وزیر اعظم نے ایک سو باسٹھ ارب روپے کراچی کے لئے اعلان کیا تھے، لیکن پورے سندھ کو صرف دس ارب روپے دئیے گئے، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب

کراچی- مشیر اطلاعات، قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ کراچی کے اسٹیک ہولڈر ہم ہیں وزیر اعظم نے ایک سو باسٹھ ارب روپے کراچی کے لئے اعلان کیاتھا لیکن پورے سندھ کو صرف دس ارب روپے دئیے گئے ہم سوال کر رہے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آئے گا کراچی میں اسکیموں کے لئے پونے دو ارب روپے مختص ہیں جبکہ وعدہ 162 ارب روپے کا تھا ہمیں افسوس ہے کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کرنے سے ہم اعتماد میں نہیں لیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناح این آئی سی وی ڈی اور ایل ای سی ایچ کے معاملات وفاق چلانے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے لیکن ابھی تک ہمیں کوئی آفیشل لیٹر موصول نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ جب تک صوبائی حکومت کے ماتحت یہ اسپتال چلیں گے سندھ حکومت کو مالیاتی مشکلات کا سامنا رہے گا ان تینوں اسپتالوں میں صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے پاکستان سے آنے والے لوگوں کا علاج ہوتا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ جی پی ایم سی کا موازنہ کیا جائے تو کافی بہتری اس میں کافی بہتری آئی ہے این آئی سی وی ڈی کا بجٹ 65ارب سے 102 ارب روپے کر دیا گیا ہے صرف کراچی نہیں بلکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں این آئی سی وی ڈی قائم ہیںاور این آئی سی ایچ کے سیٹلایٹ سینٹر بھی سندھ کے دیگر اضلاع میں قایم کرناتھا۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیراعظم نے سندھ کی عوام سے بالخصوص کراچی کی عوام سے جو وعدے کئے تھے کیا انھیں بھلا دیا گیا ہے ؟پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت حکومت کے تمام وعدے کرتی ہے پی ایس ڈی پی میں 302 نئی اسکیمیں منظوری کی جا رہی ہیں جن میں 19 کا تعلق سندھ سے ہے اور پی ایس ڈی پی آئی میں 675 ارب وفاقی حکومت مختص کرنے جا رہی ہے جس میں سے سندھ میں 37 ارب روپے ڈیولپمنٹ کے لئے مختص کئے جارہے ہیں۔پی ایس ڈی پی میں حیدرآباد یونیورسٹی کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت وفاق کو خط لکھے گا کہ مالی وسائل نہیں دیے گئے درخواست زیر سماعت ہے سندھ حکومت کی جانب سے وفاق کو پیغام چلا جائے گا کہ عوامی ایشو پرسیاست نہ کی جائے وزیر اعظم کہہ دےں کہ میں کراچی میں چندا مانگنے آیا ہوں میں کراچی والوں کو کچھ نہیں دونگا بلکہ لوں گاکیا وہ جماعتیں جو پی ٹی آئی سے ملی ہوئی ہے وہ سوال کریں گی کہ پی ایس ڈی پی میں پانچ فیصد حصہ کیوں رکھا عوام کو سوال کرنا چاہیے کہ کب تک حقوق کی پامالی ہو تی رہے گی انہوں نے کہا کہ کل میڈیا کے ذریعے وفاق کے اسپتالوں کا پتہ چلا کہ اس نوٹیفیکیشن میں تین ہسپتالوں کا انتظامی نظام سنبھالنے کا کہا گیا لیکن تین بجے تک کوئی آفیشل لیٹر نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا جوازتو بتایا جاتا فیصلے کے لوازمات وفاق نے پورے نہیں کیے اور پانچ ماہ میں وفاق میں کوئی رابطہ اور عمل پر بات نہیں کی ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر درخواست داخل کی ہے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہمیں امید تھی جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا انہیں صوبے کے پاس چلتے رہنے دیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ مالی مشکلات کا شکار تھا مگر ہم نے مالی مدد جاری رکھی اس مالی مدد کا تسلسل صرف اس لیے تھا کہ یہ صرف مخصوص نہیں بلکہ ملک کے تمام لوگوں کو فائدہ ہو رہا تھا جناح این آئی سی وی ڈی کا پاکستان کی کسی نجی اسپتال سے موازنہ نہیں تھا پہلے 70کروڑ وفاق کے پاس خرچہ تھا ہم نے بارہ ارب کیا اور سیٹلائٹ سینٹر سمیت مٹھی اور سکھر میں بنائے اسی طرح این آئی سی ایچ کے سیٹلائٹ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا۔


مشیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کو بڑی عزت ملی آج یہ سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ کہا جاتا ہے کہ ہم کراچی کی ترجمانی کریں گے کب تک کراچی کے ساتھ مزاق کیا جائے گا انہوں نے مزید کہا کہ آج ایم کیو ایم اور جی ڈی اے والے وزیراعظم سوال کریں گے کہ کراچی کو صرف پونے دو ارب روپے دئیے گئے پیپلزپارٹی فیڈریشن کا دعویٰ کرتی ہے اس پر عمل بھی کرتی ہے عوام کے حقوق کی کب تک پامالی کریں گے اور یہ کب تک جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی دلچسپی عوام اور تاجروں کے چندے سے ہے وزیراعظم نے الیکشن کے آخری تقرےر میں جو وعدے کئے ان پر بھی عمل کریں خان صاحب نے کبھی ڈیڑھ سو رنز نہیں بنائے تھے مگر ڈالر اس حد کو عبور کر گیا ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ دھماکے اور شہادتوں کی مذمت اور شہدا کی مغفرت کے لیے دعا کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ دعا ہے کہ ملک کو دہشتگردی کی مصیبت سے نجات ملے اور پاکستان ایک پر امن ملک ہو۔