بھارت میں پاکستان مخالف انتخابی مہم جیت گئی ۔مودی کی حکمت عملی اور پالیسیاں کامیاب

بھارتی انتخابات میں عوام نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی اور اتحادی جماعتوں کو واضح بھاری اکثریت د لا کر ثابت کردیا کہ بھارت کے نقطہ نظر سے مودی کی حکمت عملی اور پالیسیاں کامیاب رہی ہیں۔ کانگریس کو واضح مارجن کے ساتھ شکست ہوئی ہے راہول گاندھی بھارتی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کر سکے اور بی جے پی سے بہت پیچھے رہ گئے گئے۔ بھارت میں انتہا پسند اور جنونی ہندو ازم کی سوچ غالب آ گئی خصوصا پاکستان مخالف انتخابی مہم اور پاکستان مخالف انتخابی نعرے رنگ لے آئے۔


بھارت کے انتخابات میں پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول اور پلوامہ کے واقعے کے بعد پاکستان پر بھارت کے جوابی وار اور پاکستان میں مذہبی جہادی تنظیموں کے حوالے سے بی جے پی اور مودی کے بیانات اور تقریروں نے بھارتی ووٹروں کو بہت متاثر کیا اور انتخابی نتائج اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ بھارت میں پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول اور پاکستان مخالف نعروں کو کتنی اہمیت حاصل ہے مودی نے بھارت کے اس جذباتی پن کو بھرپور طریقے سے کیش کیا اور دوبارہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی۔
جبکہ گزشتہ برس پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں بھارت کا معاملہ کسی بھی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ نہیں تھا پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں مودی کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو بھارت میں ہونے والے انتخابات میں پاکستان کو حاصل رہی۔


انتخابات کے نتائج آنے کے ساتھ ساتھ سیاسی مبصرین کی بحث شروع ہو گئی ہے اور اس بات پر اندازہ کیا جا رہے ہیں کیا آنے والے دنوں میں مودی اور عمران خان کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے گا کیا دونوں پلوامہ کے واقعے کو پیچھے چھوڑ کر اپنے اپنے ملکوں کے عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے مل کر آگے بڑھنے کے لئے تیار ہو سکیں گے ۔کیا پاکستان کل بوشن یادیو کے معاملے کو اور ابھی نندن کے معاملے کو فراموش کرکے اور بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار قرار دینے والے نریندر مودی کے ساتھ پاکستان کے آنے والے دنوں میں بہتر تعلقات استوار کر لے گا ۔خود نریندر مودی کا وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے ساتھ رویہ کیا ہوگا ؟ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب خطے کی ترقی امن اور خوشحالی سے جڑا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں