ہندوؤں کے ہندوستان میں مودی سرکار دوبارہ آ گئی ہے تو مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی ایک مرتبہ پھر جیت گئے ہیں ۔بی جے پی نے بھارت کی انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت ہے جو مسلمانوں کے سخت خلاف ہے ہندوؤں کے ہندوستان میں مودی سرکار دوبارہ حکومت کرے گی تو مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا اس حوالے سے ابھی سے بحث شروع ہو گئی ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری نتائج کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کی نفرت آمیز انتہا پسندانہ پالیسیاں اور چالبازیاں بھارت کے جنونی ہندووٗں پر اپنا اثر دکھا رہی ہیں مودی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔


آنے والے دنوں میں ان مسلمانوں کو بہت مشکلات ہو سکتی ہیں جنہوں نے کھل کر مودی اور بی جے پی کی مخالفت کی یا انہوں نے مودی اور بی جے پی کا ساتھ دینے کی بجائے کسی اور جماعت کی حمایت کی ان مسلمانوں کے لیے بھی آسانیاں نہیں ہوں گی انہوں نے غیر جانبداری برتی ۔ہندوؤں کے ہندوستان میں بھی مودی اور بی جے پی کا اصولی ہی نظر آتا ہے جو امریکی صدر بش کا تھا۔ یا تو تم میرے ساتھ ہو یا میرے دشمن ہو۔
جن مسلمانوں نے مودی کی مخالفت کی یا مودی کا ساتھ نہیں دیا اب وہ کیا کریں گے؟ کانگریس اور راہول گاندھی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے یہی جمہوریت کی جیت ہے کہ ہر سننے والا اپنی ہار مان لے اور جیتنے والے کو مبارک باد دے جمہوریت کا یہ حسن بھی ہے کہ جیتنے والا ہارنے والے پر عرصہ حیات تنگ نہ کرے اسے جینے کا حق دے۔


دیکھنا یہ ہوگا کہ مودی سرکار اگلی مدت میں عوام کے بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنی حکومت میں کیا ایسے اقدامات کرتی ہے جو بھارت میں اس کے سیاسی مخالفین کو بھی اس کا گرویدہ بنا دے یا کم از کم دنیا میں بھارت کے انتہا پسند اور جنونی ہونے کے تاثر میں کچھ کمی لائی جا سکے یہ سب کچھ مودی سرکار کی پالیسیوں اور اقدامات پر منحصر ہو گا ۔سوال یہ اٹھے گا کہ مودی سرکار خطے کو امن کی طرف لے جانا چاہتی ہے یا خطے پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں