74

بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 12

تاراپور کے ایٹمی پلانٹ کی خفیہ معلومات تک رسائی
یشونت نے میرے ساتھیوں کو مقررہ دنوں میں دو مرتبہ ڈاک کے پیکٹ دیے جن کی ہم نے حسب معمول کاپیاں اور فوٹو بنا لئے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہفتے کا دن تھا ۔سردی خاصی بڑھ چکی تھی اور میں اپنے کمرے میں صوفے پر نیم دراز اخبار پڑھ رہا تھا سہ پہر چار بجے کے قریب فون کی گھنٹی بجی ۔دوسری طرف سے میرا ایک ساتھی بول رہا تھا خوشی سے اس کے منہ سے بات نہیں نکل رہی تھی اس نے کہا …
صاحب ڈاک مل گئی ہے اور سب کام ہو گیا ہے۔
اس کی آواز سے ہی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ یشونت نے معرکہ سر کرلیا ہے میں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ وہ فورا گھر چلا جائے میں وہیں پہنچ رہا ہوں۔
خوشی کے مارے میرا بھی برا حال تھا میں نے جلدی جلدی کپڑے تبدیل کیے اور ٹیکسی لے کر ساتھیوں کے گھر کی طرف روانہ ہوا سارا رستہ میں یہی سوچتا رہا کہ خدائے ذوالجلال والاکرام کے کرم سے ہمارے رستے خود بخود کھلتے جارہے ہیں اور مشکل سے مشکل کام اللہ پاک نے ہمارے لیے آسان کردیا ہے اور اتنی بڑی کامیابی ملنے کی وجہ محض اس ذ ا ت کریم کارحم وفضل ہے۔
ساتھیوں کے گھر پہنچا تو انہوں نے دروازہ بند کر کے تھیلا میرے سامنے الٹ دیا میرے سامنے فرش پر تارا پور کے ایٹمی بجلی گھر اور ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے متعلق 2فائلیں چار عدد ڈائریا ں جن کے کور پر سرخ پٹی اور چار ستارے بنے ہوئے تھے اور ایک علیحدہ پیکٹ میں سے نکالے ہوئے کاغذات اور نقشہ اور معمول کی ڈاک کے پیکٹ پڑے تھے۔



انتہائی اہم معلومات کا خزانہ اس وقت میرے قدموں میں پڑا تھا ۔یہ سب رب العزت کا کرم تھا کہ اتنے مختصر وقت میں اتنی کم محنت اور جدوجہد کے عوض بغیر کوئی جانی نقصان اٹھائے ہمیں اتنی بڑی کامیابی نصیب ہوئی تھی ۔ہم پانچوں ساتھیوں میں کوئی بھی پیشہ ور جاسوس یا اس کام کا سابقہ تجربہ رکھنے والا نہ تھا اور ہم دشمن ملک کے دفاعی مرکز میں سیکیورٹی کے مضبوط اور مربوط نظام کو توڑ کر نہ صرف انتہائی اہم دفاعی راز بلکہ دشمن کا جنگی پلان بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے ۔ہم نے سب سے پہلے بارگاہ رب العزت میں شکرانے کے نفل ادا کیے اور پھر اس خزانے کی تفصیلی جان پڑتال شروع کردی۔
تارا پور کے ایٹمی پلانٹ کی فائلوں میں تاریخ وار Enriched یورینیم کے پلانٹ سے ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو جانے والے ر یڈیو ایکٹیویٹی سے محفوظ ٹرکوں کی روانگی، منزل پر پہنچنے کی تفصیل اور دوران سفر سیکیورٹی کے انتظامات کی تفصیل درج تھی ۔دوران سفر ایک بار ایک ٹرک کو بارش کی وجہ سے پھسلنے اور الٹ جانے اور اس حادثے میں ٹرک ڈرائیور اور سکیورٹی کارڈ کمانڈو کے ہلاک ہونے پر تین زخمی ہونے والے گارڈز کے ریڈیو ایکٹیویٹی سے متاثر ہونے کے علاوہ تاراپور پلانٹ کے چیف انجینئر اور ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سیفٹی انچارج کی آئندہ کے لیے احتیاطی تدابیر پر مبنی خط و کتابت بھی موجود تھی ۔ہر ٹرک میں لائے جانے والے افروزہ یورینیم کی سلاخوں کی تعداد وزن اور وصولی کی رسید بھی موجود تھی ۔ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے چیف کے لکھے ہوئے وہ خطوط بھی تھے جن میں کامیاب ٹرانسپورٹیشن اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کرنے پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا گیا تھا ۔اپنے تجربات کی کامیابی اور عنقریب بھارتی افواج کو ایک تحفہ دینے کی خوشخبری بھی سنائی گئی تھی۔


