بلاول اور مریم کے بارے میں وزیراعظم اور اداروں کی رائے مختلف ہے ۔ سینئر صحافی آغا خالد کا سیاسی تجزیہ

کراچی(تجزیہ: آغاخالد) کہا جاتا ہے کہ نیب کی کارکردگی کے حوالے سے وزیراعظم اور اداروں کی رائے مختلف ہے وزیر اعظم ہرصورت محترمہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو بھی ریفرنس میں نامزد کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں انہیں کچھ ریٹائرڈ افسران کی سرپرستی بھی حاصل ہے انہیں شہباز شریف اور سلیمان شہباز کی بیرون ملک روانگی اور آصف زرداری ، فریال تالپور ، حمزہ شہباز کی ضمانتوں پر بھی تشویش ہے وہ نیب کے کمزور ریفرنسز کو کسی سازش کی تھیوری سے تشبیہ دیتے ہیں ان کے قریبی ذرائع اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ نواز شریف کی ایک ریفرنس میں رہائی اور ضمانت جبکہ پی ٹی آئی کے کچھ وزراء کے خلاف تحقیقات پر بھی ناراض ہیں یہی وجہ چیئرمین نیب پر دبائوبڑھانے اوران کے خلاف سازشی تھیوری کے پہلے مرحلہ میں ایڈیشنل چیئرمین کی تقرری ہے جو وزیر اعظم کے قریبی دوست اور احتساب کے ان کے تصور کے قریب سمجھے جاتے ہیں حسین اصغر یوں تو پولیس گریڈ کےسینئراور پاگل پن کی حد تک ایماندار افسر سمجھے جاتے ہیں مگر وہ ملک کے ان چند بوڑھے افسران کی صف اول کے رکن ہیں جو ہماری نئی نسل کی طرح وزیر اعظم کے 2016 کےخوش کن نعروں اور احتسابی بیانیہ سے متاثر ہوکر ان کے وژن کے عملی طور پر قریب ہوگئے واضع رہے کہ یہ وہی حسین اصغر ہیں جنہیں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کے خلاف پنجاب میں اوقاف کی زمین ایک درگاہ کو الاٹ کرنے کی 30 سال پرانی انکوائری کو کھود کر نکالااور حیرت انگیز طور پر انہیں کی سربراہی میں کمیشن بنادیا اور اس کمیشن نے نواز شریف کے براہ راست احکامات نہ ہونے کے باوجود انہیں ملزم بھی قرار دیدیا اور جیل کی کال کوٹھڑی میں بٹھاکر سابق وزیر اعظم سے تفتیش بھی کروادی اب اسی شخصیت کو ایڈیشنل چیئرمین لگانے پر حزب اختلاف کی جماعتوں میں تشویش ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ چیئرمین نیب کے خلاف سیکس اسکینڈل نیوز ون چینل پر ہمارےپرانے دوست اور منجھے ہوئے صحافی حافظ طارق محمود کے ذریعے چلادیا گیا مگر شاید ایسا کرنے والی شخصیات مخمصے میں یہ بھول بیٹھیں کہ وقت اورشخصیت کا تعین درست نہیں؟
جس کی وجہ سے حمایتیوں نے بھی نہ صرف اس بھونڈی مگرخطرناک اسٹوری پر ناک بھوں چڑھائیں بلکہ ان دیکھے انداز میں ٹی وی ون اسلام آباد آفس کا گھیرائو کرلیا اور پھر اسٹوری واپس لینے معذرت کرنے اور سو مرتبہ اٹھک بیٹھک کرنے کے و عدے پر گلو خلاصی ہوئی؟


اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا یہ عمل کیا رنگ دکھاتا ہے یہ تو اگلے چند ہفتوں یا مہینوں میں سامنے آجائے گا مگر چینل کے اس عمل سے اس کی شہرت کو چار چاند لگ گئے، چیئر میں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ اور مزید کمزور ہوگئے ، ان پر احسان کرنے والوں کا اثر اور بڑھ گیا ، اور سب سے دلچسپ بات جو بہت سوں کے بھلے کی ہوگئی وہ یہ ہےکہ انتہائی ایماندار کردار رکھنے اور اعلی عدالتی عہدوں سے سرخ رو ہوکر ریٹائیر ہونے والے چیئرمیں کی ایک انسانی یا مردانہ کمزوری بہت سوں کے ہاتھ لگ گئی اربوں کی پیشکشیں جٹھلانے کا دعوا کرنے والے قابل احترام جاوید اقبال کے کاندھوں پر کسی نور جہاں کے ہاتھ سے فیصلوں میں لرزش کے گمان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ان سب خدشات اور انکشافات میں دھندلائی اسکرین پر یہ بہت واضع لکھا ہے کہ چیئر میں کے خلاف اسکینڈل محض ان کی کسی پرانی دوست کو کچھ رقم یا لالچ دے کر تیار نہیں کیا گیا اس میں ان کے اندر کے لوگ اور حکومت وقت کے وسائل کا استعمال اور کاریگری شامل ہے کیونکہ 40 سالہ رپورٹنگ کا تجربہ گواہ ہے کہ جب بھی نیب کے کسی علاقائی افسر سے ملنے جائو تو امریکی ایئر پورٹس پر ہونے والی بدنام زمانہ تلاشی کو بھی مات دینے والی کاروائی سے گزر کر بندہ جب اندر داخل ہوتا ہے تو اس کی انا ریزہ ریزہ ہونے کے ساتھ موبائل، پین، چابیوں تک سے محروم ہوچکا ہوتا ہے،
ایسے میں وہ ادارہ چیئر مین جیسی شخصیت سے ملنے آنے والی ایک مشکوک کردار کی خاتوں سے صرف نظر کرے یہ ذہن قبول نہیں کررہا ویڈیو سے صاف اندازہ ہورہا ہے کہ خاتون کے پرس ، انگوٹھی یا لیڈیز کڑے میں کیمرہ بڑی کاریگری سے نصب کیا گیا تھا اور خاتون کو اس کی ریہرسل کرائی گئی تھی کہ کیمرہ کیسے فوکس کرنا ہے اور پھر کئی بار اس کی سمت تبدیل کی گئی خصوصاً جب جاوید اقبال اپنی نشست سے اٹھ کر خاتون کی قربت حاصل کرتے ہیں تو…
اب اہم اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس پوری شرمناک کارروائی کا فائدہ اور نقصان کس کو ہوا…؟؟
ظاہر ہے نقصان واضع، کسی دلیل یا بحث کے بغیر جسٹس جاوید اقبال کا ہوا۔


مگراس کےثمرات کون سمیٹے گا یہ بحث طلب نکتہ ہے یہاں ہم سینیٹر مشاہد حسین کے اس خدشے کو سامنے لاتے ہیں کہ حکومت جسٹس جاوید اقبال کی کار کردگی اور کارروائیوں سے مطمئن نہیں اورنیب قوانین کے مطابق وہ اسے ہٹا بھی نہیں سکتی تاآنکہ وہ خود استعفیٰ نہ دیدیں یا معیاد ملازمت پرریٹائر نہ ہوجائیں اس لئے وہ آخری حربہ کے تحت دباوٗ بڑھا کر انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتی ہے جس کا حال ہی میں کامیاب تجرنہ گورنر اسٹیٹ بینک باجوا کو ہٹا کر کیا گیا جبکہ حکومت کو انہیں ہٹانے کا اختیار نہ تھا اس لئے حکومت مخالف پارٹیاں جو خود بھی چیئر میں کی کار کرکردگی سے مطئین نہیں سمجھتی ہیں کہ جسٹس جاوید اقبال کے خلاف یہ اسکینڈل ان پر دباوٗ بڑھانے کے منصوبے کی دوسری اینٹ ہے پہلی ان کے گھر سے فائلوں کی چوری تھی اب اگلے مرحلے میں انہیں اس قدر زچ کیا یا کروایا جائےگا کہ وہ خود استعفیٰ دینے ہی میں اپنی عافیت سمجھیں گے چہ جائیکہ آدھادرجن حکومتی ترجمان اورو فاقی وزیر فیصل ووڈا اس کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان کے وزراء کی گرفتاری پر اعتراض نہ ہوا بلکہ وزیر اعظم نے ان سے استعفیٰ لے لیا تو پھر حزب اختلاف کے اس الزام میں کیاحقیقت ہوسکتی ہے تاہم وزیراعظم کے نظریاتی دوست حسین اصغر کی اچانک اور غیر ضروری تعیناتی سے حزب اختلاف کے خدشات کو تقویت ملتی ہے اور اب چیئرمین کے خلاف شرمناک : سیکس اسکینڈل: کے بعد اس تھیوری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اصل احتساب چیئرمین کے استعفیٰ سے مشروط اور چونکہ وزیر اعظم قائد حزب اختلاف کی رضامندی کے بغیر چیئر مین نیب نہیں لگاسکتے اس لئے وہ لگائیں گے بھی نہیں جیساکہ الیکشن کمیشن کے دومبران کی معیاد پوری ہونے کے باوجود تاآنکہ نہیں لگائے گئےاور چیئر مین نیب کے استعفیٰ کے بعد حسین اصغر ہی وہ احتساب وہ جھرلو پھیریں جو حکومت کو پسند ہے؟؟؟؟؟