بھارت میں جاسوسی کرنے والے پاکستانی سرفروش کی سچی داستان … غازی … قسط نمبر 11

تارا پور کی فائلیں اور شمی کے حسن کا جلوہ
یشونت مقررہ وقت پر ریسٹورنٹ تو پہنچ گیا لیکن اس کی حالت ناگفتہ بات تھی اس کا چہرہ اس کی مایوسی اور ناکامی کے اثرات سے بالکل بجھ سا گیا تھا ۔اس نے بتایا کہ جنرل کچھ روز سے دفتر نہیں آ رہا اور اس نے ایک ہفتے کی چھٹی لے رکھی ہے جس میں سے چار دن گزر چکے ہیں اور چھٹی سے پہلے کے دو دنوں میں نہ تو جنرل نے اسے طلب کیا اور نہ ہی موقع مل سکا کہ جرنل کے کمرے میں داخل ہو سکے وہ جب بھی جرنل کے کمرے کی طرف گیا وہ میٹنگ ہورہی تھی ۔یشونت اپنی ناکامی سے حد درجہ مایوس تھا کہنے لگا کہ اب شمی کا حصول ناممکن ہوگیا ہے ۔میں نے اس کی دسترس بندھائی اور کہا کہ جنرل کی چھٹی ختم ہو جائے تو پھر موقع مل جائے گا وہ کہنے لگا موقع تو یقینا مل جائے گا لیکن بے فائدہ ہوگا ۔شمی کی ماں کی دی ہوئی مہلت تو کل ختم ہو رہی ہے۔
یہ ایسا وقت تھا کہ مجھے یشو نت کو جو اپنی ہمت تقریباً ہار چکا تھا پھر سے تر و تازہ کرنا تھا ۔میں نے اسے کہا کہ وہ دل چھوٹا نہ کرے شمی یقینا اسے ہی ملے گی اس وقت شام کے سات بج رہے تھے میں نے ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ وہ گھر جاکر تازہ دم ہو اور ٹھیک نو بجے شمی کے بالا خانے پر اسے ملوں گا اور شمی کی ماں کو مزید مہلت دینے پر راضی کرنے کی کوشش کروں گا ۔یشونت اور میں ریسٹورنٹ سے تقریبا ایک ساتھ باہر نکلے وہ اپنے گھر کی طرف چلا اور میں ٹیکسی لے کر شمی کے بالا خانے پر پہنچ گیا ۔دراصل میں محفل جمنے سے پہلے ہیں شمی کی ماں کو بریف کر دینا چاہتا تھا محفل سجانے کے سامان ہو رہے تھے ۔میں نے شمی کی ماں سے علیحدگی میں بات کی کہ آج یشو نت اور میں رات 9 بجے اکٹھے تمہارے یہاں آئیں گے ۔اس کے مزید مہلت مانگنے پر پہلے تو تم انکار کر دینا اور میرے بہت اصرار کرنے اور یشو نت کے لئے میرے پانچ ہزار پیشگی دینے پر اسے مزید دس یوم کی مہلت دے دینا ۔یہ باتیں سمجھآ کر میں واپس اپنے ہوٹل چلا آیا اور نو بجے تک تیار ہو کر اور پیسے لے کر پھر چاوڑی بازار میں شامی کے بالا خانے کے قریب پہنچ گیا۔


یشونت وہاں پان کی دکان پر کھڑا تھا کہنے لگا ؛ میں تو ساڑھے آٹھ بجے ہیں یہاں پہنچ گیا تھا اور پان کی دکان پر ہیں دوکاندار سے گلاس اور سوڈا لے کر اپنا موڈ بنا رہا ہوں ؛ ۔ہم دونوں شمی کے بالا خانے میں اکٹھے داخل ہوئے ۔محفل شروع ہو چکی تھی ۔میں نے شمی کی ماں کو اشارے سے پچھلے کمرے میں آنے کا کہا وہ کمرے میں گئی اور ساتھ ہی ہم بھی کمرے میں چلے گئے ۔میں نے یشونت سے کہا کہ جو کچھ کہنا ہے جلدی جلدی کہہ ڈالو ۔یشو نت نے مزید مہلت مانگی تو شمی کی ماں نے صاف انکار کردیا کہنے لگی ۔صاحبو ہم تو کھلی کتاب ہیں اس بازار میں ہر طرف شمی شمی ہو رہی ہے ایک سے بڑھ کر ایک بولی لگانے کو تیار ہے اور ادھر آپ ہیں کہ دوسری بار مہلت مانگ رہے ہیں ۔