میں سمجھتا ہوں کہ ان فائلوں میں درج معلومات کے پاکستان پہنچنے پر پاکستانی سائنسدان بھارت کی ایٹمی ریسرچ میں ان کی کامیابیوں کی حدود متعین کرنے میں ضرور کامیاب ہوسکتے تھے ۔پاکستان واپسی پر مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہوا کہ راجھستان میں بھارتی ایٹمی دھماکے کا پاکستان کی Top Brass کو  8 مہینے پہلے ہی علم ہو چکا تھا راجستان میں بھارتی افواج کی نقل و حرکت خاصے بڑے علاقے کو ممنوعہ زون بنانے ،آبادی کے انخلا اور سرنگوں کی خدائی کے علاوہ ہماری بھیجی گئی فائلوں میں درج ٹاٹا ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھیجے گئے افروزہ یورینیم کے وزن سے ہمارے سائنس دانوں نے متوقع بھارتی ایٹمی دھماکے حجم اور طاقت کا صحیح اندازہ لگا لیا تھا اور ایک مفصل رپورٹ پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو بھی بھیج دی گئی تھی۔
حکومت پاکستان نے یو این او امریکی صدر اور مسلم ممالک کے سربراہوں کو بھی اس رپورٹ کی کاپیاں بھیجی تھیں پاکستانی پریس میں بھی بھارتی متوقع ایٹمی دھماکوں کے اس انداز میں کالم اور خبریں شائع ہوئی تھیں کہ پاکستانی قوم کے دلوں میں اچانک بھارتی دھماکے کی دہشت پیدا نہ ہونے پائے ۔اس طرح بھارت کا اچانک دھماکہ کرکے پاکستانی قوم میں خوف اور دہشت پیدا کرنے کا پلان بالکل ناکام ہوگیا اور اس پلان کی ناکامی میں ہماری بھیجی ہوئی معلومات کا بھی خاصا بڑا عمل دخل تھا۔
بھارتی جنرلوں کی چار ٹاپ سیکرٹ ڈائریا ں میں بار بار دیکھتا رہا ۔ان ڈائریوں میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی افواج کی نقل و حرکت سے متعلقہ احکامات کے علاوہ چھ نئے ڈویژن جن میں پانچ انفینٹری اور ایک آرمڈ ڈویژن شامل تھا کے متعلق مکمل معلومات تھی ۔جن کے مطابق انفینٹری ڈویژن میں ہر ایک چوتھائی پرانے ڈویژن کی نفری شامل کرنے پر اتنی ہی تعداد میں نئے ڈویژنز کی نفری پرانے ڈویژنز میں کھپا نے کے احکامات تھے ۔اس کے علاوہ ایک نیا پہاڑی ڈویژن بنانے کے احکامات بھی تھے جس سے جدید ترین روسی اسلحہ اور ہلکی تو پخا نے سے مسلح کرنا تھا ۔یہ ڈویژن یقینی طور پر کشمیری عوام کی سرکوبی کے لئے تیار کیا جارہا تھا جو سقو ط ڈھاکہ کے بعد اپنی آزادی کے خواب سے بھی محروم ہوچکے تھے ۔ایک خط جنرل نے لیپا سیکٹر کے بریگیڈ کمانڈر کو لکھا تھا جس میں وادی لیپا پر قبضہ برقرار رکھنے کی سختی سے ہدایت کی گئی تھی ۔سقوط ڈھاکہ سے پہلے وادی لیپا پاکستان کے زیرقبضہ تھی سیزفائر لائن کو شملہ معاہدے کے وقت کنٹرول لائن کا نام دیا گیا اندرا گاندھی نے سیزفائر لائن کو سیدھا کرنے کے بہانے وادی لیپا کو بھی مقبوضہ کشمیر میں شامل کر لیا تھا اس وقت تھا حکومت پاکستان کو مجبورا یہ بھارتی فیصلہ منظور کرنا پڑا کیونکہ اس جنگ کے دوران بھارت نے مغربی پاکستان کا بھی کچھ سرحدی علاقہ اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔ہمارے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے اور بھارت ان حالات میں پاکستان سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کی پوزیشن میں تھا ۔پاکستان کو اپنے قیدی واپس لینے اور بھارت کے زیر قبضہ زمین واپس لینے کے لیے یہ فیصلہ منظور کرنا پڑا۔

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں