گورنر ہاؤس کی گاڑیاں نہ تو رجسٹرڈ ہیں نہ ہی ٹیکس ادا کرتی ہیں صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کا سندھ اسمبلی میں انکشاف

وزیراعظم بننے سے پہلے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے عوام کو ریاست مدینہ کی باتیں بتاکر ان کے دل جیتے اب عوام انتظار کر رہے ہیں کہ ریاست مدینہ کی جھلک کب کہاں اور کیسے نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔
اللہ کرے عمران خان نے جو باتیں کی تھیں وہ سچ ثابت ہو ان کے دعوے حقیقت کا روپ دھاریں لیکن سچ یہ ہے ابھی تک دور دور ریاست مدینہ کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔

سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے سندھ اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ گورنر ہاؤس کی گاڑیاں نا تو رجسٹرڈ ہیں نہ ہی ٹیکس ادا کرتی ہیں گویا ریاست مدینہ میں گورنر ہاؤس بھی ٹیکس چور نکلا
۔۔۔

صوبائی وزیر ایکسائز کے بیان کے بعد صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ وزیر ایکسائز بامقابلہ گورنر ہاوس سندھ ۔۔۔۔اور فوری طور پر گورنر ہاؤس سے کوئی جواب بھی نہیں آیا ورنہ تو پی ٹی آئی کے لوگ ٹویٹ کرنے کے ماہر ہیں ۔

وزیر ایکسائز کا کہنا ہے کہ سندھ ہمارا ہے جہاں چاہیں گے آئینگے جائیں گے ۔۔۔سندھ کی سڑکوں پر گیارہ ہزار سرکاری گاڑیاں دوڑ رہی ہیں سب رجسٹرڈ ہیں اور ٹیکس ادا کرتی ہیں ماسوائے گورنر ہاوس کی گاڑیوں کے ۔۔۔۔۔۔جو نہ تو ٹیکس دیتی ہیں نہ ہی رجسٹر ہیں ۔۔۔۔

سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر ایکسائز کی جانب سے ارکان اسمبلی کے سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سندھ کے پاس 25 ہزار گاڑیاں ہیں لیکن تیرہ ہزار سے زیادہ گاڑیاں ناکارہ اور ناقابل استعمال ہو چکی ہیں صرف 12 ہزار گاڑیاں چل رہی ہیں ۔۔۔

صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر چھ کروڑ 64 لاکھ 20ہزار 653 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں 43 لاکھ 51 ہزار 941 موٹرسائیکلیں ہیں 14 لاکھ پرائیویٹ گاڑیاں اور پانچ لاکھ 82 ہزار کمرشل گاڑیاں ہیں ۔

2017 18 کے مالی سال میں 6702 ملین روپے موٹر وہیکل ٹیکس کا ہدف رکھا گیا تھا جبکہ محکمہ ایکسائز سندھ نے 7021ملین روپے ٹیکس جمع کیا اس لئے رواں مالی سال کے لئے 7713ملین روپے کا ٹیکس ہدف رکھا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں