرار دیا گیا، یہ صرف ایک “تحریر چوک” کا مظاہرہ نا تھا بلکہ یہ “ہائیبرڈ وار” تھی۔
ابھی کل کا واقعہ ہے…
بر اعظم افریقہ کے ایک ملک سوڈان میں صدر عمر البشیر نے 1989 میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کی باگ ڈور سنبھالی، جبکہ سوڈان کی معیشت کئی سالوں سے مشکلات میں ہے، سوڈان ایک طویل عرصے سے تنہائی کا شکار ہے جب 1993 میں امریکہ نے صدر عمر البشیر کی حکومت کو اسلامی عسکریت پسندوں کو پناہ دینے پر دہشت گردی کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا، چار سال بعد واشنگٹن نے سوڈان پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا، حالیہ بحران اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہزاروں مظاہرین نے خرطوم میں وزارتِ دفاع کے دفتر کے باہر ڈیرے ڈال لیئے، یہ وہ جگہ ہے جہاں عمر البشیر کی رہائش گاہ ہے، منگل کے روز فوجیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب فوجی اہلکاروں نے مظاہرین کی حفاظت جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی، اس تصادم میں چھ فوجی اہلکاروں سمیت 11 افراد مارے گئے۔
تقریباً تمام مغربی میڈیا اور پریس سوڈان میں اٹھنے والی ان تحریکوں کو دامے، درمے، سُخنے سپورٹ کر رہا ہے، مظاہرین کو ” آزادی کے متوالے” ،” انسانی حقوق کے علمبردار” اور ” ریاستی ظلم ” کے خلاف اٹھنے والے مجاہدین کے القابات دیئے جا رہے ہیں، دلچسپ کی بات یہ ہے کہ عمر البشیر کے خلاف حالیہ تحریک سوشل میڈیا کے ذریعے برپا کی گئی، اور کامیابی کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کیئے گئے، صدر عمر البشیر کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ وہ امریکہ کا نا پسندیدہ تھا، جیسا کہ اس سے پہلے عراقی صدر صدام حسین اور مصری صدر محمد مرسی تھے۔
آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے کہ مندرجہ بالا واقعات مطلق العنان بادشاہتوں کے خلاف اٹھنے والے عوامی انقلابات ہیں؟ کیا یہ عوام کی طرف سے سیاسی اصلاحات کے لیئے کئے جانے والے احتجاج کا نتیجہ ہیں؟ کیا یہ سب ان ممالک کے حکمرانوں کے ظلم و جبر کے خلاف مظلوم عوام کے انتہائی اقدامات ہیں… ؟؟؟
ہرگز نہیں…!!!
یہ “اسلامی ملکوں” کے خلاف اسرائیل کے سرپرستوں کی ہائبرڈ وار ہے، وہ تمام اسلامی ممالک جو آنے والے وقتوں میں کسی بھی طرح گریٹر اسرائیل کے لیئے خطرہ بن سکتے ہیں وہاں ایک منظم اور پلانڈ طریقے سے “انقلابات” برپا کئے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں مذہب، معیشت اور سیاست کو ایشو بنایا جا رہا ہے، وہ دور گیا جب کسی ریاست پر حملہ کر کے اسے تاراج کیا جاتا تھا، اب اسی ریاست کے باسیوں کے ہاتھوں سے ہی ان کے ملک کو تباہ و برباد کروایا جا رہا ہے۔
افغانستان، عراق، شام، مصر ، یمن اور سوڈان کے بعد اب گِدھوں کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں، اور ان کی راہ میں رکاوٹ صرف ایک ہی ہے،اور وہ ہے “افواج پاکستان “
ہوشیار باش…
اس لیے پاکستان کے خلاف افواج پاکستان کے خلاف ذرا سا بھی پروپوگینڈا مخالفت کرنے والے عناصر کا ساتھ مت دیں بلکہ افواج پاکستان کے ساتھ پر محاذ پہ کھڑے رہیں کیوں کہ دشمن کا نشانہ افواج پاکستان ہی ہے کیوں کہ افواج پاکستان نہیں تو یاد رکھیں آپ بھی نہیں اور نہ پاکستان ہو گا کیوں کہ پھر پاکستان کا حال لیبیا جیسا بنانے میں دشمن دیر نہیں لگائے گا ۔
آئین اس ہائبرڈ وار میں اپنی افواج کی جیت یقینی بنائیں  اور سوشل میڈیا پر دشمن کے آلہ کار بننے کی بجائے پاکستان کا ساتھ دیں۔