شمی کو حاصل کرنا تو ایک طرف رہا اس کے خواب دیکھنے کے لیے بھی جیب بھر ی ہونی چاہیے ۔یہ تو محض یشونت بابو کے پرانے گاہک ہونے کی وجہ سے انہیں بتا دیا ورنہ انہیں تو دوسروں کی طرح شادی کا دعوت نامہ ہی ملتا ۔اب میں بہت جلد شمی کی یہ رسم ادا کر دوں گی گاہک تو پہلے ہی میرے اشارے کے منتظر ہیں ۔یشونت نے کئی بار گڑگڑا کر مزید مہلت مانگی لیکن وہ پرا نی گھاگ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
میں نے جب یہ محسوس کیا کہ یشونت بالکل ہی مایوس ہو چلا ہے تو شمی کی ماں سے کہا… آپ یہ نہ سمجھیں کہ یشو نت بابو کے پاس پیسے نہیں انہوں نے روپے کہیں لگا رکھے ہیں جن کی وصولی میں دیر ہو گئی ہے اور اب محض چند روز کی بات ہے آپ اپنی رسم کی تیاری کریں یہ کہتے ہوئے میں نے پانچ ہزار روپے شمی کی ماں کو دیے یہ 5000 پیشگی ہیں۔آپ آج سے دسویں روز رسم کی ادائیگی رکھیں ۔اس سے پہلے ہی آپ کو بقیہ رقم مل جائے گی ۔بڑھیا نے پانچ ہزار تو فورن دبوچ لیے اور بولی بقیہ 30 ہزار توشمی کے ہوئے اور رسم کی ادائیگی یونہی نہیں ہوتی ۔اس بازار کے بالا خانے والوں کی دعوت ہوتی ہے ہم اپنے سب گاہکوں کو بھی دعوت دیتے ہیں رات گئے تک بازار کی سب لڑکیاں مجرہ کرتی ہیں شمی کے لیے جوڑ ا بھی سلوانا ہے اور یشونت بابو کو شمی کی منہ دکھائی کے لیے بارہ تولے کا سیٹ بھی دینا ہوگا اور یہ سب سے خراجات یشونت بابو کو دینے ہوں گے ۔میرے پوچھنے پر شمی کی ماں نے بتایا کہ کل دس ہزار روپے مزید خرچ ہوں گے میں نے کہا کہ وہ بھی تیس ہزار کے ہمراہ آپ کو مل جائیں گے آپ تیاری کریں سب باتیں طے کر کے ہم کمرے سے باہر حال میں آ گئے ۔محفل نبی پوری طرح جمی نہیں تھی یشونت خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا شمی کی ماں نے مجھے بیٹھنے کے لیے بہت زور دیا لیکن میں نے ضروری کام کا بہانہ کرکے معذرت کرلی جبکہ یشونت خود کو ابھی سے آدھا دولہا سمجھتے ہوئے بڑی شان سے محفل میں بیٹھ گیا ۔اس کی جیب میں میرے دئے ہوئے ایک ہزار روپے کلبلا رہے تھے میں نے یشونت سے چلتے چلتے یہ کہا کہ کل شام سات بجے مجھے گولچا کے ریسٹورنٹ میں ضرور ملے۔
اگلے روز شام کو یشونت گولچہ سینما کے قریب ہی مجھے نظر آیا میں نے اسے ریسٹورنٹ جانے کا اشارہ کیا اور چند منٹوں کے بعد میں ریسٹورنٹ میں اس کی ٹیبل پر جا بیٹھا ۔میرے دو ساتھی حسب معمول ہماری نگرانی کر رہے تھے۔
یشونت نے میرے بولنے سے پہلے ہی میرا بہت شکریہ ادا کیا کہ گزشتہ رات میں نے اس کے خوابوں کو بکھرنے سے بچا لیا وہ جب چپ ہوا تو میں نے کہا یشونت بابو میرے بس میں جو کچھ تھا میں نے کردیا اب آگے آپ کی ہمت ہے 5000 میں نے شمی کی ماں کو دیے ہیں اور اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا اب آپ کو بہر صورت وہ فائلیں لانی ہوگی شمی کی ماں نے د س ہزار مزید رسم کی ادائیگی کے لیے مانگ رکھے ہیں میں وہ بھی ادا کروں گا لیکن اس کے لیے آپ کو مزید تھوڑا سا کام کرنا ہوگا جنرل کی سیف میں صرف یہ د و فائیلیں ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی اہم فائلیں ہوں گی ۔جرنل کی آفیشل ڈائری بھی اسی سیف میں ہوگی آپ تاراپور کی دو فائلوں کے ساتھ دوسری اہم فائلیں بھی مجھے لا کر دیں گے کیونکہ فائلوں میں محفوظ کاغذات آپ ہی ٹائپ کرتے ہیں اس جنرل سے پہلے یہاں جو جنرل تعینات تھے ان کی آفیشل ڈائری بھی اسی سیف میں ہوگی کیونکہ ایسی ڈائریاں تبادلہ کے وقت جنرل ہمر ا ہ نہیں لے جاتے بلکہ آنے والے جنرل کی رہنمائی کے لئے ان کو وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔آپ موجودہ جرنل اور اس سے پہلے تعینات تین جرنیلوں کی ڈائریاں فائلوں کے ہمراہ ضرور لائیں ۔یشو نت میری باتیں غور سے سن رہا تھا میں نے سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا بابو آپ نے جس دشت میں قدم رکھا ہے وہاں ہر لمحے آپ کو پیسوں کی ضرورت پڑے گی شمی کو محض اپنا بنا کر رکھنے کے لیے آپ کو ہر ماہ ایک معقول رقم ا سے دینی ہوگی ۔آپ کو شمی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے بھی خاص روپوں کی ضرورت ہوگی آپ کو اس مد میں مالی ضروریات میں پوری کروں گا اور آپ کو ہماری ضروریات پوری کرنی ہوں گی ۔اگر آپ کا بھرپور تعاون مجھے ملتا رہا تو آپ کو مالی طور پر پریشانی ہرگز نہ ہوگی ۔میری ساری باتوں کے دوران وہ مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا میں حاموش ہوا تو چند لمحے خاموش رہا اور پھر نہایت سنبھل سنبھل کر بولا ۔صاحب مجھے آپ کے نام کا بھی علم نہیں نہ آپ نے بتایا اور نہ ہی میں نے پوچھنے کی ہمت کی لیکن شمی کے بالا خانے پر آپ سے اتفاق سے پہلی ملاقات سے اب تک جو حالات گزرے ہیں ان سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کس ملک کے لیے کام کر رہے ہیں آپ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے میں خود گلے تک دھنس چکا ہوں میری واپسی کی کوئی صورت نہیں اور آپ کے ساتھ تعاون میں ہی میری بقاء ہے میرے خلاف آپ کے پاس اتنے ثبوت ہیں کیا مجھے زندہ درگور کر سکتے ہیں اور پھانسی پر چڑھا وا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ میرے آدمی تمہیں گولی بھی مارسکتے ہیں… میں نے اس کی بات کاٹی۔


آپ نے بالکل درست کہا ۔میں آپ سے بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہوں میری اولاد میری دشمن ہے اور انہوں نے گھر میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ مجھے گھر سے ہی نفرت ہوگئی ہے ۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کسی ایسی جگہ چلا جاؤں یہاں مجھے کوئی نہ جانے ۔میری ساری زندگی دفتری کام میں ہی گزری ہے جمع پونجی کچھ بھی نہیں جس اولاد کے اوپر اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس لئے خرچ کیا کہ وہ بڑھاپے میں میری لاٹھی بنے گی وہی مجھے گھر سے نکالنے کی تدبیریں کر رہے ہیں ۔پہلے میرا کمرہ گھر میں سب سے کھلا اور ہوا دار تھا لیکن اب ایک کونے کی کوٹھڑی میں او ڑنا بچھونا ہے مجھے بتائے بغیر میرا ذاتی سامان اور ایک کھاٹ اس کوٹھڑی میں ڈال دی گئی ۔جوان بیٹے اور بیٹیاں ہونے کے باوجود اگر مجھے کچھ دیر ہو جائے تو میں خود ہی برتنوں سے ٹھنڈا کھانا نکال کر زہر مار کر لیتا ہوں میرے ملنے والوں اور دوستوں کو گھر آنے کی اجازت نہیں اپنے گھر میں ہی میں ایک اجنبی بن کر رہ گیا ہوں ان حالات سے گھبرا کر میں نے پہلے شراب اور پھر شمی کے بالا خانے پر اپنے غم بھلانے چاہے ۔عارضی یا مثنوی ہی سہی لیکن مجھے شراب ا و ر شمی نے سکون دیا لیکن اس سکون کے حصول میں روپے کی ضرورت ہے جو آپ پوری کر رہے ہیں آپ نے میرے تعاون کی بڑی معقول کی قیمت ادا کی ہے۔اور شمی کے معاملے میں آپ نے جس طرح سے میری مدد کی ہے اسے میں کبھی نہیں بھولوں گا آج میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں جرنل کی سیف کے اندر ایک ایسا خانہ بنا ہوا ہے جو ایک علیحدہ چابی سے کھلتا ہے ایک روز میں نے جنرل کو اس خانے میں ایک نقشہ جس پر مختلف رنگوں سے نشان اور لکیریں لگی ہوئی تھی اور چند کاغذات رکھتے ہوئے دیکھ لیا جنرل اسی وقت میٹنگ سے فارغ ہوا تھا جب مجھے ٹائپنگ کے لئے بلایا گیا میں نے جو کچھ ٹائپ کیا اس کی کاپیاں بنا کر پردان منتری نیول اور ائیر ہیڈ کوارٹرز میں بھیج دیں گی ٹائپ شدہ اصل کاغذ جنرل نے نقشے کے ساتھ ہی رکھوا دیئے تھے ٹائپ کرنے کی وجہ سے مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ پاکستان پر حملہ کرنے کا تفصیلی پلان تھا وہ نقشہ اور کاغذات اب بھی سیف میں محفوظ ہیں اور میں کوشش کروں گا کہ وہ بھی آپ کو لا دو ں ۔مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے اس کام کا بھی بہت معقول معاوضہ دیں گے… یشونت نے آج پہلی بار پاکستان سے میری وابستگی کا ذکر کیا تھا اور میں حیران تھا کہ آج سے پہلے اس نے یہ بات کیوں نہ کی حالانکہ بےتکلفی کے کئی ایسے موقع آئے تھے جب وہ یہ بات مجھ سے کر سکتا تھا شاید میری دھمکیوں ا و ر مسلح ساتھیوں کی گولیوں کے خوف سے اسے بولنے کی ہمت نہ ہوئی تھی آج آخر وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا ۔میں نے اسے کہا جیسے سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم دونوں نے اس معاملے پر کبھی پہلے بات نہیں کی آئندہ بھی نہ کریں تو بہتر ہوگا تمہیں صرف اتنا یقین دلاتا ہوں کہ مالی تعاون کے علاوہ میں تمہاری سیفٹی اور سیکیورٹی کا ذمہ لیتا ہوں ۔اگر تم کسی مصیبت میں پھنس گئے تو تمہیں بچانے کے لیے بے شک ہمیں درجنوں لوگوں کی زندگی لینی پڑی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جنگی نقشے اور متعلقہ کاغذات کا ہم تمہیں بہت معقول معاوضہ دیں گے بشرطیکہ ہمارے لئے کارآمد ہو ۔تھوڑی دیر مزید گفتگو کرنے کے بعد میں ریسٹورنٹ سے چلا آیا اب تک سب کام حسب منشا ہو رہا تھا اب صرف یشونت کی طرف سے کامیابی کی خبر کا انتظار تھا…

….جاری ہے۔

راوی . . .   ابو شجاع ابو وقار